یاسر عرفات

ياسر عرفات

–

القاهرة → غزة

یاسر عرفات (اگست 1929ء – 11 نومبر 2004ء)، کنیت ابو عمار، فلسطینی سیاسی رہنما تھے جو قاہرہ میں فلسطینی والدین کے ہاں پیدا ہوئے اور وہیں سے سول انجینئرنگ پڑھی۔ وہ فتح کے شریکِ بانی اور رہنما، 1969ء سے وفات تک تنظیم آزادی فلسطین کے چیئرمین، اوسلو معاہدوں کے دستخط کنندہ، 1994ء کے نوبل امن انعام کے شریک اور فلسطینی اتھارٹی کے پہلے صدر تھے۔ رام اللہ میں اپنے احاطے میں دو برس سے زائد محصور رہنے کے بعد وہ فرانس کے ایک فوجی اسپتال میں وفات پا گئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبدالرحمن یوسفی · عبد الحميد خان سواتي · عبد اللطيف تشودري الفلتالي · عبد الستار ایدھی · عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    یاسر عرفات (اگست 1929ء – 11 نومبر 2004ء)، پورا نام محمد عبد الرؤوف عرفات القدوة الحسینی، کنیت ابو عمار، فلسطینی سیاسی رہنما تھے جو قاہرہ میں فلسطینی والدین کے ہاں پیدا ہوئے۔ وہ فتح کے شریکِ بانی اور رہنما، 1969ء سے وفات تک تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کے چیئرمین اور 1994ء میں فلسطینی اتھارٹی کے پہلے صدر بنے۔ انہوں نے اوسلو معاہدوں پر دستخط کیے اور 1994ء کا نوبل امن انعام حاصل کیا۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ قاہرہ میں اگست 1929ء میں پیدا ہوئے؛ انگریزی مضمون «4 یا 24 اگست» بتاتا ہے جبکہ عربی مضمون 4 اگست کو اختیار کرتا ہے۔ ان کے والد عبد الرؤوف القدوة غزہ سے تعلق رکھنے والے کپڑے کے تاجر تھے، اور والدہ زہوا ابوالسعود کا آبائی گھر یروشلم تھا، جو 1933ء میں وفات پا گئیں۔ انہوں نے شاہ فؤاد اول یونیورسٹی سے سول انجینئرنگ پڑھی، 1950ء میں فارغ ہوئے اور 1952ء سے 1956ء تک فلسطینی طلبہ کی جنرل یونین کے صدر رہے۔ 1 2

    فتح کا قیام

    1948ء کی جنگ میں وہ اخوان المسلمین کے ساتھ مل کر لڑے، مگر تنظیم کے رکن نہیں بنے۔ عرب شکست کے بعد وہ 1957ء میں کویت گئے، جہاں صلاح خلف (ابو ایاد) اور خلیل الوزیر (ابو جہاد) وغیرہ کے ساتھ مل کر پچاس کی دہائی کے آخر میں فتح کی بنیاد رکھی، اور بڑی عرب حکومتوں سے آزادی پر اصرار کیا۔ 1 3

    قیادت، اوسلو اور وفات

    1967ء کی شکست کے بعد جمال عبد الناصر نے انہیں «فلسطینیوں کا قائد» قرار دیا اور 1969ء میں وہ پی ایل او کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ اردن اور لبنان کے برسوں کے بعد وہ 1983ء سے 1993ء تک تیونس میں رہے اور کھلی جنگ سے مذاکرات کی طرف بڑھے۔ 1988ء میں انہوں نے اسرائیل کے وجود کا حق تسلیم کیا، 1991ء کے میڈرڈ کانفرنس کے بعد اوسلو معاہدے ہوئے، اور 1994ء میں وہ فلسطین واپس آئے اور نوبل امن انعام کے شریک بنے۔ 1

    اپنے آخری برسوں میں اسرائیلی فوج نے انہیں رام اللہ کے احاطے (مقاطعہ) میں دو برس سے زائد محصور رکھا۔ اکتوبر 2004ء میں بیمار ہونے پر انہیں پیرس کے قریب کلامار کے پرسی فوجی اسپتال لے جایا گیا، جہاں 11 نومبر 2004ء کو وہ وفات پا گئے۔ موت کی وجہ متنازع رہی: روسی اور فرانسیسی تحقیقات نے کسی گھناؤنے کھیل کی تردید کی، سوئس ٹیم نے پولونیم زہر کا نتیجہ نکالا، اور 2015ء میں فرانسیسی پراسیکیوٹر نے تحقیقات بند کر دیں۔ قاہرہ میں مختصر فوجی جنازے کے بعد انہیں 13 نومبر 2004ء کو «عارضی طور پر» مقاطعہ میں دفن کیا گیا۔ 1

    ذاتی زندگی

    1990ء میں انہوں نے فلسطینی عیسائی سہی الطویل سے شادی کی، جو تیونس میں ان کی سیکرٹری رہی تھیں؛ ان کی بیٹی زہوا 1995ء میں پیرس میں پیدا ہوئی۔ شادی سے پہلے وہ پچاس فلسطینی جنگی یتیموں کو گود لے چکے تھے۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Predecessor of
    محمود عباس
    Born in
    القاهرة
    Lived in
    القاهرة· غزة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة الرملة وارتداد البحر سنة 425· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ

    ماخذ

    1. Yasser Arafat — English Wikipedia
    2. Yasser Arafat — Arabic Wikipedia
    3. Yasser Arafat — Urdu Wikipedia
    • Yasser Arafat — Wikidata Q34211
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “یاسر عرفات”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/yasser-arafat/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.