فاطمہ مرنیسی

فاطمة المرنيسي

–

فاس

مراکشی ماہرِ عمرانیات اور مصنفہ، جو 1940 میں فاس میں پیدا ہوئیں اور دادی کے حرم میں پلی بڑھیں؛ رباط، پیرس اور برینڈائس یونیورسٹی سے تعلیم پائی اور «پردے کے پیچھے»، «حجاب اور مرد اشرافیہ» اور «بھولی بسری سلطانائیں» جیسی کتابوں سے اسلامی نسائیت کی بانی شخصیات میں شمار ہوئیں؛ 2015 میں رباط میں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
sociologist · writer · activist
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس کیارستمی · عبد العزیز بوتفلیقہ · عبدالرحمن یوسفی · عبد القدیر خان · عبد الستار ایدھی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    موجز

    فاطمہ مرنیسی (27 ستمبر 1940 – 30 نومبر 2015) مراکشی ماہرِ عمرانیات اور مصنفہ تھیں، جو فاس میں پیدا ہوئیں اور اپنی متمول دادی کے حرم میں پلی بڑھیں۔ 1 2

    وہ اسلامی نسائیت کی بانی شخصیات میں سے ہیں: ایک ایسی محقق جنہوں نے اسلامی روایت کے اندر رہ کر دلیل دی کہ خواتین کی پسماندگی قرآن سے نہیں بلکہ ہیرا پھیری شدہ تاریخ اور متنازع روایات سے آتی ہے، اور جن کی کتابوں نے مسلم معاشروں میں خواتین کے مطالعے کو نئی سمت دی۔ 1

    انہیں 2003 میں امیرِ آستوریاس ادبی انعام اور 2004 میں اراسموس انعام ملا۔ 1

    زندگی اور تعلیم

    وہ 27 ستمبر 1940 کو فاس میں پیدا ہوئیں اور دادی کے حرم میں مختلف خواتین رشتہ داروں اور نوکرانیوں کے درمیان پرورش پائی — وہی دنیا جو بعد میں ان کی یادداشت «تجاوز کے خواب» میں جلوہ گر ہوئی۔ ابتدائی تعلیم قوم پرست تحریک کے قائم کردہ اسکول میں اور ثانوی تعلیم فرانسیسی سرپرستی کے مالی تعاون سے چلنے والے لڑکیوں کے اسکول میں حاصل کی۔ 1

    انگریزی مقالے کے مطابق انہوں نے 1959 میں جامعہ محمد پنجم سے سیاسیات شروع کی، 1966 میں سوربون اور 1970 میں برینڈائس یونیورسٹی گئیں جہاں 1973 میں ڈاکٹریٹ مکمل کی؛ عربی و اردو مقالے سوربون 1957 اور ڈاکٹریٹ 1974 بتاتے ہیں، اور یہ اختلاف ریکارڈ میں درج ہے۔ 1 2

    1974 تا 1981 وہ رباط کی جامعہ محمد پنجم میں طریقیات، خاندانی عمرانیات اور نفسیاتی عمرانیات پڑھاتی رہیں اور اسی جامعہ کے تحقیقی ادارے میں ریسرچ اسکالر رہیں؛ یونیسکو، عالمی محنت تنظیم اور مراکشی حکومت کے لیے عمرانی تحقیق بھی کی۔ 1 2

    تصانیف اور خیالات

    ان کی پہلی کتاب «پردے کے پیچھے: مسلم معاشرے میں مرد و زن کی حرکیات» (1975) ان کے ڈاکٹریٹ مقالے سے بنی اور عرب دنیا و مسلم معاشروں میں خواتین پر عمرانیات و بشریات کی کلاسیکی کتاب بن گئی۔ 1

    اسلامی نسائیت پسند کے طور پر انہوں نے اسلامی فکر کی تاریخی نشوونما کا جائزہ لیا اور خلافت کے سوال کی تفصیلی چھان بین سے بعض احادیث کے صحت مند ہونے پر سوال اٹھایا — اور یوں خواتین کی اس پسماندگی کی بنیاد کمزور کی جو اسلام میں دیکھی جاتی ہے، مگر ضروری نہیں کہ قرآن میں ہو۔ 1

