عبد القادر کان

عبد القادر كان

تقریباً 1726 عیسوی · تقریباً 1138 ھ† – †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

عبد القادر کان (تقریباً 1726–1807)، سالوم کے توروڈبے عالم اور قاضی، جو 1776 میں سلیمان بال کے جانشین کے طور پر فوٹا ٹورو کی اسلامی امامت کے پہلے المامی بنے۔ انھوں نے تیس برس حکومت کی: برکنا اور ترارزہ موروں کو شکست دی، اپنے علاقے سے فرانسیسی غلام تجارت کا راستہ بند کیا، 1796 میں بنژوئے کی شکست کے بعد قید ہوئے اور رہا ہوئے، اور فرانسیسی مقالے اور ویکی ڈیٹا کی تاریخ کے مطابق 1807 میں قتل ہوئے — جبکہ انگریزی مقالہ ان کی وفات 1806 میں گوریکی کی جنگ میں بتاتا ہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · حکمران · جرنیل
خطہ
west-africa-sahel
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1675عیسوی1700عیسوی1725عیسوی1750عیسوی1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: حمدان خوجة · میر تقی میر · شاہ عالم ثانی · احمد پاشا الجزار · مختار الکُنتی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عبد القادر کان (تقریباً 1726–1807) سالوم کے توروڈبے عالم اور قاضی تھے، جو 1776 میں وادی سینیگال میں فوٹا ٹورو کی اسلامی امامت کے پہلے المامی بنے اور انقلاب کے قائد سلیمان بال کے جانشین ہوئے۔ انھوں نے تیس برس حکومت کی، برکنا اور ترارزہ موروں کو شکست دی، اپنی ریاست کو فرانسیسی غلام تجارت کے لیے بند کیا، کایور کے بادشاہ کی قید سے بچ نکلے، اور اپنے عہد کے آخر میں قتل ہوئے — فرانسیسی روایت کے مطابق 1807 میں سازش سے، انگریزی روایت کے مطابق 1806 میں جنگ میں۔ 1 2

    نشوونما اور انتخاب

    وہ سالوم کے پافا وارنیو میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد پڑھا رہے تھے، اور علما کے ایک سلسلے سے تعلق رکھتے تھے: ان کے دادا لامین نے مکہ کا حج کیا تھا اور والد ہماڈی نے فوٹا جالون میں قرآن کی تعلیم حاصل کی تھی۔ کان نے کایور اور موریطانیہ میں کوکی کے مدرسے کے بانی مختار ندومبے دیوپ سے اور پھر پیر سانیوخور میں علم حاصل کیا؛ اقتدار سے پہلے وہ بنڈو کے قریب اپے میں آزاد قاضی تھے اور ابتدا میں ڈینیانکے کے خلاف بغاوت میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ 1 2

    جب 1776 میں سلیمان بال جنگ میں شہید ہوئے تو کان ان کے جانشین کے امیدواروں میں تھے۔ رڈولف ویر لکھتے ہیں کہ پہلے ایک اور عالم نے یہ عہدہ قبول کرنے سے انکار کیا تھا، اور کان خود بھی ہچکچا رہے تھے — یہ وہی «پارسا دوری» ہے جو سینیگامبیا کے علما روایتی طور پر سیاسی طاقت سے رکھتے تھے — جبکہ ڈیوڈ رابنسن ایک اور کم واضح روایت نقل کرتے ہیں جس میں انتخاب سے پہلے طویل انتشار رہا۔ 1776 میں تقریباً پچاس برس کی عمر میں ان کی دستار بندی ہوئی: ایک ہفتے خلوت میں رکھے گئے، ان کی جانب سے قربانیاں دی گئیں، ایک عالم نے انھیں عہدے کی پگڑی پہنائی، اور کم از کم پچاس سرداروں نے وفاداری کا حلف اٹھایا؛ قرآن مجید، عشرینیات اور دلائل الخیرات کی تلاوت ہوئی اور تلاوت کرنے والوں سے وعدہ لیا گیا کہ اگر وہ کان کو ان کے معیار سے گرتا دیکھیں تو اسے درست کریں گے۔ 1 3

    حکومت

    دارالحکومت تھیلونیے سے انھوں نے پہلے برکنا موروں کو شکست دی، پھر 1786 میں برکنا ہی سے اتحاد کر کے ڈاگانا کے قریب ترارزہ کے امیر علی کوری کو ختم کیا اور فوٹا ٹورو پر ترارزہ کے حملے اور بھتہ خوری ختم کر دی۔ انھوں نے علاقائی انتظامیہ وفادار علما سے بھر دی جنھوں نے وقت کے ساتھ انتخابی عہدوں کو موروثی بنا لیا۔ کایور میں ان کی قسمت پلٹ گئی: نئے ڈامیل اماری نگونے ندیلا نے کایور کی اطاعت واپس لے لی تو کان 1796 میں سینیگامبیا کی سب سے بڑی فوج لے کر چلے، لیکن ڈامیل نے مشرقی صوبوں کے کنویں زہر آلود کر دیے؛ توروڈبے فوج صحرائے فیرلو سے نکل کر نہ کھانا پائی نہ پانی، بنژوئے میں شکست کھائی اور کان قید ہو گئے۔ کایور میں عزت سے رکھے گئے یہاں تک کہ نیا المامی منتخب ہو گیا، پھر وطن واپس بھیج دیے گئے۔ 1 2

