حیدر العبادی

حيدر العبادي

بغداد

حیدر جواد کاظم العبادی (پیدائش 25 اپریل 1952ء) ایک عراقی سیاست دان ہیں جو 8 ستمبر 2014ء سے 25 اکتوبر 2018ء تک عراق کے وزیرِ اعظم رہے اور داعش کے خلاف جنگ میں ملک کی قیادت کی، دسمبر 2017ء میں اس پر حتمی فتح کا اعلان کیا۔ وہ بغداد اور مانچسٹر سے تعلیم یافتہ الیکٹریکل انجینئر ہیں، 1967ء میں حزب الدعوۃ میں شامل ہوئے، برطانیہ میں جلاوطنی گزاری اور 2003ء–2004ء میں وزیرِ مواصلات رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

مکان میں

بغداد

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور جلاوطنی

    العبادی بغداد میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد نیورو سرجری ہسپتال کے ڈائریکٹر اور وزارتِ صحت کے انسپکٹر جنرل تھے جنہیں 1979ء میں بعثی حکومت نے جبری ریٹائر کیا۔ انہوں نے 1970ء میں بغداد کے مرکزی ہائی اسکول سے فارغ التحصیل ہوئے، 1975ء میں یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی ڈگری اور 1980ء میں مانچسٹر یونیورسٹی سے اسی شعبے میں ڈاکٹریٹ حاصل کی۔ وہ 1967ء میں حزب الدعوۃ الاسلامی میں شامل ہوئے؛ ان کے دو بھائیوں کو پھانسی دی گئی اور تیسرے کو پارٹی رکنیت پر قید کیا گیا۔ 1977ء سے انہوں نے برطانیہ میں پارٹی کی تنظیم چلائی اور 2003ء کے حملے تک لندن میں جلاوطن رہ کر نقل و حمل کی انجینئرنگ اور مشاورت میں کام کیا۔ 1

    واپسی اور پارلیمان

    2003ء کے بعد العبادی پہلی صدّام بعد حکومت میں وزیرِ مواصلات رہے (2003ء–2004ء)، 2005ء میں وزیرِ اعظم کے مشیر بنے، پھر بغداد سے پارلیمان کے رکن ہوئے اور اقتصادی و مالیاتی کمیٹیوں کی صدارت کی۔ 2006ء اور 2010ء میں ان کا نام وزیرِ اعظم کے امیدوار کے طور پر لیا گیا۔ 1

    وزارتِ عظمیٰ

    صدر فؤاد معصوم نے 11 اگست 2014ء کو العبادی کو حکومت بنانے کی دعوت دی، جب شیعہ سیاسی جماعتوں نے انہیں نور المالکی کے متبادل کے طور پر نامزد کیا؛ پارلیمان نے 8 ستمبر 2014ء کو ان کی حکومت کی منظوری دی۔ ان کی مدت پر داعش کے خلاف جنگ چھائی رہی: انہوں نے حکومت میں سنی شرکت بڑھائی، دسمبر 2014ء میں کردوں کے ساتھ محصولات کی تقسیم کا معاہدہ کیا، فوج کی تنخواہوں میں 50,000 «بھوت سپاہی» بے نقاب کیے اور اگست 2015ء میں بدعنوانی کے خلاف اصلاحاتی منصوبہ پیش کیا۔ اپریل 2016ء میں مقتدیٰ الصدر کے حامیوں نے پارلیمان پر دھاوا بولا۔ 9 دسمبر 2017ء کو انہوں نے داعش پر فتح اور جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا۔ ٹائم رسالے نے انہیں 2018ء کے سو بااثر ترین افراد میں شمار کیا۔ 25 اکتوبر 2018ء کو عادل عبد المہدی ان کے جانشین بنے۔ ان کے پیش رو المالکی اور جانشین عادل عبد المہدی، دونوں کے عجائب گھر میں کوئی ریکارڈ نہیں، اس لیے جانشینی کا کوئی ربط نہیں لکھا گیا۔ 1 2

    مذہب

    ان کا مذہب نامعلوم درج ہے۔ انگریزی مقالہ کہتا ہے کہ وہ شیعہ والدین کے ہاں پیدا ہوئے، جو خاندانی پس منظر ہے؛ عربی و اردو معلوماتی خانوں میں مذہب شیعہ اسلام درج ہے اور ویکی ڈیٹا بھی یہی عمومی قیمت رکھتا ہے، مگر یہ خانے اور ان کا ساختی عکس ایک ہی خاندان ہیں، اور ان کی دعوۃ پارٹی رکنیت اور شیعہ جماعتوں کی نامزدگی حزبی امور ہیں، ذاتی شہادت نہیں۔ 1 2 3

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    بغداد

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    المدرسة النظامية ببغداد· بيت الحكمة (خزانة الحكمة)· البيمارستان العضدي· المارستان المقتدري· مارستان السيدة· دار العلم ببغداد (دار العلم السابورية)· جامع القطيعة ببغداد· جامع قطيعة أم جعفر

    ماخذ

    1. Haider al-Abadi — English Wikipedia
    2. Haider al-Abadi — Arabic Wikipedia
    3. Haider al-Abadi — Wikidata Q5639013
    • Haider al-Abadi — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حیدر العبادی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/haider-al-abadi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    المدرسة النظامية ببغداد

    The Nizamiyya of Baghdad, first and most famous of the madrasas founded by the vizier Nizam al-Mulk al-Tusi: building began in 457 and sisters rose at Nishapur, Isfahan, Herat, Basra, Mosul and Amid; the Imam al-Haramayn al-Juwayni then Abu Ishaq al-Shirazi taught in it, and it mothered the Sunni institutional model that the later madrasas of Baghdad followed — the caliphs prayed there and Nizam al-Mulk himself visited to inspect its library.