حسن البلقیہ

لوگ زندہ اسلام

حسن البلقية

1967ء سے برونائی کے سلطان اور 1984ء میں آزادی کے بعد سے اس کے وزیرِ اعظم۔ 1946ء میں برونائی ٹاؤن میں عمر علی سیف الدین سوم کے بڑے بیٹے پیدا ہوئے، والد کی دستبرداری پر اکیس برس کی عمر میں سلطان قرار پائے اور 1968ء میں تاج پوشی ہوئی، یکم جنوری 1984ء کو برطانیہ سے مکمل آزادی کی قیادت کی اور وہ دنیا کے سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے موجودہ بادشاہ ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
sultan
خطہ
southeast-asia
شناختیں
Wikidata

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں

    عصرِ حاضر کے اسلام کا براؤزرپچاس برسوں کی شخصیات

    خلاصہ

    حسن البلقیہ (ولادت 1946ء) 1967ء سے برونائی کے سلطان اور 1984ء میں آزادی کے بعد سے اس کے وزیرِ اعظم ہیں۔ اپنے والد عمر علی سیف الدین سوم کی دستبرداری پر اکیس سال کی عمر میں سلطان قرار پائے، یکم جنوری 1984ء کو برطانیہ سے برونائی کی مکمل آزادی کی قیادت کی اور قومی فلسفے ملایو اسلام براجا (ملے اسلامی بادشاہت) کے تحت دنیا کے چند باقی ماندہ مطلق العنان بادشاہوں میں سے ایک کے طور پر حکمرانی کرتے ہیں۔ وہ دنیا کے سب سے طویل عرصے تک تخت پر رہنے والے موجودہ بادشاہ ہیں اور 2017ء میں انھوں نے تخت پر پچاس سال مکمل کیے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    شہزادہ حسن البلقیہ 15 جولائی 1946ء کو برونائی ٹاؤن کے استانہ دار السلام میں وارثِ تخت پنگیران بندہارا عمر علی سیف الدین اور پنگیران انق دامیت کے بڑے بیٹے پیدا ہوئے۔ انھوں نے پہلے استانہ دار الہنا سوراو اور جمال العالم ملے اسکول میں تعلیم پائی، پھر کوالا لمپور کے وکٹوریہ انسٹیٹیوشن (1961ء–1963ء) میں پڑھے، جہاں کیڈٹ کور میں بہترین ریکروٹ قرار پائے، اور برونائی واپسی پر سلطان عمر علی سیف الدین کالج میں داخل ہوئے۔ 14 جولائی 1961ء کو انھیں ولی عہد قرار دیا گیا تھا، اور دسمبر 1962ء میں برونائی بغاوت کے دوران گورکھا سپاہیوں نے انھیں اور ان کے والد کو محل سے بچایا۔ 1965ء میں انھوں نے پنگیران انق صالحہ سے شادی کی اور 1966ء میں رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ میں کیڈٹ افسر کے طور پر داخل ہوئے؛ 1968ء میں انھیں کولڈ اسٹریم گارڈز میں اعزازی کپتان مقرر کیا گیا۔ 3 4

    تخت نشینی اور تاج پوشی

    4 اکتوبر 1967ء کی شام عمر علی سیف الدین سوم نے دستبرداری کا اعلان کیا؛ حسن البلقیہ انگلستان سے واپس آئے اور اگلے دن برونائی کے انتیسویں سلطان قرار پائے، اپنے والد کی پالیسیاں جاری رکھنے کا عہد کرتے ہوئے۔ ان کی تاج پوشی یکم اگست 1968ء کو ہوئی، جب والد نے ان کے سر پر تاج رکھا، کرس سی ناگا ان کے حوالے کی اور ریاست و مذہب کے سربراہ کے طور پر ان کی اطاعت میں اپنی رسمی تلوار اتاری۔ پرانے سلطان کئی سال تخت کے پیچھے قوت رہے اور ہر اہم فیصلے میں مشورہ دیتے رہے۔ 1959ء کے آئین کے تحت سلطان کو مکمل انتظامی اختیار حاصل ہے، جو 1962ء کی بغاوت کے بعد نافذ ایمرجنسی نے مزید مضبوط کیا۔ 3