    غلام تجارت کے بارے میں ان کے موقف پر محققین میں اختلاف ہے۔ ان کے معاہدے نے فرانسیسیوں کو فوٹا ٹورو کے لوگوں کو غلام بنانے اور غلاموں کو ان کے علاقے سے گزارنے سے روک دیا، اور تھامس کلارکسن کے خطوط نے انھیں «دانا اور نیک المامی» کہا؛ دوسرے محققین کہتے ہیں کہ ان کی پالیسی روایتی اسلامی پالیسی تھی — مسلمان کو غلام نہیں بنایا جا سکتا، غیر مسلم کو بنایا جا سکتا تھا — اور ان کی اپنی رعایا غلام رکھتی تھی۔ دونوں توصیفیں ذرائع میں موجود ہیں اور میوزیم انھیں بغیر فیصلہ کیے پیش کرتا ہے۔ 1

    وفات — دو روایات

    فرانسیسی مقالہ کہتا ہے کہ وہ 4 اپریل 1807 کو جاگوردو — المامی منتخب کرنے والی مجلس — کی سازش میں قتل ہوئے؛ ویکی ڈیٹا بھی یہی تاریخ دیتا ہے۔ انگریزی مقالہ اس کے برعکس کہتا ہے کہ 1806 میں بنڈو اور کارتا نے فوٹا ٹورو پر حملہ کیا اور کان کو بنڈو کے المامی نے گوریکی کی ہاری ہوئی جنگ میں ان کی جائے نماز پر گولی ماری، اور وفات 26 اپریل 1806 بتاتا ہے۔ میوزیم 4 اپریل 1807 کو «متنازع» درجے کے ساتھ بناتا ہے اور دونوں روایات مکمل پیش کرتا ہے؛ اختلاف ذرائع ہی میں ہے اور یہاں حل نہیں ہو سکتا۔ 2 4 1

    عقیدہ

    کسی بھی مأخذ نے کان کے لیے کوئی فقہی مذہب یا صوفی سلسلہ نہیں بتایا۔ وہ توروڈبے علمی روایت کے عالم تھے، حکمران بننے سے پہلے قاضی تھے، اور جو قانون انھوں نے نافذ کیا وہ اسلام کی ان کی اپنی فہم تھی؛ دستار بندی پر دلائل الخیرات کی تلاوت ایک عبادتی عمل ہے، کسی سلسلے سے وابستگی نہیں، اور ویکی ڈیٹا ان کے لیے کوئی مذہبی قدر درج نہیں کرتا۔ اس لیے ان کا عقیدہ غیر موثق درج کیا گیا ہے۔ 1 4

    محققین کے لیے نوٹس

    عبد القادر کان پر عربی ویکیپیڈیا میں کوئی مقالہ نہیں؛ میوزیم کا عربی عنوان اور متن انگریزی، فرانسیسی اور اردو ریکارڈ کی اس کی اپنی صیاغت ہے۔ صدی فہرست میں دی گئی پیدائش 1745 کسی پڑھے گئے مأخذ میں ثابت نہیں اور 1776 میں تقریباً پچاس برس کی عمر میں دستار بندی سے متصادم ہے؛ مقالات تقریباً 1726 بتاتے ہیں۔ ان کا نام ذرائع میں کان (Kan) اور کانے (Kane) دونوں طرح آتا ہے؛ میوزیم کے سلگ میں Kane کی صورت اختیار کی گئی ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Successor of
    سلیمان بال

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    سلیمان بال

    ماخذ

    1. Abdul Kader Kane — English Wikipedia
    2. Abdul Kader Kane — French Wikipedia
    3. Abdul Kader Kane — Urdu Wikipedia
    4. Abdul Kader Kane — Wikidata Q85845306
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عبد القادر کان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abdul-kader-kane/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    سلیمان بال

    سلیمان بال (تقریباً 1720–1775/1776)، وادی سینیگال کے علاقے فوٹا ٹورو کے توروڈبے عالم، جنھوں نے اس انقلاب کی قیادت کی جس نے ڈینیانکے بادشاہت کو ختم کر کے فوٹا ٹورو کی اسلامی امامت قائم کی، خود امامت قبول کرنے سے انکار کیا، اور برکنا موروں سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ انھوں نے فوٹا کے لوگوں کو اپنی مشہور وصیت چھوڑی کہ امامت کبھی موروثی بادشاہت نہ بنے اور جو امام مالدار ہو جائے اسے معزول کر دیا جائے۔