محمد ناصر الدین الالبانی

الألباني محمد ناصر الدين

–

دمشق → عمان

مشہور محدث، البانوی اصل اور شامی شہریت کے حامل، جو احادیث کی تصحیح و تضعیف اور فقہ الحدیث میں ممتاز ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
muhaddith · عالم
شمار ہوتا ہے
sunni
دور
العصر المعاصر
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد اللطيف تشودري الفلتالي · آدم عبد اللہ عثمان · علي صافي الكلبايكاني · حبیب بورقیبہ · ابن باز عبد العزيز بن عبد الله

مکان میں

دمشق

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

scripture-and-its-sciences

کہانی میں مقام

  • عالمروایتی

کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

خلاصہ

محمد ناصر الدین بن نوح بن آدم نجاتی الالبانی مشہور محدث تھے، البانوی اصل اور شامی شہریت کے حامل، جو احادیث کی تصحیح و تضعیف اور فقہ الحدیث میں ممتاز ہوئے۔ 1 وہ 16 اگست 1914 کو البانیہ کے شہر شقودرہ میں پیدا ہوئے، دمشق میں پروان چڑھے، اور دورِ جدید کے مشہور ترین علمائے حدیث اور سلفیت کی نمایاں شخصیات میں سے ہوئے۔ وہ ادب حدیث کی سخت ازسرنو درجہ بندی اور تقلیدِ مذاہب کی مخالفت کے لیے معروف ہیں، اور ان کے سلفی مداحوں نے انہیں «بخاریِ عصر» کا لقب دیا۔ موسوعہ کے مطابق وہ 1333ھ (1914ء) میں پیدا ہوئے اور 1420ھ (1999ء) میں وفات پائی۔ 2 3 1

ابتدائی زندگی اور تعلیم

وہ شقودرہ کے ایک حنفی خاندان میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد نوح نجاتی استنبول سے تعلیم یافتہ حنفی فقیہ تھے۔ والد نے سیکولر اثرات کے خدشے سے انہیں البانیہ کے اسکول سے نکال لیا، اور 1923 میں، جب وہ نو برس کے تھے، خاندان فرانسیسی انتداب کے تحت دمشق منتقل ہو گیا۔ 2

دمشق میں انہوں نے والد اور مقامی علماء سے تعلیم شروع کی، نجار اور پھر والد کے ساتھ گھڑی ساز کا کام کیا، اور بیس برس کی عمر کے قریب محمد رشید رضا سے متاثر ہو کر علم حدیث کی طرف متوجہ ہوئے۔ ان کے اساتذہ میں محمد بہجت بیطار، عز الدین تنوخی اور سعید البرہانی شامل ہیں۔ 2

علمی زندگی

انہوں نے مجلہ «المنار» میں مضامین لکھے اور دمشق میں عقیدہ، فقہ اور حدیث کے ہفتہ وار دروس دیے جن میں طلبہ اور جامعات کے اساتذہ شریک ہوتے۔ 1961 میں وہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں تدریس کے لیے بلائے گئے، مگر 1963 میں اپنے بعض آرا پر ہونے والی مخالفت کے باعث سعودی عرب چھوڑ دیا۔ بعد میں مفتی ابن باز کی سفارش پر دوبارہ بلائے گئے۔ آخر میں وہ اردن میں سکونت پذیر ہو گئے۔ 2

آرا

وہ سلفیت کے بڑے حامی تھے؛ انہوں نے تمام روایتی فقہی مذاہب پر تنقید کی، تقلید کو رد کیا، اور بہت سی مقبول روایات کو غیر مستند قرار دیا۔ ان کے بعض فتوے عمومی اتفاق سے مختلف تھے: مساجد میں محراب کو بدعت کہنا، جوتوں سمیت نماز کی اجازت، اور اپنی 1952 کی کتاب «حجاب المرأۃ المسلمہ» میں عورت کے چہرے کے کھلے رہنے کی اجازت۔ انہوں نے فلسطینیوں کو مقبوضہ علاقے چھوڑنے کی دعوت دی، جس پر وسیع تنقید ہوئی، خود وہابی حلقوں سے بھی۔ یہ آرا ان کی طرف منسوب کر کے پیش کی گئی ہیں؛ عجائب گھر انہیں اختیار نہیں کرتا۔ 2

