حمزہ یوسف

حمزة يوسف

†

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

امریکی مسلمان عالم، جو 1958 میں ریاست واشنگٹن میں مارک ہینسن کے نام سے پیدا ہوا۔ اس نے 1977 میں اسلام قبول کیا، ایک دہائی تک امارات، شمالی افریقا اور موریطانیہ میں اسلامی علوم پڑھے، اور 1996 میں زیتونہ انسٹیٹیوٹ کی مشترکہ بنیاد رکھی، جو برکلے میں زیتونہ کالج بنا — امریکا کا پہلا باقاعدہ منظور شدہ مسلم لبرل آرٹس کالج۔ اس کی ترجمہ شدہ و تصنیف کردہ کتابیں اور لیکچرز انگریزی دنیا میں وسیع پیمانے پر پڑھے اور سنے جاتے ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · teacher · writer · واعظ
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    sunni-maliki (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    حمزہ یوسف (پیدائشی نام مارک ہینسن، 1958) ایک امریکی مسلمان عالم ہیں، جنہیں انگریزی مضمون اسلامی نو روایت پسندی کے بانیوں میں شمار کرتا ہے اور جو اسلامی علوم اور کلاسیکی طرزِ تعلیم کو دنیا بھر میں فروغ دیتے رہے ہیں۔ 1

    انہوں نے 1996 میں برکلے میں زیتونہ انسٹیٹیوٹ کی مشترکہ بنیاد رکھی، جو 2010 میں زیتونہ کالج کے طور پر کھلا — امریکا کا پہلا باقاعدہ منظور شدہ مسلم لبرل آرٹس کالج — اور وہ «دی 500 موسٹ انفلوئنشنل مسلمز» کی اولین پچاس شخصیات میں شامل ہیں۔ 1

    ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

    وہ 1958 میں واشنگٹن ریاست کے شہر والا والا میں مارک ہینسن کے نام سے پیدا ہوئے، وٹمین کالج کے دو اساتذہ کے ہاں، اور شمالی کیلیفورنیا میں پلے بڑھے؛ والد آئرش نژاد کیتھولک تھے اور والدہ یونانی آرتھوڈوکس، اور انہی کے مذہب پر ان کی پرورش ہوئی۔ 1

    ماخذ ان کی سنِ ولادت میں مختلف ہیں: انگریزی مضمون اور وکی ڈیٹا 1958 دیتے ہیں، عربی مضمون 1 جنوری 1960؛ یہ ریکارڈ 1958 کو اختیار کرتا ہے اور اختلاف درج کرتا ہے۔ 1 2 3

    1977 میں ایک مہلک کار حادثے سے بچنے اور قرآن پڑھنے کے بعد انہوں نے اسلام قبول کیا — عربی مضمون کے مطابق سانتا باربرا میں، اٹھارہ برس کی عمر میں — اور انہوں نے اسے اپنی پچھلی تعلیمات کا «تکملہ» قرار دیا۔ 1 3

    عالمِ اسلام میں تعلیم کا عشرہ

    پہلے انہوں نے انگلستان کے نوروچ میں عبدالقادر الصوفی سے پڑھا، پھر 1979 میں العین (متحدہ عرب امارات) چلے گئے، جہاں چار برس شرعی علوم — تجوید، بلاغت، شعر، مالکی فقہ اور عقیدہ سمیت — بیشتر انفرادی طور پر اساتذہ سے پڑھے اور عربی میں روانی حاصل کی۔ 1

    1984 میں وہ الصوفی کی تعلیمات سے باقاعدہ الگ ہو گئے اور الجزائر، مراکش، اسپین اور موریطانیہ میں پڑھا، جہاں ان کا سب سے پائیدار علمی رشتہ مرابط الحاج سے قائم ہوا؛ عربی مضمون ان کے موریطانی اساتذہ اور بعد میں عبداللہ بن بیّہ کی صحبت اور کئی علوم میں ان کی اجازتوں کا ذکر کرتا ہے۔ 1 3

    زیتونہ اور بعد کی تعلیم

    زید شاکر اور حاتم بازیان کے ساتھ انہوں نے 1996 میں زیتونہ انسٹیٹیوٹ قائم کیا؛ 2010 میں یہ زیتونہ کالج بن کر کھلا، امریکا کی پہلی مسلم لبرل آرٹس درسگاہ، جس نے بعد میں مغربی ایسوسی ایشن آف اسکولز اینڈ کالجز سے منظوری پا کر امریکا کا پہلا باقاعدہ منظور شدہ مسلم کیمپس ہونے کا درجہ حاصل کیا۔ 1

    ساتھ ہی انہوں نے امپیریل ویلی کالج سے نرسنگ کی ایسوسی ایٹ ڈگری اور سان ہوزے اسٹیٹ یونیورسٹی سے مذہبی مطالعات میں بیچلر کیا، اور 2020 میں گریجویٹ تھیولوجیکل یونین سے پی ایچ ڈی مکمل کی، جس کا مقالہ ابنِ عاشر کی مالکی عبادتی کتاب «المرشد المعین» میں علمی اقتدار کی منتقلی پر تھا۔ 1

