ایک نظر میں
- کردار
- عالم · فقیہ · teacher
- خطہ
- egypt-nile
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
sunni-maliki (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
سلیم البشری — سلیم بن ابی فراج بن سلیم بن ابی فراج البشری — (1832–1917) ایک مصری عالم تھے جو دو بار شیخ الازہر بنے۔ وہ 1248ھ / 1832ء میں بحیرہ کے شبراخیت کے گاؤں محلہ بشر میں ایک خوشحال خاندان میں پیدا ہوئے؛ سات برس کی عمر میں والد کا انتقال ہو گیا، اور نو برس کی عمر میں وہ علم حاصل کرنے قاہرہ گئے — پہلے اپنے گاؤں میں قرآن حفظ کیا، پھر الازہر میں درس لیا، جہاں ابراہیم البیجوری ان کے اساتذہ میں تھے۔ وہ الازہر کے مراتب میں ترقی کر کے 1899–1903 میں اس کے شیخ بنے اور پھر 1909 سے وفات تک دوبارہ رہے۔ وہ چھ بیٹوں کے والد تھے جو علما بنے، جن میں ادیب عبد العزیز البشری مشہور ہیں، اور جج و مورخ طارق البشری کے دادا تھے۔ ان پر اردو ویکیپیڈیا میں کوئی مضمون نہیں؛ یہ صفحہ انگریزی اور عربی مضامین پر مبنی ہے، جو ان کی وفات کے سال میں مختلف ہیں، جیسا کہ ذیل میں بیان ہے۔ 1 2
دو بار شیخ الازہر
وہ ان چھ شخصیات میں سے ایک تھے جنہوں نے الازہر کی مشیخت دو بار سنبھالی۔ عربی مضمون ان کی مدت کو پختگی اور حسن انتظام سے متصف کرتا ہے اور الازہر میں تدریس کے خواہشمندوں کے امتحان کا نظام متعارف کرانے کا سہرا انہی کو دیتا ہے۔ ان کی تصانیف الازہر کے نصاب کے مختلف شعبوں پر ہیں: احمد شوقی کی «نہج البردہ» کی شرح «وضح النہج»، «تحفۃ الطلاب» پر حاشیہ، علی السعدی پر تقریر، شیخ علیش کی عقائد کی رسالے پر حاشیہ، نحو پر ان کی بہت استعمال ہونے والی تصنیف «الاستئناس فی بیان الاعلام و اسماء الاجناس»، اور «عقود الجمان فی عقائد اہل الایمان»۔ ان کا انتقال قاہرہ میں ہوا اور وہ قرافہ سیدہ نفیسہ کے مالکی قبرستان میں دفن ہوئے۔ 2 1
ان کا مکتب
ان کے ریکارڈ میں ان کا ایمان «سنی مالکی» موثق دیا گیا ہے — اور بنیاد وہ ہے جو متن ان شخص کے بارے میں کہتے ہیں، نہ کہ وہ منصب جو انہوں نے سنبھالا۔ انگریزی مضمون انہیں «مصری سنی دینی عالم» اور «ایک نمایاں مالکی عالم» کہتا ہے جو الازہر میں مالکی علما کے سربراہ تھے، اور ان کا نسبہ ہی «المالکی» دیتا ہے۔ عربی مضمون آزادانہ طور پر انہیں «مالکی فقہا میں سے» کہتا ہے، اور اس کا معلوماتی خانہ ان کا عقیدہ «اہل السنہ والجماعہ» دیتا ہے۔ دو آزاد متنوں کا کسی شخص کے انتماء کو ذاتی طور پر نام لینا ہی وہ معیار ہے جو یہ عجائب گھر طلب کرتا ہے؛ ان کی دو بار کی ازہری مشیخت تنہا کسی مکتب کو ثابت نہ کرتی۔ 1 2
وفات کے سال پر ایک نوٹ
مضامین میں اختلاف ہے۔ انگریزی مضمون ان کی وفات 1916 بتاتا ہے اور اسی کے مطابق ان کی دوسری مدت 1909–1916 گنتا ہے۔ عربی مضمون ان کی وفات ذو الحجہ 1335ھ میں بتاتا ہے — وہ مہینہ جو ستمبر–اکتوبر 1917 میں پڑتا ہے — اور ان کی دوسری مدت کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ «ان کی وفات کے سال 1917 تک» جاری رہی۔ اعداد و شمار کا ریکارڈ عربی مضمون کی مخصوص ہجری دلیل کی پیروی کرتا ہے، 1917 دیتا ہے، اور تاریخ کو اختلافی نشان زد کر کے دونوں روایتیں بیان کرتا ہے۔ 2 1
تعلقات
- Taught
- ابو شعیب دکالی
- Died in
- القاهرة
- Buried in
- القاهرة
- Studied under
- البيجوري إبراهيم بن محمد
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ
ماخذ
- Salim al-Bishri — English Wikipedia
- Salim al-Bishri — Arabic Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “سلیم البشری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/salim-al-bishri/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.