آرا اور تنقید

یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

1970 کی دہائی کے اوائل میں شامی محدث عبد الفتاح ابو غدہ نے صحیح بخاری و صحیح مسلم کی ان کی نئی درجہ بندی پر رد لکھا۔ ابو غدہ کے شاگرد محمود سعید ممدوح نے ان پر کئی رد لکھے اور کہا کہ ان کے طریقے فقہاء و محدثین کے طریقوں سے مختلف اور فقہی دلائل میں انتشار پیدا کرنے والے ہیں۔ محمد سعید رمضان البوطی نے ان کی ضدِ مذاہب روش اور فلسطینیوں سے متعلق دعوت پر دو کتابوں میں رد لکھا۔ دوسری طرف سلفی حلقوں میں انہیں «بخاریِ عصر» کہا گیا۔ محقق عماد حمادہ کے شمار کے مطابق ان کی کتابیں 200 سے زیادہ (217) ہیں، جبکہ عربی مضمون 300 سے زیادہ بتاتا ہے؛ درست عدد کسی خصوصی ماخذ کا محتاج ہے۔ 2 4

اہم کتابیں

ان کی مشہور تصانیف میں «سلسلۃ الأحادیث الصحیحہ»، «سلسلۃ الأحادیث الضعیفہ والموضوعہ»، «صفۃ صلاۃ النبی» — جس میں نماز کے طریقے پر ان کے نتائج تمام روایتی مذاہب سے مختلف ہوئے — «صحیح الجامع الصغیر» اور «حجاب المرأۃ المسلمہ» (1952) شامل ہیں۔ 2 4

وفات

انہوں نے اپنے آخری برس اردن میں گزارے اور 1999 میں عمان میں 85 برس کی عمر میں وفات پائی۔ موسوعہ صرف سال 1420ھ (1999ء) دیتی ہے۔ وفات کے دن پر ڈیجیٹل ماخذ مختلف ہیں: انگریزی مضمون کا مقدمہ اور ویکی ڈیٹا 3 اکتوبر 1999 کہتے ہیں جبکہ مضمون کا متن 2 اکتوبر کہتا ہے؛ اس لیے یہ ریکارڈ صرف وہ سال درج کرتا ہے جس پر موسوعہ اور مضمون متفق ہیں۔ 2 1 3

ماخذ

  • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
  • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Lived in
دمشق· عمان
Taught
سلیمان بن سلیم اللہ الرحیلی
Mentioned in
الموطأ 433 — بلاغ عن أبي ذر: مسح الحصباء مسحة واحدة وتركها خير من حمر النعم· الموطأ 718 — مرسل عطاء بن يسار: لا تحل الصدقة لغني إلا لخمسة

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

محمد راتب النابلسى· الدارقطني· ابن باز عبد العزيز بن عبد الله· ابن رجب الحنبلي· يحيى بن سعيد بن قيس الأنصاري· الكهف بقاسيون (كهف جبريل)· قصر هرقل (شمس الملوك)· الجامع الأموي بدمشق

ماخذ

  1. موسوعة أعلام العلماء والأدباء العرب والمسلمين — دار الجيل/أليكسو
  2. Muhammad Nasir al-Din al-Albani — English Wikipedia
  3. Muhammad Nasir al-Din al-Albani — Wikidata Q560078
  4. محمد ناصر الدين الألباني — ويكيبيديا العربية
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “محمد ناصر الدین الالبانی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/al-albani-muhammad-nasir-al-din/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

لوگ

نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
متعلقہ

محمد راتب النابلسى

شامی مبلغ اور مصنف، جو 1938 میں دمشق میں پیدا ہوئے۔ وہ تقریباً تیس برس جامعہ دمشق میں استاد رہے، قرآن و سنت کے علمی اعجاز پر اپنے دروس اور اسمائے حسنیٰ اور شمائلِ نبوی پر اپنی سلاسل کی وجہ سے مشہور ہوئے، اور انہوں نے آن لائن «موسوعہ النابلسی» اور دمشق میں ایک علمی مجمع قائم کیا۔