    آزادی اور مطلق حکمرانی

    1970ء کی دہائی میں سلطان نے برطانیہ سے برونائی کے مستقبل پر مذاکرات کیے: 1971ء کے دوستی معاہدے نے مکمل داخلی خودمختاری دی، اور دوستی و تعاون کے معاہدے سے یکم جنوری 1984ء کو مکمل خودمختاری حاصل ہوئی، جب انھوں نے آدھی رات کو آزادی کا اعلان کیا اور وزیرِ اعظم، وزیرِ خزانہ اور وزیرِ داخلہ کے مناصب سنبھالے اور ملایو اسلام براجا کو قومی فلسفہ قرار دیا۔ تیل و گیس سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں نے معیارِ زندگی بلند کیا؛ قانون ساز کونسل، جو 1962ء سے تحلیل شدہ تھی، 2004ء میں ترمیم شدہ صورت میں بحال ہوئی، اور 2006ء میں خبر آئی کہ انھوں نے آئین میں ترمیم کر کے خود کو برونائی قانون کے تحت معصوم قرار دیا۔ بیرونِ ملک انھوں نے 2000ء کی ایپیک کانفرنس اور 2013ء و 2021ء کی آسیان کانفرنسوں کی صدارت کی۔ 3 1

    شرعی قانون اور بعد کے سال

    2014ء میں سلطان نے برونائی کا شرعی تعزیری قانون نافذ کرنا شروع کیا، اور اس کا آخری مرحلہ 3 اپریل 2019ء سے لاگو ہوا جس میں زنا اور ہم جنس تعلقات پر سنگساری اور چوری پر ہاتھ کاٹنے کی سزائیں شامل تھیں۔ ان قوانین پر دنیا بھر میں احتجاج اور شاہی خاندان کے ڈورچیسٹر کلیکشن ہوٹلوں کے بائیکاٹ ہوئے؛ چند ہفتوں میں سلطان نے سزائے موت پر پابندی میں توسیع کی اور اقوام متحدہ کے انسدادِ تشدد کنونشن کی توثیق کا اعلان کیا۔ اکتوبر 2017ء میں ان کی گولڈن جوبلی پر دارالحکومت میں دسیوں ہزار لوگ شاہی رتھ کے جلوس کے لیے جمع ہوئے۔ کووڈ-19 کی وبا کے دوران انھوں نے ابتدائی سفری پابندیاں لگائیں اور اپریل 2021ء میں علانیہ ویکسین لگوائی۔ ان کی ولدیت ایک بار، ان کے والد کے ریکارڈ میں، درج ہے؛ اور اس ریکارڈ کے لیے پڑھے گئے کسی ماخذ میں حسن البلقیہ کے لیے کوئی مذہبی مکتب بیان نہیں ہوا — برونائی میں اسلام کی سربراہی ان کے تخت کا منصب ہے — اس لیے یہ ریکارڈ کوئی مکتب درج نہیں کرتا۔ 3 2

    مآخذ

    • اوپر مذکور معرّف ماخذ اکائیاں، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کے ماخذ کا نام لینا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    عمر علی سیف الدین سوم

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    محمد جمال عالم دوم· عمر علی سیف الدین سوم

    ماخذ

    1. Hassanal Bolkiah — Urdu Wikipedia
    2. Hassanal Bolkiah — Wikidata Q57327
    3. Hassanal Bolkiah — English Wikipedia
    4. Hassanal Bolkiah — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حسن البلقیہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hassanal-bolkiah/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-31.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    محمد جمال عالم دوم

    برونائی کے چھبیسویں سلطان ⁦(1906ء–1924ء)⁩، ہاشم جلیل العالم اقام الدین کے بیٹے۔ سترہ برس کی عمر میں مجلسِ وصایت کے تحت تخت نشین ہوئے اور 1918ء میں تاج پوشی ہوئی؛ وہ انگریزی بولنے والے پہلے برونائی سلطان تھے اور انہوں نے برونائی کے ایک غریب ترین دور میں زراعت، طب، تعلیم اور اسلامی تعلیم کی حوصلہ افزائی کی۔ ستمبر 1924ء میں وفات پائی اور ان کے بڑے بیٹے احمد تاج الدین جانشین ہوئے۔