حامد کرزئی

حامد كرزاي

†

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

كابل

افغان سیاست دان جنھوں نے دسمبر 2001ء سے ستمبر 2014ء تک افغانستان کی قیادت کی: عبوری انتظامیہ کے سربراہ، پھر عبوری صدر، پھر ملک کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر (2004ء، 2009ء میں دوبارہ منتخب)۔ پوپلزئی درانی پشتون، وہ 1980ء کی دہائی میں پاکستان میں مجاہدین کے لیے چندہ اکٹھا کرتے رہے اور 1992ء میں نائب وزیر خارجہ رہے۔ ان کی صدارت کو بدعنوانی اور 2009ء کے متنازع انتخابات پر بین الاقوامی تنقید کا سامنا رہا، جن الزامات کا جواب انھوں نے دیا جیسا کہ انگریزی مضمون درج کرتا ہے؛ ان پر بدعنوانی کا الزام بھی لگا۔ 2021ء میں طالبان کے قبضے کے بعد وہ کابل ہی میں رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
persia-central-asia
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    حامد کرزئی (پیدائش: 24 دسمبر 1957ء) افغان سیاست دان ہیں جنھوں نے دسمبر 2001ء سے ستمبر 2014ء تک افغانستان کی قیادت کی: عبوری انتظامیہ کے سربراہ، پھر عبوری صدر، پھر ملک کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر، 2004ء اور 2009ء کے انتخابات کے فاتح۔ وہ پوپلزئی درانی پشتون ہیں اور اپنے والد کے بعد پوپلزئی قبیلے کے سردار بھی ہیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    کرزئی قندھار کے قریب گاؤں کرز میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد عبد الاحد کرزئی افغان پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر تھے۔ انھوں نے کابل کے حبیبیہ ہائی اسکول سے 1976ء میں تعلیم مکمل کی اور 1983ء میں بھارت کی ہماچل پردیش یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات اور سیاسیات میں ماسٹرز کیا۔ 1 3

    چندہ مہم، نائب وزیر اور 2001ء

    سوویت افغان جنگ کے دوران کرزئی پاکستان میں مجاہدین کے لیے چندہ اکٹھا کرتے رہے۔ 1992ء میں وہ برہان الدین ربانی کی حکومت میں نائب وزیر خارجہ رہے۔ جولائی 1999ء میں ان کے والد کوئٹہ میں قتل ہوئے اور حامد پوپلزئی کے سردار بنے۔ 2001ء کے اواخر میں انھوں نے قندھار کے گرد طالبان کے خلاف بغاوت کی قیادت کی، اور بون کانفرنس نے 22 دسمبر 2001ء کو انھیں افغان عبوری انتظامیہ کا سربراہ بنا دیا۔ 1 2

    صدارت

    کرزئی جون 2002ء میں عبوری صدر بنے، 2004ء کے صدارتی انتخاب میں 55.4 فیصد ووٹوں سے کامیاب ہوئے، 2009ء میں دوبارہ منتخب ہوئے اور 29 ستمبر 2014ء تک صدر رہے، جب اشرف غنی ان کے جانشین بنے۔ انگریزی مضمون درج کرتا ہے کہ ان کی حکومت پر بین الاقوامی تنقید کا مرکز طالبان حملوں سے ملک کو محفوظ بنانے میں ناکامی، حکومتی بدعنوانی کا نظام، اور 2009ء کے انتخاب میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کے دعوے تھے؛ کرزئی نے جواب دیا کہ رائے شماری پر تنقید کے بعض بیانات «بالکل من گھڑت» تھے، البتہ انھوں نے دھاندلی اور بے قاعدگیوں کے واقعات تسلیم کیے، اور 2019ء کی واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے حوالے سے ان کی حکومت کو بدعنوان اور امریکا کی برداشت کردہ کہا گیا ہے۔ مضمون کے آغاز میں یہ بھی درج ہے کہ ان پر بدعنوانی کا الزام لگا۔ یہ سب یہاں مضمون کی منسوب تنقید اور ان کے درج شدہ جوابات کے طور پر پیش ہے، نہ کہ ثابت شدہ نتائج کے طور پر۔ 1

    صدارت کے بعد

    2021ء میں طالبان کے قبضے کے بعد کرزئی کابل ہی میں رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے شہر کو طاقت سے نہیں لیا بلکہ افراتفری روکنے کے لیے انھیں دعوت دی گئی تھی، اور نئی حکومت کو بین الاقوامی تسلیم کے لیے داخلی جواز چاہیے، جو عام انتخابات یا لویا جرگہ سے حاصل ہو سکتا ہے۔ 1

    مذہبی ریکارڈ

    کرزئی کے مسلک کا نام صرف ایک ساختی قدر لیتی ہے: عربی مضمون کے معلوماتی خانے میں ان کا مذہب اسلام سنی درج ہے، یہی قدر دوسری طبعات میں بھی منعکس ہے۔ اردو مضمون کے معلوماتی خانے میں مذہب کی کوئی قدر نہیں، اور کسی مضمون کا متن ان کا مذہب نہیں بتاتا؛ انگریزی مضمون کا مذہبی مواد ان کی حکومت کے شیعہ پرسنل اسٹیٹس قانون اور طالبان کو اپنا بھائی کہنے سے متعلق ہے، جو ریاستی پالیسی اور سیاسی حکمت عملی ہے۔ عجائب گھر کے دو ذرائع کے اصول کے تحت ان کا مذہب نامعلوم درج ہے اور ساختی شہادت ڈیٹا فائل میں محفوظ ہے تاکہ مؤسس فیصلہ کر سکے۔ 1 3 2

    Sources

    • The defined source entities cited above, recorded in data/source/.
    • Revisions of this article must be dated, and must name the source that changed each fact.

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Lived in
    كابل

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    فتح كابل وإسلام ملكها في أيام المأمون· نكث أهل كابل ومقتل يزيد بن زياد· إذعان كابل شاه للمأمون· سيرة ابن سمرة إلى كابل· عبد اللہ عبد اللہ· احمد شاہ مسعود· اشرف غنی· برہان الدین ربانی

    ماخذ

    1. Hamid Karzai — English Wikipedia
    2. Hamid Karzai — Urdu Wikipedia
    3. Hamid Karzai — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حامد کرزئی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hamid-karzai/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    فتح كابل وإسلام ملكها في أيام المأمون

    The Mahdi's and Rashid's agents took Sijistan's atawa from Rutbil as strength allowed, posting their own men over the marches Islam had lost. Under al-Ma'mun at Khurasan the atawa came doubled, Kabul was opened, its king showed Islam and obedience, the governor's agent entered, the post-road was joined, and fresh myrobalan was sent him from it — and the land held steady for a time.