    مواقف اور عوامی کردار

    یہ حصہ ماخذ میں منسوب مواقف پیش کرتا ہے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    وہ عبداللہ بن بیّہ کے قائم کردہ و صدرات والے اداروں — عالمی مرکز برائے رہنمائی و تجدید اور امارات میں قائم مسلم معاشروں میں امن کے فروغ کے فورم — کے نائب صدر ہیں؛ انگریزی مضمون کے مطابق فورم کو اماراتی حکومت سے قریبی تعلق، عرب بہار کے بعد آمرانہ رہنماؤں کی حمایت اور ابراہیمی معاہدوں کی تائید پر وسیع تنقید کا سامنا رہا، اور یوسف نے 2023 میں ٹورنٹو کے RIS خطاب میں کہا کہ فورم کے بیانات ان کی ذاتی رائے نہیں اور وہ «کبھی معمول پر لانے (نارملائزیشن) کے حق میں نہیں رہے»۔ 1

    انہوں نے 11 ستمبر کے حملوں کو «سادہ الفاظ میں اجتماعی قتل» کہا، «کلمۂ سواء» کے خط اور داعش کے سربراہ کے نام کھلے خط کے دستخط کنندگان میں شامل ہیں۔ 2011 کی ایک گفتگو میں انہوں نے آئینی بادشاہت کو جمہوریت سے مضبوط تر نظام قرار دیا۔ ان کے شامی انقلاب (2019) اور بلیک لائیوز میٹر (2016) پر تبصروں نے وسیع تنقید کھینچی، جس میں زید شاکر نے ان کا دفاع کیا۔ اردن کا شاہی اسلامی مرکز انہیں دنیا کے 500 بااثر مسلمانوں میں 36ویں نمبر پر رکھتا ہے۔ 1

    ایمان اور تعلق

    یہ حصہ ماخذ میں درج باتیں پیش کرتا ہے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    دو آزاد ماخذ ان کا مکتب بیان کرتے ہیں: انگریزی مضمون کا معلوماتی خانہ ان کا مسلک «سنی»، فقہ «مالکی» اور عقیدہ «اشعری» دیتا ہے، اور عربی مضمون صراحتاً کہتا ہے کہ وہ «عقیدے میں سنی، روش میں معتدل اور فقہ میں مالکی» ہیں۔ اس لیے یہ ریکارڈ «سنی-مالکی» کو موثق درج کرتا ہے، اور اشعری عقیدہ — جو دونوں میں سے ایک ماخذ نے نام لے کر بیان کیا — یہیں نوٹ میں رہتا ہے؛ وکی ڈیٹا صرف «اسلام» لکھتا ہے۔ 1 3 2

    ذاتی زندگی

    عربی مضمون کے مطابق وہ شادی شدہ ہیں، ان کے پانچ بچے ہیں اور وہ شمالی کیلیفورنیا میں رہتے ہیں؛ عجائب گھر اس سے زیادہ خاندانی تفصیل شائع نہیں کرتا۔ ان کے لیکچرز اور تراجم عربی و انگریزی میڈیا میں وسیع پیمانے پر گردش کرتے ہیں۔ 3

    ماخذ

    • انگریزی ویکیپیڈیا مضمون «Hamza Yusuf» (نظرثانی 1381160783)؛ عربی ویکیپیڈیا مضمون «حمزۃ یوسف» (نظرثانی 75821250)؛ اردو ویکیپیڈیا مضمون «حمزہ یوسف» (نظرثانی 6646651)؛ وکی ڈیٹا Q723308۔
    • درج شدہ اختلاف: سنِ ولادت 1958 (انگریزی مضمون، وکی ڈیٹا) بمقابلہ 1 جنوری 1960 (عربی مضمون)۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Taught
    حسائی مجددی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    حسائی مجددی

    ماخذ

    1. Hamza Yusuf — English Wikipedia
    2. Hamza Yusuf — Wikidata Q723308
    3. Hamza Yusuf — Arabic Wikipedia
    • Hamza Yusuf — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حمزہ یوسف”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hamza-yusuf/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    حسائی مجددی

    کیلیفورنیا میں معلمہ، روحانی رہنما اور صحتِ نفس کی علمبردار۔ وہ افغانستان میں پیدا ہوئیں اور دو سال کی عمر میں خاندان کے ساتھ امریکہ منتقل ہوئیں۔ ان کی شرعی تعلیم 1996 میں ہیورڈ میں شیخ حمزہ یوسف کی کلاسوں سے شروع ہوئی، جو تب سے ان کے استاد و مرشد ہیں۔ انہوں نے اپنی چچا زاد ڈاکٹر نفیسہ سکندری کے ساتھ «Mental Health 4 Muslims» قائم کی، اور بیس سال سے زائد عرصے سے خلیجی علاقے اور اورنج کاؤنٹی و لاس اینجلس کی برادریوں کی خدمت کر رہی ہیں۔