محمود عباس

محمود عباس

محمود عباس (پیدائش 15 نومبر 1935ء)، کنیت ابو مازن، فلسطینی سیاست دان ہیں جو صفد میں پیدا ہوئے اور 1948ء میں خاندان کے ساتھ شام چلے گئے؛ دمشق سے قانون پڑھا اور ماسکو سے اعلیٰ ڈگری لی۔ فتح کے شریکِ بانی اور منظمة التحرير کے مذاکرات کار کی حیثیت سے انہوں نے 1993ء میں اوسلو اول معاہدے پر دستخط کیے، 2003ء میں فلسطینی اتھارٹی کے پہلے وزیرِ اعظم بنے، 2004ء میں یاسر عرفات کے جانشین کے طور پر تنظیم کے چیئرمین اور 2005ء میں صدر منتخب ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمود عباس (پیدائش 15 نومبر 1935ء)، پورا نام محمود رضا شحادة عباس، کنیت ابو مازن، فلسطینی سیاست دان ہیں جو صفد میں پیدا ہوئے اور 1948ء میں خاندان کے ساتھ شام چلے گئے۔ فتح اور تنظیم آزادی فلسطین کے شریکِ بانی اور اس کے اہم مذاکرات کار کی حیثیت سے انہوں نے 13 ستمبر 1993ء کو اوسلو اول معاہدے پر تنظیم کی جانب سے دستخط کیے، 2003ء میں فلسطینی اتھارٹی کے پہلے وزیرِ اعظم بنے، 2004ء میں یاسر عرفات کے بعد تنظیم کے چیئرمین اور 9 جنوری 2005ء کو صدر منتخب ہوئے اور تاحال اس عہدے پر ہیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 15 نومبر 1935ء کو گلیل کے شہر صفد میں پیدا ہوئے؛ ان کا خاندان 1948ء کی جنگ میں شام فرار ہو گیا۔ انہوں نے دمشق یونیورسٹی سے قانون پڑھا اور ماسکو کی پیٹرس لوممبا یونیورسٹی سے «کینڈیڈیٹ آف سائنسز» کی ڈگری لی، جس کا مقالہ بعد میں کتابی شکل میں شائع ہوا۔ 1

    فتح اور مذاکرات

    پچاس کی دہائی میں وہ قطر میں فلسطینی جلاوطنوں کے ساتھ خفیہ سیاست میں شامل ہوئے اور 1961ء میں فتح کے رکن بنے، جو عرفات وغیرہ نے پچاس کی دہائی کے آخر میں کویت میں قائم کی تھی۔ وہ 1977ء ہی سے معتدل اسرائیلیوں سے مذاکرات کے حامیوں میں شامل تھے۔ انہوں نے 1993ء میں خلیجی جنگ کے بعد سعودی عرب کا دورہ کرنے والے پہلے پی ایل او اہلکار کی حیثیت بھی حاصل کی اور 1995ء میں اپنی یادداشتیں شائع کیں۔ 1

    وزارتِ عظمیٰ اور صدارت

    بین الاقوامی دباؤ پر عرفات نے 19 مارچ 2003ء کو انہیں پہلا وزیرِ اعظم مقرر کیا؛ عرفات سے اختیارات کی کشمکش اور مسلح گروہوں سے اختلاف کے بعد وہ 6 ستمبر 2003ء کو مستعفی ہو گئے۔ عرفات کی وفات کے بعد فتح نے انہیں قدرتی جانشین سمجھا، اور وہ 9 جنوری 2005ء کو 63 فیصد ووٹوں سے صدر منتخب ہوئے۔ ان کی مدت میں بار بار توسیع ہو چکی ہے۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Successor of
    یاسر عرفات

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    القاهرة· غزة· یاسر عرفات

    ماخذ

    1. Mahmoud Abbas — English Wikipedia
    2. Mahmoud Abbas — Arabic Wikipedia
    • Mahmoud Abbas — Urdu Wikipedia
    • Mahmoud Abbas — Wikidata Q127998
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمود عباس”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mahmoud-abbas/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    القاهرة

    Capital of Egypt; al-Qahira was founded by the Fatimids in 969 CE beside Fustat and became home to al-Azhar.