داغ دہلوی

داغ دهلوي

–

دلهي → حيدر آباد الدكن

دہلی کے اردو غزل گو شاعر (1831ء–1905ء)، ولادتاً نواب مرزا خاں، قلعہ معلی میں پرورش پائی اور ذوق و غالب سے فیض حاصل کیا۔ چوبیس سال رام پور میں رہے، پھر نظامِ حیدر آباد کے درباری شاعر اور استاد بنے۔ سادہ و شستہ زبان کی عشقیہ غزل، چار دواوین اور ہزاروں اشعار اور بے شمار شاگرد ان کی پہچان ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: المامی سولوکو · الفا یایا ڈیالو · ہاشم جلیل العالم اقام الدین · حسين أفندي قايبوف · جاسم بن محمد الثانی

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی

    وہ دہلی کے چاندنی چوک کے کوچہ استاد داغ میں پیدا ہوئے؛ والد نواب شمس الدین احمد خان لوہارو اور فیروزپور جھرکا کے حاکم تھے اور والدہ وزیر خانم دہلی کے ایک جوہری کی بیٹی تھیں 1۔ والد کو برطانوی افسر ولیم فریزر کے قتل کی سازش کے الزام میں پھانسی دی گئی، پھر والدہ نے مغل ولی عہد مرزا فخرو سے شادی کر لی، یوں بچے کی پرورش قلعہ معلی میں امتیازی ماحول میں ہوئی 12۔ وہاں انہیں شاعرِ دربار محمد ابراہیم ذوق کی تربیت ملی اور بعد میں انہوں نے غالب سے اردو ادب و شاعری کی باریکیوں میں رہنمائی لی؛ خطاطی اور گھڑ سواری کی تربیت بھی پائی 1۔

    رام پور اور حیدر آباد

    انہوں نے دس سال کی عمر میں شعر کہنا شروع کیا 1۔ 1856ء میں فخرو کی وفات اور 1857ء کے ہنگاموں کے بعد وہ والدہ کے ساتھ دہلی چھوڑ کر ریاست رام پور چلے گئے، جہاں نواب کی خدمت میں داخل ہوئے اور چوبیس سال آرام سے رہے؛ اردو سوانح میں نواب یوسف علی خان اور نواب کلب علی خان کی قدردانی کا ذکر ہے 12۔ 1888ء میں وہ چند ماہ حیدر آباد رہے مگر دربار تک رسائی محدود ہونے پر واپس چلے گئے؛ پھر انہیں دعوت دے کر 1891ء میں ساٹھ سال کی عمر میں چھٹے نظام محبوب علی خان کا درباری شاعر اور استاد مقرر کیا گیا اور انہیں «دبیر الدولہ» اور «بلبلِ ہندوستان» سمیت کئی خطابات ملے 1۔

    ان کی شاعری سے جو تاثر ملتا ہے اس کے برعکس وہ شراب نہیں پیتے تھے بلکہ اس سے پرہیز کرتے تھے 1۔ اس ریکارڈ کے لیے پڑھے گئے کسی متن میں ان کا کوئی مذہب یا مسلک بیان نہیں ہوا؛ مضامین کے زمرے انہیں ہندوستانی مسلمانوں میں رکھتے ہیں، جو محض درجہ بندی ہے، سند نہیں 13۔

    شاعری اور شاگرد

    ان کے کام میں چار مجموعے — «گلزارِ داغ» (1878ء)، «آفتابِ داغ» (1885ء)، «مہتابِ داغ» (1893ء) اور بعد از وفات «یادگارِ داغ» (1905ء) — اور مثنوی «فریادِ داغ» (1882ء) شامل ہیں، جن میں مجموعی طور پر تقریباً سولہ ہزار اشعار ہیں 1۔ وہ دبستانِ دہلی سے وابستہ رہے اور مغربی اثرات کو اپنی شاعری میں راہ نہ دی، اور ان کا سادہ اسلوب عوام و خواص دونوں میں مقبول ہوا 1۔

    ان کے شاگردوں میں محمد اقبال، حسن رضا خان، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی شامل تھے 1۔ ایک مشہور روایت ہے کہ جب ان سے اپنے دور کے سب سے بڑے اردو شاعر کے طور پر جانشین کا نام پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: «دو بیخود»، یعنی بیخود بدایونی اور بیخود دہلوی 1۔ ان کی غزلیں آج بھی برصغیر کے نامور غزل گائیکوں کے فن میں زندہ ہیں 1۔

    وفات

    ان کا انتقال 17 مارچ 1905ء کو حیدر آباد میں فالج کے حملے کے بعد ہوا اور وہ حیدر آباد کے درگاہ یوسفین میں دفن ہوئے 1۔

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    دلهي
    Lived in
    دلهي
    Died in
    حيدر آباد الدكن
    Studied under
    مرزا غالب

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    بہادر شاہ ظفر· مصطفٰی خان شیفتہ· مرزا غالب· دلهي· تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر

    ماخذ

    1. Dagh Dehlvi — English Wikipedia
    2. Dagh Dehlvi — Urdu Wikipedia
    3. Dagh Dehlvi — Wikidata Q2886598
    • Dagh Dehlvi — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “داغ دہلوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/dagh-dehlvi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    بہادر شاہ ظفر

    ہندوستان کے بیسویں اور آخری مغل شہنشاہ (1775ء–1862ء) اور اردو کے شاعر۔ وہ 1837ء میں تخت نشین ہوئے مگر ان کی حکومت صرف پرانی دہلی تک محدود تھی؛ 1857ء کی جنگ میں باغیوں نے انھیں ہندوستان کا شہنشاہ قرار دیا، اور شکست کے بعد انگریزوں نے انھیں رنگون جلاوطن کر دیا جہاں ان کا انتقال ہوا۔ وہ ایک صوفی تھے جن کے مرید تھے، اور ان کا اردو کلام «کلیاتِ ظفر» میں جمع ہوا۔