چراغ علی

شيراغ علي

–

حيدر آباد الدكن

ہندوستانی مسلمان عالم (1844–1895)، علی گڑھ حلقے سے وابستہ، سر سید احمد خان کے رفیق اور نظام حیدر آباد کی حکومت کے اعلیٰ اہلکار؛ ان کی کتاب «اے کرٹیکل ایکسپوزیشن آف دی پاپولر جہاد» (1885) میں استدلال ہے کہ نبی کی تمام جنگیں دفاعی تھیں، اور «مجوزہ سیاسی، قانونی و سماجی اصلاحات» (1883) ان کا جدیدیت پسند پروگرام ہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · writer
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1820عیسوی1830عیسوی1840عیسوی1850عیسوی1860عیسوی1870عیسوی1880عیسوی1890عیسوی1900عیسوی1910عیسوی1920عیسوی1930عیسوی1940عیسوی
العصر الاستعماري · العصر الحديث ہم عصر: عبد الرزاق البيطار · أحمد الناصري السلاوي · احمد بن خالد ناصری · احمد عرابی · احمدو تال

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    مولوی چراغ علی (1844–1895) انیسویں صدی کے اواخر کے ایک ہندوستانی مسلمان عالم، علی گڑھ حلقے میں سر سید احمد خان کے رفیق اور برطانوی ہند میں مسلم جدیدیت کی نمایاں آواز تھے۔ 1 انہوں نے «اے کرٹیکل ایکسپوزیشن آف دی پاپولر جہاد» اور «مجوزہ سیاسی، قانونی و سماجی اصلاحات بر حکومت اسلامی» جیسی تصانیف میں قرآن کے بارے میں اصلاحی فکر پیش کی اور حدیث پر نقد کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ 1

    زندگی

    وہ 1844 میں میرٹھ میں ایک کشمیری النسل خاندان میں پیدا ہوئے، تین بھائیوں میں سب سے بڑے تھے؛ والد محمد بخش کا انتقال اس وقت ہوا جب وہ بارہ برس کے تھے، اور ان کی تعلیم خصوصی طور پر گھر پر ہوئی جہاں انہوں نے فارسی، عربی، انگریزی، فرنچ، عبرانی، ارامی، لاطینی اور یونانی زبانیں حاصل کیں۔ 1 2 ابتدائی ملازمت گورکھپور میں کلرکی اور لکھنؤ میں کلیکٹری رہی؛ سر سید احمد خان کی سفارش پر نظام حیدر آباد کی حکومت میں ملازم ہوئے — وزیر اعظم سالار جنگ اول کو مترجم درکار تھا اور اس کے لیے انہی کو بلایا گیا۔ 1 وہ 1874 میں سر سید سے ملے اور عمر بھر ان کے ساتھی اور علی گڑھ تحریک کے حامی رہے، تاہم حیدر آباد میں سیاسی عمل سے دور رہے اور اپنی کتابوں کو اپنی ترجمانی کرنے دی۔ 1 1888 میں انہیں «اعظم یار جنگ» کا خطاب ملا۔ 1 ان کا انتقال 1895 میں علاج کے دوران 51 برس کی عمر میں ہوا اور وہ بمبئی میں مدفون ہیں۔ 1

    فکر اور جائزے

    یہ جائزے ذرائع کی زبانی ہیں؛ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔ چراغ علی کے نزدیک اسلام اور جہاد کے بارے میں غلط فہمیاں حدیث کے تاریخی ارتقا اور فقہا کے عمل سے پیدا ہوئیں، جنہوں نے ان کے خیال میں قرآن کو نظر انداز یا غلط استعمال کیا؛ اس لیے انہوں نے استدلال کیا کہ نبی کی تمام جنگیں دفاعی، مقامی اور عارضی تھیں، کیونکہ قرآن جارحانہ جنگ کی تعلیم نہیں دیتا۔ 1 ان کا بڑا اردو کارنامہ «اعظم الکلام فی ارتقاء الاسلام» ان کی وفات کے بعد 1910 میں چھپا۔ 1 تحقیق انہیں مسلم جدیدیت کے نمائندے کے طور پر پیش کرتی ہے — کورزمان کی مرجع کتاب انہیں جدیدیت پسندوں میں شمار کرتی ہے — جبکہ حدیث پر ان کا تشکک اور جہاد کی دفاعی تعریف روایتی فقہا کے ہاں متنازع رہی۔ 1

    تصانیف

    اہم تصانیف: «مجوزہ سیاسی، قانونی و سماجی اصلاحات» (1883)، «حیدر آباد (دکن) تحت سر سالار جنگ» تین جلدیں (1884–1886)، «اے کرٹیکل ایکسپوزیشن آف دی پاپولر جہاد» (1885)، اور «اعظم الکلام فی ارتقاء الاسلام» دو جلدیں (بعد از وفات، 1910)۔ 1

    حوالہ جات

    • اردو متعلقہ ماخذ: انگریزی ویکیپیڈیا، "Chiragh Ali"، نظرثانی 1362332749۔ 1
    • عربی ویکیپیڈیا، «شيراغ علي»، نظرثانی 73778242۔ 3
    • ویکی ڈیٹا، Q5101801۔ 2

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Lived in
    حيدر آباد الدكن

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    امیر مینائی· داغ دہلوی· حيدر آباد الدكن

    ماخذ

    1. Chiragh Ali — English Wikipedia
    2. Chiragh Ali — Wikidata Q5101801
    3. Chiragh Ali — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “چراغ علی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/chiragh-ali/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    امیر مینائی

    لکھنؤ کے اردو شاعر (1828ء–1900ء)، ماہر لسانیات و لغت نگار۔ فرنگی محل سے تعلیم پائی، رام پور میں ریاست کی لائبریری کے نگران اور نواب کے استاد مقرر ہوئے، غالب کے بعد یہ منصب انہیں ملا، اور لغت «امیر اللغات» کی اشاعت کی کوشش میں حیدر آباد گئے جہاں انتقال ہوا۔ اردو نعت کے اولین شعرا میں شمار ہوتے ہیں اور چالیس سے زائد کتابیں چھوڑیں۔