ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
نواب سر خواجہ سلیم اللہ بہادر (7 جون 1871ء – 16 جنوری 1915ء) ڈھاکہ کے چوتھے نواب تھے، تیسرے نواب خواجہ احسان اللہ کے بیٹے اور احسن منزل بنانے والے خواجہ عبد الغنی کے پوتے۔ 1 2 دسمبر 1906ء میں انھوں نے اپنے خرچ پر ڈھاکہ میں آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کی میزبانی کی جس کے اختتام پر آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہوئی اور وہ اس کے نائب صدر اور آئین ساز کمیٹی کے رکن بنے۔ 2 1 وہ 1905ء کی تقسیمِ بنگال کے بڑے حامی تھے اور ڈھاکہ میں یونیورسٹی کے مطالبے کے قائد رہے حتیٰ کہ 1912ء میں اس کا وعدہ ملا؛ انگریزی مضمون انھیں یونیورسٹی آف ڈھاکہ اور احسان اللہ اسکول آف انجینئرنگ کے بانیوں میں گنتا ہے۔ 1
ابتدائی زندگی
سلیم اللہ 7 جون 1871ء کو ڈھاکہ کے احسن منزل محل میں پیدا ہوئے؛ وہ تیسرے نواب سر خواجہ احسان اللہ کے بڑے بیٹے تھے۔ 1 2 خاندانی روایت کے مطابق انھوں نے گھر پر عربی، اردو، فارسی اور انگریزی سیکھی۔ 1 1893ء میں وہ ڈپٹی مجسٹریٹ بن کر سرکاری ملازمت میں داخل ہوئے، 1895ء میں چھوڑ کر میمن سنگھ میں تجارت شروع کی، اور 1901ء میں والد کی وفات پر نوابِ ڈھاکہ کی جائیداد کے سربراہ اور موروثی خطاب کے وارث بنے۔ 1 2
سیاست اور مسلم لیگ
ان کا سیاسی آغاز تقسیمِ بنگال سے ہوا: 1903ء–04ء میں حکومتی منصوبے پر رائے دی، 11 جنوری 1904ء کو احسن منزل میں اس کے بعض پہلوؤں کی مخالفت کی، پھر 18–19 فروری 1904ء کو وائسرائے لارڈ کرزن کی میزبانی کی جس کے بعد منصوبے میں تبدیلیاں آئیں۔ 2 16 اکتوبر 1905ء کو تقسیم نافذ ہونے کے دن انھوں نے نارتھ بروک ہال کے اجلاس کی صدارت کی جہاں سے «محمڈن پروونشل یونین» بنی، اور نئی صوبائی حکومت کے حق میں رائے عامہ بنائی۔ 1 2 اپریل 1906ء میں شاہ باغ میں مشرقی بنگال و آسام کے پہلے تعلیمی اجتماع کے صدر منتخب ہوئے، پھر ہندوستان بھر کے مسلم رہنماؤں کو «مسلم آل انڈیا کنفیڈریسی» کی تجویز بھیجی اور بیسویں محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس ڈھاکہ میں اپنے خرچ پر منعقد کی: 27 سے 30 دسمبر 1906ء تک شاہ باغ کے باغیچے والے مکان میں دو ہزار سے زیادہ افراد جمع ہوئے — بنگلہ پیڈیا اس کانفرنس کا خرچ چھ لاکھ روپے سے زیادہ بتاتی ہے — اور 30 دسمبر کو آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہوئی۔ 2 1 بعد میں وہ آل بنگال مسلم لیگ کے صدر بنے (بنگلہ پیڈیا: 1906ء؛ انگریزی مضمون: 1907ء)، مشرقی بنگال و آسام لیگ کے 1908ء میں سیکرٹری اور 1909ء میں صدر ہوئے، اور دسمبر 1908ء میں امرتسر میں مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخاب کا مطالبہ کیا۔ 1 2 2 مارچ 1912ء کو ان کی صدارت میں دونوں بنگال لیگیں «پریزیڈنسی مسلم لیگ» میں ضم ہوئیں اور وہ اس کے صدر بنے۔ 1
تعلیم