    ان کی مشہور ترین کتاب «حجاب اور مرد اشرافیہ» (فرانسیسی 1987؛ انگریزی 1991) نبی کی ازواج کے کردار کا مطالعہ ہے، جو بعد میں مراکش، ایران اور خلیجی عرب ریاستوں میں ممنوع قرار پائی۔ «بھولی بسری سلطانائیں» (1990) میں انہوں نے قبل از جدید اسلام کی پندرہ خواتین حکمرانوں و سیاسی شخصیات کو اجاگر کیا، اور «اسلام اور جمہوریت» (1992) میں پوچھا کہ بنیاد پرستی جمہوریت سے کبھی ہم آہنگ ہو سکتی ہے یا نہیں۔ 1

    انہوں نے فاطمہ آئیت صباح کے قلمی نام سے بھی لکھا، اور «روزمرہ کی جدوجہد» (1991) میں کسان و مزدور خواتین کے انٹرویو پیش کیے۔ شہری زندگی میں انہوں نے «شہری قافلے» اور «خواتین، خاندان، بچے» گروپ کی بنیاد رکھی، جیسا کہ عربی مقالہ بتاتا ہے۔ 1 2

    عقیدہ و نسبت

    یہ حصہ مآخذ میں درج ان کے عقیدے کو بیان کرتا ہے؛ یہ میوزیم کا فیصلہ نہیں۔

    ویکی ڈیٹا اور عربی مقالے کا معلوماتی خانہ ان کا مذہب اسلام بتاتے ہیں، کسی فرقے یا فقہی مسلک کا نام لیے بغیر۔ 3 2

    انگریزی مقالہ انہیں ایک اسلامی نسائیت پسند کے طور پر پیش کرتا ہے جو اسلامی عقیدے کو اپنائے ہوئے اس کی پدرانہ تعبیرات سے بحث کرتی رہیں؛ ان کے بقول مقدس متون میں ہیرا پھیری مسلم معاشروں میں اقتدار کی ساختی خصوصیت رہی ہے، جیسا کہ نیویارک ٹائمز نے ان کے انتقال پر نقل کیا۔ 1

    کسی ماخذ نے ان کا کوئی فقہی مسلک نہیں بتایا، اس لیے میوزیم ان کا عقیدہ «نامعلوم» درج کرتا ہے۔ 3 1

    وفات اور ورثہ

    ان کا انتقال 30 نومبر 2015 کو رباط میں ہوا؛ 2017 میں مشرقِ وسطیٰ مطالعات کی انجمن نے ان کے نام سے کتابی انعام قائم کیا۔ 1 3

    المراجع

    • انگریزی ویکیپیڈیا کا مقالہ (نظرثانی 1379690558)؛ عربی ویکیپیڈیا کا مقالہ (نظرثانی 77056601)؛ اردو ویکیپیڈیا کا مقالہ (نظرثانی 10953622)؛ ویکی ڈیٹا مد Q242376۔ تعلیم کے سلسلے اور پیدائش کے دن (27 یا 28 ستمبر) میں مآخذ کا اختلاف ریکارڈ میں درج ہے؛ بریٹانیکا کا مرنیسی مدخل جانچ کے دن 404 لوٹا، اس لیے استعمال نہیں ہوا۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    فاس

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    فاس الجديد· دخول العثمانيين فاس (٩٦٤هـ/١٥٥٤م)· سقوط فاس (١٥٧٦)· حادثة فاس الكبرى سنة 813هـ· إدريس الثاني يبني فاس· فاطمة الفهرية تؤسس جامع القرويين· فاس

    ماخذ

    1. Fatema Mernissi — English Wikipedia
    2. Fatema Mernissi — Arabic Wikipedia
    3. Fatema Mernissi — Wikidata Q242376
    • Fatema Mernissi — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “فاطمہ مرنیسی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/fatema-mernissi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    فاس الجديد

    The New Town of Fes; when the rebellion's west subsided and Sultan Abu Yusuf Ya'qub ibn Abd al-Haqq's kingship ran steady with a great retinue and many incomers, he chose to lay out a separate city for his residence and armies beside old Fes — Fes Jdid, the Marinids' royal seat — and afterwards ordered the qasba of Miknasa built.