حنان اشراوی

حنان عشراوي

نابلس → عمان

حنان اشراوی (پیدائش 8 اکتوبر 1946ء) فلسطینی دانشور اور سیاست دان ہیں جو نابلس میں فلسطینی عیسائی والدین کے ہاں پیدا ہوئیں اور رام اللہ میں پلی بڑھیں؛ بیروت کی امریکن یونیورسٹی سے انگریزی ادب پڑھا اور ورجینیا یونیورسٹی سے تقابلی ادب میں ڈاکٹریٹ کی۔ برزیت یونیورسٹی میں تدریس کی، 1991ء میں میڈرڈ امن کانفرنس میں فلسطینی وفد کی سرکاری ترجمان کی حیثیت سے عالمی شہرت پائی، 1996ء میں وزیرِ اعلیٰ تعلیم بنیں اور 2009ء و 2018ء میں تنظیم آزادی فلسطین کی انتظامی کمیٹی کی پہلی خاتون رکن منتخب ہوئیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · عالم · writer
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    عیسائی (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    حنان داؤد مخایل اشراوی (پیدائش 8 اکتوبر 1946ء) فلسطینی دانشور، سرگرم کارکن اور سیاست دان ہیں، جو نابلس میں فلسطینی عیسائی والدین کے ہاں پیدا ہوئیں اور رام اللہ میں پلی بڑھیں؛ عربی مضمون کا ابتدایہ انہیں ذاتی طور پر «فلسطینی عیسائی سیاسی کارکن» کہتا ہے۔ انہوں نے بیروت کی امریکن یونیورسٹی سے انگریزی ادب پڑھا اور ورجینیا یونیورسٹی سے قرونِ وسطیٰ اور تقابلی ادب میں ڈاکٹریٹ کی، برزیت یونیورسٹی میں تدریس کی اور اس کی کلیۂ ادب کی ڈین بنیں۔ 1991ء میں میڈرڈ امن کانفرنس میں فلسطینی وفد کی سرکاری ترجمان کی حیثیت سے وہ عالمی شہرت پا گئیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 8 اکتوبر 1946ء کو نابلس میں پیدا ہوئیں، طبیب اور تنظیم آزادی فلسطین کے بانیوں میں سے ایک داؤد میخائل اور آنکھوں کی نرس ودیعہ اسعد میخائل کی پانچ بیٹیوں میں سب سے چھوٹی۔ خاندان نابلس اور طبریا میں رہا، 1948ء کی جنگ میں عمان فرار ہوا اور 1950ء میں رام اللہ آباد ہو گیا، جہاں انہوں نے کویکر کے رام اللہ فرینڈز گرلز اسکول میں تعلیم پائی۔ بیروت کی امریکن یونیورسٹی سے ادب میں بیچلر اور ماسٹرز کیے؛ 1967ء کی جنگ کے وقت وہ لبنان میں تھیں اور اسرائیل نے چھ برس تک انہیں مغربی کنارے واپسی سے روکے رکھا، اس دوران انہوں نے ورجینیا یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ مکمل کی اور 1973ء میں خاندان سے آ ملیں۔ 1 3

    سیاسی و سماجی زندگی

    پہلے انتفاضہ کی رہنماؤں میں شامل رہیں، 1996ء میں وزیرِ اعلیٰ تعلیم و سائنسی تحقیق بنیں اور اسی برس یروشلم سے قانون ساز کونسل کی رکن منتخب ہوئیں، 2006ء میں دوبارہ منتخب ہوئیں۔ 2009ء اور 2018ء میں وہ تنظیم آزادی فلسطین کی انتظامی کمیٹی کی پہلی خاتون رکن منتخب ہوئیں اور 2020ء میں مستعفی ہو گئیں۔ انہوں نے 1994ء میں آزاد کمیشن برائے انسانی حقوق، 1998ء میں «مفتاح» اور 1999ء میں «امان» اتحاد قائم کیے، اور ان کی کتاب «هذا الجانب من السلام» (1995ء) عالمی سطح پر معروف ہوئی۔ 1

    8 اگست 1975ء کو ان کی شادی یروشلم کے عیسائی ایمائل اشراوی سے ہوئی، جو فوٹوگرافر اور تھیٹر ڈائریکٹر ہیں؛ ان کی دو بیٹیاں ہیں: امل اور زینہ۔ 1 2

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    نابلس
    Lived in
    عمان

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    زلزلة الرملة وارتداد البحر سنة 425· دعوى الفرياني المهدية· دخول التتار دمشق واستسلامها سنة 658هـ· موكب سبط ابن الجوزي وشعور النساء إلى نابلس سنة 606· عبداللہ دوم· محمد ناصر الدین الالبانی· ایاد قنیبی· حسین بن عبد اللہ دوم

    ماخذ

    1. Hanan Ashrawi — English Wikipedia
    2. Hanan Ashrawi — Arabic Wikipedia
    3. Hanan Ashrawi — Urdu Wikipedia
    • Hanan Ashrawi — Wikidata Q237143
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حنان اشراوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hanan-ashrawi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    زلزلة الرملة وارتداد البحر سنة 425

    In 425 a black wind tore through Nisibis uprooting orchards and throwing down a masonry palace, hail fell in shapes like hands, pillars and fingers, an earthquake ruined half of Ramla, villages were swallowed, part of the wall of Bayt al-Maqdis fell and Ascalon's congregational-mosque minaret collapsed, and the sea drew back some three farsakhs before returning to take people who had gone out gathering fish and shells.