ایک نظر میں
- کردار
- عالم · واعظ
- خطہ
- south-asia · americas-oceania
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
فرحت ہاشمی پاکستانی کینیڈیائی عالمہ اور داعیہ ہیں، اور الہدٰی انٹرنیشنل ویلفیئر فاؤنڈیشن کی بانی ہیں۔ 1 وہ 1957 میں سرگودھا میں پیدا ہوئیں، گلاسگو یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں تدریس کی، اور الہدٰی کو پاکستان، کینیڈا اور دیگر ممالک میں خواتین کو قرآن و حدیث سکھانے والے مدارس کے جال میں بدل دیا۔ 1 2
زندگی اور سفر
ہاشمی 22 دسمبر 1957 کو سرگودھا، پنجاب میں پیدا ہوئیں؛ ان کے والد عبد الرحمن ہاشمی عالم اور جماعتِ اسلامی پاکستان کے مقامی رہنما تھے، اور ان کی ابتدائی دینی تعلیم گھر پر ہوئی۔ 1 انہوں نے سرگودھا کے گورنمنٹ کالج برائے خواتین میں تعلیم حاصل کی اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے عربی میں ماسٹرز کیا؛ وہ اور ان کے شوہر، محدث محمد ادریس زبیر، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں لیکچرار رہے، پھر دونوں اسلامی علوم میں ڈاکٹریٹ کے لیے اسکاٹ لینڈ گئے اور گلاسگو یونیورسٹی سے سند لی۔ 1 2 یونیورسٹی میں تدریس کے دوران انہوں نے خواتین کے لیے غیر رسمی دینی دروس شروع کیے تھے، اور 1994 میں الہدٰی انٹرنیشنل کی بنیاد رکھی — ایک فلاحی ٹرسٹ جو خواتین کو قرآن و حدیث سمجھنا اور روزمرہ زندگی میں اس پر عمل کرنا سکھاتا ہے؛ اس کے ڈپلومہ اور سرٹیفکیٹ یافتگان دسیوں ہزار میں ہیں اور اس کے دروس میں دس ہزار تک کے مجمعے ہوتے ہیں۔ 1 2 فاؤنڈیشن نے 2004 میں کینیڈا کے شہر مسی ساگا میں الہدٰی انسٹی ٹیوٹ کھولا، اور وہ 2005 میں کینیڈا منتقل ہو گئیں۔ 1 وہ جیو ٹی وی پر دینی پروگراموں کی پیش کار بنیں — «شہرِ رمضان» اور «فہم القرآن» — ہمیشہ پردے میں اور اپنے لیپ ٹاپ سے درس دیتیں، ایک ایسی تصویر جسے علمی تحریروں نے روایت پسندی اور میڈیا مہارت کا امتزاج کہا ہے۔ 1 وہ «دی مسلم 500» میں بھی شامل ہیں۔ 1
مواقف اور عقیدہ
اس حصے کو عجائب گھر کے فیصلے کے طور پر نہیں بلکہ ذرائع کی پیش کش کے طور پر پڑھا جائے۔
ہاشمی اپنے مشن کو بنیادی نصوص کی براہِ راست سمجھ کے ذریعے اسلام کی تجدید قرار دیتی ہیں: وہ اپنی طالبات کو مضبوط دلیل کے ساتھ قرآن کی خود تفسیر کی ترغیب دیتی ہیں، خواتین کی روزمرہ دینی زندگی میں شرکت کی حامی ہیں — بشمول گھر سے باہر نماز اور خواتین کی اپنی نمازوں کی امامت — اور ایسے مواقف رکھتی ہیں جیسے سیکھنے یا سکھانے کے وقت دستانے پہن کر حیض کے دوران قرآن کو چھونے اور پڑھنے کی اجازت۔ 1 ان کی تعلیم دو مخالف سمتوں سے تنقید کا نشانہ بنی: قدامت پسند علما جو سرے سے مانتے ہی نہیں کہ عورت عالم اور مفسر ہو سکتی ہے، اور لبرل و سیکولر نقاد جو ان کے عقائد کو سخت گیر کہتے ہیں اور تعددِ ازواج کے دفاع پر اعتراض کرتے ہیں۔ 1 وابستگی کے معاملے میں ریکارڈ دانستہ غیر جانبدار ہے: انگریزی مضمون کے انفوباکس میں ان کے عقیدے کا خانہ خالی ہے، اس کے زمرے انہیں کینیڈا اور پاکستان کے سلفیوں میں رکھتے ہیں، راحیل رضا جیسے نقادوں نے انہیں وہابی کہا ہے، اور وہی مضمون — اکبر احمد کے حوالے سے — بیان کرتا ہے کہ ہاشمی اور الہدٰی کہتے ہیں کہ وہ کسی مخصوص معاصر مسلک کے پیرو نہیں اور خود کو صرف مسلمان کہتے ہیں۔ 1 زمروں میں درج کرنا اور مخالفوں کے القاب ثبوت نہیں ہوتے، اور ان کے والد کی جماعتِ اسلامی کی قیادت خاندانی پس منظر ہے؛ کوئی دو آزاد ذرائع ان کے لیے ذاتی طور پر کوئی مسلک مقرر نہیں کرتے، اس لیے ان کے لیے کوئی مذہبی قدر درج نہیں کی گئی۔ 1 3
حوالہ جات
- اوپر مذکور معرّف ذرائع، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی بعد کی ترجمہ و تدوین کو واضح تاریخوں کے ساتھ دورانیہ جائزے کی ضرورت ہے۔
تعلقات
- Parent of
- تیمیہ زبیر
- Taught
- تیمیہ زبیر
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Farhat Hashmi — English Wikipedia
- Farhat Hashmi — Urdu Wikipedia
- Farhat Hashmi — Wikidata Q5435184
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “فرحت ہاشمی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/farhat-hashmi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.