شاہ عالم ثانی

شاه عالم الثاني

–

دلهي

شاہ عالم ثانی (25 جون 1728ء – 19 نومبر 1806ء) مغلیہ سلطنت کے بادشاہ، عالمگیر ثانی کے فرزند، 1760ء سے 1788ء اور پھر 1788ء سے 1806ء تک تخت نشین رہے۔ بکسر کی شکست کے بعد آپ نے 1765ء کے معاہدۂ الٰہ آباد کے ذریعے ایسٹ انڈیا کمپنی کو بنگال کی دیوانی عطا کی؛ 1788ء میں غلام قادر نے قید میں آپ کی آنکھیں نکال دیں۔ آپ «آفتاب» تخلص کے شاعر تھے، آپ کا دیوان اور ابتدائی اردو نثر کی کتاب «عجائب القصص» آپ کی یادگار ہے؛ آپ کی وفات دہلی میں ہوئی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
sultan · شاعر
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1675عیسوی1700عیسوی1725عیسوی1750عیسوی1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: عبد القادر کان · حمدان خوجة · میر تقی میر · مختار الکُنتی · احمد پاشا الجزار

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    شاہ عالم ثانی (25 جون 1728ء – 19 نومبر 1806ء)، پیدائشی نام مرزا علی گوہر، 1760ء سے 1788ء اور پھر 1788ء سے 1806ء تک مغلیہ بادشاہ رہے — وہ بادشاہ جنھوں نے بکسر کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کو بنگال کی دیوانی عطا کی، اور جن کی آنکھیں 1788ء میں ان کے اپنے قیدی غلام قادر نے نکال دیں 1۔

    جلاوطنی، سلطنت و قید

    عالمگیر ثانی کے فرزند، آپ 1758ء میں شہزادے کے طور پر دہلی سے فرار ہوئے اور دسمبر 1759ء میں جلاوطنی میں بادشاہ قرار دیے گئے 1۔ اکتوبر 1764ء میں بکسر کی مشترکہ شکست کے بعد آپ نے اگست 1765ء میں الٰہ آباد میں صلح کی اور کمپنی کو دیوانی — بنگال، بہار اور اڑیسہ کی مالی وصولی کی انتظامیہ — وظیفے اور کورا و الٰہ آباد کے اضلاع کے بدلے عطا کی 1۔ آپ جنوری 1772ء میں مرہٹہ حفاظت میں دہلی واپس آئے اور وہاں بتدریج وظیفہ خوار بادشاہ کی حیثیت سے حکومت کرتے رہے، جبکہ اصل اقتدار مہاداجی شندے اور 1788ء کے بحران میں روہیلہ سردار غلام قادر کے درمیان منتقل ہوتا رہا، جس نے دہلی پر قبضہ کر کے آپ کی آنکھیں نکال دیں 1۔ شندے نے آپ کو بحال کیا، اور آپ مرہٹہ اور پھر 1803ء کے بعد انگریزی حفاظت میں رہے، 19 نومبر 1806ء کو دہلی میں وفات پائی؛ آپ کی قبر مہرولی میں قطب الدین بختیار کاکی کی درگاہ کے پہلو میں ہے 1۔

    شاعری

    آپ «آفتاب» تخلص سے شعر کہتے تھے؛ آپ کا فارسی و اردو کلام کا دیوان اور «عجائب القصص» آپ کی یادگار ہے، جو اردو نثر کے اولین آثار میں شمار ہوتی ہے 1۔

    مسلک

    شاہ عالم ثانی کا فقہی مسلک ہم نے جو ماخذ دیکھے ان میں غیر موثق ہے۔ انگریزی مضمون کا معلوماتی خانہ «سنی اسلام (حنفی)» درج کرتا ہے 1، مگر عربی مضمون کا معلوماتی خانہ صرف اسلام درج کرتا ہے 2 اور وکی ڈیٹا بھی اسلام کو عام طور پر درج کرتا ہے 3؛ مغلیہ دربار کی حنفی روایت آپ کے دور کا سیاق ہے، خود آپ کے بارے میں گواہی نہیں۔

    محققین کے لیے نوٹس

    انگریزی مضمون اور وکی ڈیٹا آپ کی ولادت (25 جون 1728ء) اور وفات (19 نومبر 1806ء) دونوں پر یومی درستگی کے ساتھ متفق ہیں 1 3۔ آپ کے والد عالمگیر ثانی کا عجائب گھر میں مسودہ ریکارڈ موجود ہے، اور یہاں فرزندی کا تعلق اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ آپ کے فرزند اکبر ثانی، جو آپ کے جانشین ہوئے، اسی فصل کی فہرست کی بعد کی صف ہیں اور ان کا ابھی کوئی ریکارڈ نہیں، اس لیے اس طرف سے ان کی طرف کوئی تعلق درج نہیں کیا گیا۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Parent of
    اکبر شاہ ثانی
    Child of
    عالمكير الثاني
    Born in
    دلهي
    Died in
    دلهي

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    اکبر شاہ ثانی· دلهي· تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر· اكتمال الجامع المسجد بدلهي· نادر شاه يدخل دلهي ويقتل أهلها (١٧٣٩)

    ماخذ

    1. Shah Alam II — English Wikipedia
    2. Shah Alam II — Arabic Wikipedia
    3. Shah Alam II — Wikidata Q719449
    • Shah Alam II — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “شاہ عالم ثانی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/shah-alam-ii/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    اکبر شاہ ثانی

    اکبر ثانی (22 اپریل 1760ء – 28 ستمبر 1837ء) انیسویں مغل بادشاہ، شاہ عالم ثانی کے فرزند، 1806ء سے 1837ء تک تخت نشین رہے۔ آپ کی اصل طاقت ایسٹ انڈیا کمپنی کے بڑھتے ہوئے اقتدار کے سامنے محدود تھی؛ آپ نے رام موہن رائے کو اپنا ایلچی بنا کر انگلستان بھیجا، اور آپ کے بعد آپ کے فرزند بہادر شاہ ثانی آخری مغل بادشاہ بنے۔