ایک نظر میں
- کردار
- شاعر
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
ابتدائی زندگی
وہ دہلی کے چاندنی چوک کے کوچہ استاد داغ میں پیدا ہوئے؛ والد نواب شمس الدین احمد خان لوہارو اور فیروزپور جھرکا کے حاکم تھے اور والدہ وزیر خانم دہلی کے ایک جوہری کی بیٹی تھیں 1۔ والد کو برطانوی افسر ولیم فریزر کے قتل کی سازش کے الزام میں پھانسی دی گئی، پھر والدہ نے مغل ولی عہد مرزا فخرو سے شادی کر لی، یوں بچے کی پرورش قلعہ معلی میں امتیازی ماحول میں ہوئی 12۔ وہاں انہیں شاعرِ دربار محمد ابراہیم ذوق کی تربیت ملی اور بعد میں انہوں نے غالب سے اردو ادب و شاعری کی باریکیوں میں رہنمائی لی؛ خطاطی اور گھڑ سواری کی تربیت بھی پائی 1۔
رام پور اور حیدر آباد
انہوں نے دس سال کی عمر میں شعر کہنا شروع کیا 1۔ 1856ء میں فخرو کی وفات اور 1857ء کے ہنگاموں کے بعد وہ والدہ کے ساتھ دہلی چھوڑ کر ریاست رام پور چلے گئے، جہاں نواب کی خدمت میں داخل ہوئے اور چوبیس سال آرام سے رہے؛ اردو سوانح میں نواب یوسف علی خان اور نواب کلب علی خان کی قدردانی کا ذکر ہے 12۔ 1888ء میں وہ چند ماہ حیدر آباد رہے مگر دربار تک رسائی محدود ہونے پر واپس چلے گئے؛ پھر انہیں دعوت دے کر 1891ء میں ساٹھ سال کی عمر میں چھٹے نظام محبوب علی خان کا درباری شاعر اور استاد مقرر کیا گیا اور انہیں «دبیر الدولہ» اور «بلبلِ ہندوستان» سمیت کئی خطابات ملے 1۔
ان کی شاعری سے جو تاثر ملتا ہے اس کے برعکس وہ شراب نہیں پیتے تھے بلکہ اس سے پرہیز کرتے تھے 1۔ اس ریکارڈ کے لیے پڑھے گئے کسی متن میں ان کا کوئی مذہب یا مسلک بیان نہیں ہوا؛ مضامین کے زمرے انہیں ہندوستانی مسلمانوں میں رکھتے ہیں، جو محض درجہ بندی ہے، سند نہیں 13۔
شاعری اور شاگرد
ان کے کام میں چار مجموعے — «گلزارِ داغ» (1878ء)، «آفتابِ داغ» (1885ء)، «مہتابِ داغ» (1893ء) اور بعد از وفات «یادگارِ داغ» (1905ء) — اور مثنوی «فریادِ داغ» (1882ء) شامل ہیں، جن میں مجموعی طور پر تقریباً سولہ ہزار اشعار ہیں 1۔ وہ دبستانِ دہلی سے وابستہ رہے اور مغربی اثرات کو اپنی شاعری میں راہ نہ دی، اور ان کا سادہ اسلوب عوام و خواص دونوں میں مقبول ہوا 1۔
ان کے شاگردوں میں محمد اقبال، حسن رضا خان، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی شامل تھے 1۔ ایک مشہور روایت ہے کہ جب ان سے اپنے دور کے سب سے بڑے اردو شاعر کے طور پر جانشین کا نام پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: «دو بیخود»، یعنی بیخود بدایونی اور بیخود دہلوی 1۔ ان کی غزلیں آج بھی برصغیر کے نامور غزل گائیکوں کے فن میں زندہ ہیں 1۔
وفات
ان کا انتقال 17 مارچ 1905ء کو حیدر آباد میں فالج کے حملے کے بعد ہوا اور وہ حیدر آباد کے درگاہ یوسفین میں دفن ہوئے 1۔
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔
تعلقات
- Born in
- دلهي
- Lived in
- دلهي
- Died in
- حيدر آباد الدكن
- Studied under
- مرزا غالب
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
بہادر شاہ ظفر· مصطفٰی خان شیفتہ· مرزا غالب· دلهي· تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر
ماخذ
- Dagh Dehlvi — English Wikipedia
- Dagh Dehlvi — Urdu Wikipedia
- Dagh Dehlvi — Wikidata Q2886598
- Dagh Dehlvi — Arabic Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “داغ دہلوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/dagh-dehlvi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.