اگست 1911ء میں کرزن ہال کی تقریب میں انھوں نے ڈھاکہ کے لیے یونیورسٹی کا مطالبہ کیا؛ 12 دسمبر 1911ء کو تقسیم کی منسوخی ان کے لیے بڑا صدمہ تھی، 20 دسمبر کو انھوں نے وائسرائے ہارڈنگ کو آٹھ نکاتی مطالبات پیش کیے، اور 31 جنوری 1912ء کو ڈھاکہ یونیورسٹی اور مسلمانوں کے لیے تعلیمی افسر کا وعدہ ملا؛ بنگلہ پیڈیا یونیورسٹی کے خاکے میں شعبۂ مطالعۂ اسلام کی شمولیت بھی انھی کی کوشش کا نتیجہ بتاتی ہے۔ 2 1 1902ء میں انھوں نے والد کے وعدے کے 1,12,000 روپے ڈھاکہ انجینئرنگ اسکول کے لیے ادا کیے۔ 2
آخری برس، وفات اور اعزازات
1912ء میں انھوں نے بلقان جنگوں کے دوران ترک مسلمانوں کے لیے مشرقی بنگال سے بڑے عطیات بھیجے، مگر 1914ء میں ترکی کے جرمنی کے ساتھ ہونے پر اتحادیوں کی حمایت کی۔ 1 2 وہ 1913ء سے وفات تک بنگال اسمبلی کے رکن رہے اور اپریل 1914ء کے بعد عملی سیاست سے الگ ہو گئے؛ عوامی کاموں پر بے دریغ خرچ سے وہ مقروض ہو گئے تھے۔ 2 1 اعزازات میں انگریزی مضمون CSI 1906ء، KCSI 1909ء اور GCIE 1911ء بتاتا ہے، جبکہ بنگلہ پیڈیا کے سال مختلف ہیں (CSI 1902ء وغیرہ)۔ 1 2 ان کا انتقال 16 جنوری 1915ء کو کلکتہ کے چورنگی میں ہوا — عمر 43 برس — لاش سرکاری اعزاز کے ساتھ ڈھاکہ لائی گئی اور بیگم بازار کی خاندانی قبرستان میں دفن ہوئے۔ 2 1 پاکستان پوسٹ نے 1990ء اور بنگلہ دیش نے 1993ء میں ان کے اعزاز میں ڈاک ٹکٹ جاری کیے۔ 1
آرا اور تنقید
یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مختلف مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔
بنگلہ پیڈیا انھیں «مسلم قوم پرست، مسلم لیگ کے معمار اور تعلیم کے سرپرست» کہتی ہے؛ تمام ماخذ ان کی تقسیمِ بنگال کی حمایت، جداگانہ انتخاب اور سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کے حصے کے مطالبات کو نمایاں کرتے ہیں، اور بنگلہ پیڈیا 1909ء کی «امپیریل لیگ» کے ذریعے ہندو مسلم ہم آہنگی کی ان کی کوشش بھی درج کرتی ہے۔ 2 1 ان کے مسلک کا نام صرف انگریزی مضمون کے معلوماتی خانے میں (سنی اسلام) آتا ہے، اس لیے ڈیٹا ریکارڈ میں اعتقاد اس اکیلے شاہد کے بیان کے ساتھ «نامعلوم» رکھا گیا ہے۔ 1 2
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ابو القاسم فضل الحق· عبد الحمید خان بھاشانی· فضل حسن عابد· فضل الرحمان خان· حسین شہید سہروردی· حسین محمد ارشاد· عیاض الدین احمد· جمیل الرضا چودھری
ماخذ
- Khwaja Salimullah — English Wikipedia
- Khwaja Salimullah — Banglapedia
- Khwaja Salimullah — Urdu Wikipedia
- Khwaja Salimullah — Arabic Wikipedia
- Khwaja Salimullah — Wikidata Q3350461
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “خواجہ سلیم اللہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/khwaja-salimullah/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.