میر نظام علی خان، آصف جاہ ثانی

مير نظام علي خان، آصف جاه الثاني

–

حيدر آباد الدكن

میر نظام علی خان، آصف جاہ ثانی (7 مارچ 1734ء – 6 اگست 1803ء)، 1762ء سے 1803ء تک حیدر آباد کے نظام اور ریاست کے بانی آصف جاہ اول کے چوتھے فرزند تھے۔ انھوں نے مرہٹوں سے طویل جنگوں کے ذریعے دکن میں ریاست کی طاقت مستحکم کی، اور میسور کے زوال کے بعد 1798ء میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی سے ذیلی اتحاد کیا جس سے حیدر آباد ہندوستان کی سب سے بڑی نوابی ریاست بن گئی۔ ان کا انتقال حیدر آباد کے چومحلہ محل میں ہوا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
sultan
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata

وقت میں زندگی

1675عیسوی1700عیسوی1725عیسوی1750عیسوی1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: عبد القادر کان · عبد العزیز بن محمد بن سعود · حمدان خوجة · احمد پاشا الجزار · میر تقی میر

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    میر نظام علی خان، آصف جاہ ثانی (7 مارچ 1734ء – 6 اگست 1803ء) 8 جولائی 1762ء سے 1803ء تک حیدر آباد کے نظام تھے، ریاست کے بانی آصف جاہ اول اور عمدہ بیگم کے چوتھے فرزند 1.

    دکن کی جنگیں اور انگریزی اتحاد

    نظام بننے سے پہلے وہ مرہٹوں کے خلاف دکن کے نمایاں سپہ سالار کے طور پر شہرت پا چکے تھے؛ پھر انھوں نے بیدر فتح کیا، اپنے بھائی صلابت جنگ کو گرفتار کیا اور مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی نے انھیں دکن کا صوبیدار مقرر کر دیا 2۔ ان کا طویل دور پیشوا مرہٹوں سے جنگوں سے بھرا رہا — 1795ء میں کھردہ کی شکست پر انھیں دولت آباد، اورنگ آباد اور شولاپور چھوڑنے اور بھاری تاوان دینا پڑا — اور فرانسیسی افسر موسیو ریمون کی کمان میں ایک دستہ ان کی عسکری طاقت کا سہارا رہا 2۔ ٹیپو سلطان کے زوال کو قریب دیکھ کر انھوں نے 1798ء میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی سے ذیلی اتحاد کر لیا، اور حیدر آباد، جو رقبے اور آبادی میں برطانیہ کے برابر ریاست تھی، برطانوی راج کی نوابی ریاست بن گئی 2۔ ان کا انتقال 6 اگست 1803ء کو انہتر برس کی عمر میں حیدر آباد کے چومحلہ محل میں ہوا 2 1.

    مسلک

    ان کا مسلک نامعلوم درج ہے۔ کوئی ماخذ جو پڑھا گیا، ان کے لیے ذاتی طور پر کسی مذہب یا سلسلے کا نام نہیں لیتا — انگریزی مقالے کے معلوماتی خانے میں مذہب کا خانہ ہی نہیں، عربی اور اردو مقالے ان کے مذہب پر خاموش ہیں، اور ویکی ڈیٹا صرف اسلام دیتا ہے 2 3۔ آصف جاہی خاندان کا سنی ہونا خاندانی سیاق ہے جو ذاتی شہادت شمار نہیں ہوتا۔

    محققین کے لیے نوٹس

    انگریزی مقالہ، عربی مقالہ اور ویکی ڈیٹا ان کی ولادت (7 مارچ 1734ء، اردو مقالے میں 1 شوال 1146ھ کے مطابق) اور وفات (6 اگست 1803ء) دونوں میں یومی درستگی پر متفق ہیں 2 4 3۔ پڑھے گئے کسی ماخذ میں ولادت کا سال 1727 نہیں ملا جو بعض پرانی فہرستوں میں آتا ہے۔ والد آصف جاہ اول اور حیدر آباد سے ان کے تعلقات اسی ریکارڈ میں درج ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    آصف جاه الأول
    Born in
    حيدر آباد الدكن
    Died in
    حيدر آباد الدكن

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    عبد اللہ قطب شاہ· امیر مینائی· چراغ علی· داغ دہلوی· محسن الملک· محمد قلی قطب شاہ· نظام الدین احمد حسینی· شاہ راجو (حیدرآباد کے صوفی بزرگ)

    ماخذ

    1. علی خان آصف جاہ ثانی — Urdu Wikipedia
    2. Nizam Ali Khan, Asaf Jah II — English Wikipedia
    3. Asaf Jah II of Hyderabad — Wikidata Q720294
    4. نظام علي خان، آصف جاه الثاني — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “میر نظام علی خان، آصف جاہ ثانی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/asaf-jah-ii/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    عبد اللہ قطب شاہ

    گولکنڈہ کے سلطان (1626–72ء)، جنہوں نے 1636ء کا «انقیاد نامہ» قبول کیا جس سے ان کی سلطنت مغل زیرِ حمایت بن گئی؛ ان کے دور میں گولکنڈہ کی مصوری میں مغل اثر آیا، اور شاہکار لینن گراڈ میں «ہاتھی پر ان کا جلوس» ہے ۔