میاں افتخار الدین

ميان افتخار الدين

–

لاهور

پاکستانی سیاست دان و اخبار نویس (1907ء–1962ء) جن کا تعلق لاہور کے باغبانپورہ کے میاں خاندان، شالیمار باغ کے نگرانوں، سے تھا۔ پنجاب کانگریس کے صدر رہے، 1945ء میں مسلم لیگ میں شامل ہوئے، پنجاب کے وزیرِ بحالیاتِ مہاجرین بنے، اور پروگریسو پیپرز کے ذریعے ترقی پسند اخبارات پاکستان ٹائمز، امروز اور لیل و نہار جاری کیے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · صحافی · activist
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس محمود العقاد · محمد بن عبد الکریم ختابی · عبد الحي عارفي · عبد الحمید خان بھاشانی · عبد الماجد دریابادی

مکان میں

لاهور

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    میاں افتخار الدین (8 اپریل 1907ء – 6 جون 1962ء) لاہور کے پاکستانی سیاست دان و اخبار نویس تھے، جو بائیں بازو کی سیاست کے لیے معروف تھے: پنجاب کانگریس کے صدر جو 1945ء میں مسلم لیگ میں شامل ہوئے، اور پھر اخبار «پاکستان ٹائمز»، اردو روزنامہ «امروز» اور رسالہ «لیل و نہار» کے بانی۔1 انگریزی مضمون ان کی ولادت 8 اپریل 1907ء دیتا ہے؛ اردو مضمون کا متن سال 1908ء دیتا ہے، جو قراءت ان کے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔1

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ لاہور کے باغبانپورہ میں دولت مند آرائیں میاں خاندان — شالیمار باغ کے نگرانوں — میں پیدا ہوئے؛ ان کے عزیزوں میں سر میاں محمد شفیع اور سر میاں عبد الرشید شامل تھے۔2 انھوں نے ایچیسن کالج اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم پائی۔1

    کانگریس سے مسلم لیگ تک

    وہ 1936ء میں انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہوئے، 1937ء میں پنجاب صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، اور 1940ء–1945ء میں پنجاب کانگریس کے صدر رہے، جواہر لال نہرو کے قریب؛ 1937ء میں انھوں نے کشمیری رہنما شیخ عبد اللہ کا نہرو سے تعارف کرایا۔2 انھوں نے قرارداد لاہور کی مخالفت کی تھی، لیکن ستمبر 1945ء میں کانگریس سے مستعفی ہو کر مسلم لیگ میں شامل ہو گئے، 1946ء میں دوبارہ منتخب ہوئے، اور خضر حیات ٹوانہ کی یونینسٹ حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک کی قیادت کی۔1

    کشمیر، 1947ء

    کشمیر کے پہلے تنازع میں انھوں نے پاکستان کی کوششیں سری نگر تک پہنچائیں: اگست 1947ء میں لاہور میں سردار محمد ابراہیم سے ملے، مہاراجہ کے ارادوں کا جائزہ لینے سری نگر گئے، جنرل اکبر خان سے کشمیری مسلمانوں کی مدد کا منصوبہ بنانے کو کہا، اور 12 ستمبر 1947ء کو لیاقت علی خان کی زیر صدارت اجلاس میں شریک ہوئے جہاں کشمیر کے منصوبے منظور ہوئے۔2 شیخ عبد اللہ کو جناح کے پاس لانے سے انکار کے بعد انھوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ کشمیر ہاتھ سے گیا، اور اس کے بعد ان کا کوئی کردار نہ رہا۔2

    وزیر، منحرف، ناشر

    آزادی کے بعد وہ پنجاب مسلم لیگ کے پہلے صدر بنے اور کچھ عرصہ پنجاب کے وزیرِ بحالیاتِ مہاجرین رہے؛ 1949ء میں ان کی بنیادی زرعی اصلاحات کی تجویز نے ان کی اپنی جماعت کی جاگیردار قیادت کو برہم کر دیا، انھوں نے 1949ء میں وزارت سے استعفا دیا اور 1951ء میں لیگ سے نکال دیے گئے۔2 وہ دستور ساز اسمبلی کے واحد مسلم رکن تھے جنھوں نے قرارداد مقاصد کی عبارت کو مبہم کہہ کر مخالفت کی — البتہ اقلیتوں کو اسلامی ریاست میں مکمل حقوق کی یقین دہانی پر اس کے حق میں ووٹ دیا — اور بعد میں لبرل سیکولرازم کی علمبردار آزاد پاکستان پارٹی قائم کی۔2 کوئی ماخذ ان کا ذاتی مذہب یا مسلک نہیں بتاتا، اور ان کے ریکارڈ میں بھی کچھ درج نہیں۔3

    پروگریسو پیپرز کے ذریعے وہ «پاکستان ٹائمز» کے مالک تھے، جس کے پہلے مدیر فیض احمد فیض تھے اور جو سماجی انصاف و زرعی اصلاحات کی ترجمانی کرتا تھا؛ 1959ء میں ایوب خان کی فوجی حکومت نے اخبار ضبط کر لیا، اور ان کی قانونی چارہ جوئی سے نہ اخبار واپس ملا نہ معاوضہ۔1

    وفات

    6 جون 1962ء کو لاہور میں دل کے دورے سے ان کا انتقال ہوا، عمر 54 برس؛ ان کے دوست و رفیق فیض احمد فیض نے شعری خراج تحسین پیش کیا۔2

    حوالہ جات

    {1} {2} {4} {3}

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    لاهور
    Died in
    لاهور

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    مسجد بادشاهي· استيلاء الدز على لهاوور وقتله· عبد الرحمٰن چغتائی· عبد السلام· ابو الاعلیٰ مودودی· اعصام الحق قریشی· الطاف حسین حالی· امین احسن اصلاحی

    ماخذ

    1. Mian Iftikharuddin — Urdu Wikipedia
    2. Mian Iftikharuddin — English Wikipedia
    3. Mian Iftikharuddin — Wikidata Q6827541
    4. Mian Iftikharuddin — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “میاں افتخار الدین”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mian-iftikharuddin/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    مسجد بادشاهي

    A mosque in Lahore, dated to 1671 CE.