الفا یایا ڈیالو

ألفا يايا ديالو

–

الفا یایا ڈیالو (1830ء – 1912ء)، موجودہ گنی میں فوتا جالون کی اسلامی امامت کی نو صوبوں میں سے ایک لابے کے حکمران، اور اس کے حکمران الفا ابراہیما ڈیالو کے بیٹے۔ فرانسیسی پیش قدمی کے ساتھ وہ ابھرے اور ان سے سمجھوتا کیا؛ 1896ء میں فوتا جالون کی شکست کے بعد 10 فروری 1897ء کے معاہدے نے ان کے علاقوں کو عملاً امامت سے آزاد کر دیا۔ 1904ء میں لابے کا ایک حصہ پرتگالی گنی کو دینے پر تعلقات بگڑ گئے؛ 1905ء میں وہ گرفتار کر کے داہومی جلاوطن کیے گئے، 1910ء میں رہا ہوئے، 1911ء میں دوبارہ گرفتار ہو کر پورٹ ایٹین بھیجے گئے جہاں 1912ء میں وفات پائی — انگریزی مقالے کے مطابق 10 اگست اور فرانسیسی مقالے و وکی ڈیٹا کے مطابق 10 اکتوبر۔ 1968ء میں ان کی باقیات گنی واپس لائی گئیں اور کوناکری کی جامع مسجد کے پاس کامایین مقبرے میں دفن کی گئیں؛ گنی کا قومی ترانہ تقریباً 1903ء میں ان کی مدح میں کہی گئی ایک نظم سے ماخوذ ہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران · military-leader
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: حسين أفندي قايبوف · جاسم بن محمد الثانی · ڈپٹی نذیر احمد · ميرزا أبو تراب آخوندزاده · سلیم البشری

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    الفا یایا ڈیالو (1830ء – 1912ء) موجودہ گنی میں فوتا جالون کی امامت کے صوبے لابے کے حکمران تھے؛ فرانسیسی مقالہ انہیں لابے کے «بادشاہ» کے نام سے معروف فولا جنگجو کہتا ہے۔ 1 انہوں نے آگے بڑھتے فرانسیسیوں سے سمجھوتا کر کے اپنی طاقت بڑھائی، 10 فروری 1897ء کے معاہدے نے ان کے علاقوں کو عملاً امامت سے آزاد کر دیا، پھر 1905ء میں گرفتار ہو کر داہومی جلاوطن ہوئے، 1910ء میں رہا اور 1911ء میں دوبارہ گرفتار ہو کر پورٹ ایٹین بھیجے گئے جہاں 1912ء میں وفات پائی — انگریزی مقالہ وفات 10 اگست اور فرانسیسی مقالہ و وکی ڈیٹا 10 اکتوبر بتاتے ہیں۔ 2 1 3

    زندگی اور عہد

    انگریزی مقالہ ان کی ولادت کا سال نہیں دیتا، صرف یہ کہتا ہے کہ وہ انیسویں صدی کے وسط میں گاؤں فولاموری میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد الفا ابراہیما ڈیالو لابے کے سردار تھے۔ 2 فرانسیسی مقالہ اور وکی ڈیٹا ولادت 1830ء بتاتے ہیں۔ 1 3 1904ء میں فرانس نے لابے کا ایک حصہ پرتگالی گنی کو دے دیا تو تعلقات بگڑ گئے اور اگلے سال وہ گرفتار ہوئے۔ 2 1968ء میں ان کی باقیات گنی واپس لائی گئیں اور کوناکری کی جامع مسجد کے پاس کامایین مقبرے میں دفن کی گئیں؛ گنی کا قومی ترانہ تقریباً 1903ء میں ان کی مدح میں کہی گئی نظم سے ماخوذ ہے اور ملک کا سب سے بڑا فوجی کیمپ ان کے نام پر ہے۔ 2 1

    موقف و نقد

    یہ حصہ مآخذ میں منقول مواقف کی پیشکش ہے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    مآخذ وفات کی تاریخ میں مختلف ہیں اور عجائب گھر یہ اختلاف یوں ہی درج کرتا ہے: فرانسیسی مقالہ اور وکی ڈیٹا 10 اکتوبر 1912ء، انگریزی مقالہ 10 اگست 1912ء۔ 1 3 2 ان کا مذہبی مسلک «نامعلوم» درج ہے، کیونکہ کوئی ماخذ ان کے نام سے کوئی فقہی مذہب یا صوفی سلسلہ منسوب نہیں کرتا؛ فوتا جالون کی ریاست کا اسلام ایک سیاسی حقیقت ہے اور «الفا» کا لقب انہیں والد سے ورثے میں ملا تھا۔ 2 1

    حوالہ جات

    • اوپر درج شدہ معرّف مآخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    ماخذ

    1. Alpha Yaya Diallo — French Wikipedia
    2. Alfa Yaya of Labé — English Wikipedia
    3. Alfa Yaya of Labé — Wikidata Q473154
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “الفا یایا ڈیالو”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/alpha-yaya-diallo/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