ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · صحافی · activist
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
میاں افتخار الدین (8 اپریل 1907ء – 6 جون 1962ء) لاہور کے پاکستانی سیاست دان و اخبار نویس تھے، جو بائیں بازو کی سیاست کے لیے معروف تھے: پنجاب کانگریس کے صدر جو 1945ء میں مسلم لیگ میں شامل ہوئے، اور پھر اخبار «پاکستان ٹائمز»، اردو روزنامہ «امروز» اور رسالہ «لیل و نہار» کے بانی۔1 انگریزی مضمون ان کی ولادت 8 اپریل 1907ء دیتا ہے؛ اردو مضمون کا متن سال 1908ء دیتا ہے، جو قراءت ان کے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔1
ابتدائی زندگی اور تعلیم
کانگریس سے مسلم لیگ تک
وہ 1936ء میں انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہوئے، 1937ء میں پنجاب صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، اور 1940ء–1945ء میں پنجاب کانگریس کے صدر رہے، جواہر لال نہرو کے قریب؛ 1937ء میں انھوں نے کشمیری رہنما شیخ عبد اللہ کا نہرو سے تعارف کرایا۔2 انھوں نے قرارداد لاہور کی مخالفت کی تھی، لیکن ستمبر 1945ء میں کانگریس سے مستعفی ہو کر مسلم لیگ میں شامل ہو گئے، 1946ء میں دوبارہ منتخب ہوئے، اور خضر حیات ٹوانہ کی یونینسٹ حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک کی قیادت کی۔1
کشمیر، 1947ء
کشمیر کے پہلے تنازع میں انھوں نے پاکستان کی کوششیں سری نگر تک پہنچائیں: اگست 1947ء میں لاہور میں سردار محمد ابراہیم سے ملے، مہاراجہ کے ارادوں کا جائزہ لینے سری نگر گئے، جنرل اکبر خان سے کشمیری مسلمانوں کی مدد کا منصوبہ بنانے کو کہا، اور 12 ستمبر 1947ء کو لیاقت علی خان کی زیر صدارت اجلاس میں شریک ہوئے جہاں کشمیر کے منصوبے منظور ہوئے۔2 شیخ عبد اللہ کو جناح کے پاس لانے سے انکار کے بعد انھوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ کشمیر ہاتھ سے گیا، اور اس کے بعد ان کا کوئی کردار نہ رہا۔2
وزیر، منحرف، ناشر
آزادی کے بعد وہ پنجاب مسلم لیگ کے پہلے صدر بنے اور کچھ عرصہ پنجاب کے وزیرِ بحالیاتِ مہاجرین رہے؛ 1949ء میں ان کی بنیادی زرعی اصلاحات کی تجویز نے ان کی اپنی جماعت کی جاگیردار قیادت کو برہم کر دیا، انھوں نے 1949ء میں وزارت سے استعفا دیا اور 1951ء میں لیگ سے نکال دیے گئے۔2 وہ دستور ساز اسمبلی کے واحد مسلم رکن تھے جنھوں نے قرارداد مقاصد کی عبارت کو مبہم کہہ کر مخالفت کی — البتہ اقلیتوں کو اسلامی ریاست میں مکمل حقوق کی یقین دہانی پر اس کے حق میں ووٹ دیا — اور بعد میں لبرل سیکولرازم کی علمبردار آزاد پاکستان پارٹی قائم کی۔2 کوئی ماخذ ان کا ذاتی مذہب یا مسلک نہیں بتاتا، اور ان کے ریکارڈ میں بھی کچھ درج نہیں۔3
پروگریسو پیپرز کے ذریعے وہ «پاکستان ٹائمز» کے مالک تھے، جس کے پہلے مدیر فیض احمد فیض تھے اور جو سماجی انصاف و زرعی اصلاحات کی ترجمانی کرتا تھا؛ 1959ء میں ایوب خان کی فوجی حکومت نے اخبار ضبط کر لیا، اور ان کی قانونی چارہ جوئی سے نہ اخبار واپس ملا نہ معاوضہ۔1
وفات
6 جون 1962ء کو لاہور میں دل کے دورے سے ان کا انتقال ہوا، عمر 54 برس؛ ان کے دوست و رفیق فیض احمد فیض نے شعری خراج تحسین پیش کیا۔2
حوالہ جات
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
مسجد بادشاهي· استيلاء الدز على لهاوور وقتله· عبد الرحمٰن چغتائی· عبد السلام· ابو الاعلیٰ مودودی· اعصام الحق قریشی· الطاف حسین حالی· امین احسن اصلاحی
ماخذ
- Mian Iftikharuddin — Urdu Wikipedia
- Mian Iftikharuddin — English Wikipedia
- Mian Iftikharuddin — Wikidata Q6827541
- Mian Iftikharuddin — Arabic Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “میاں افتخار الدین”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mian-iftikharuddin/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.