اکبر شاہ ثانی

أكبر شاه الثاني

–

دلهي

اکبر ثانی (22 اپریل 1760ء – 28 ستمبر 1837ء) انیسویں مغل بادشاہ، شاہ عالم ثانی کے فرزند، 1806ء سے 1837ء تک تخت نشین رہے۔ آپ کی اصل طاقت ایسٹ انڈیا کمپنی کے بڑھتے ہوئے اقتدار کے سامنے محدود تھی؛ آپ نے رام موہن رائے کو اپنا ایلچی بنا کر انگلستان بھیجا، اور آپ کے بعد آپ کے فرزند بہادر شاہ ثانی آخری مغل بادشاہ بنے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
sultan
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1675عیسوی1700عیسوی1725عیسوی1750عیسوی1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی تقریباً تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: حمدان خوجة · سيدي بن المختار الأبيري · الشوكاني · الرحمتي · الدای حسین

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    اکبر ثانی (22 اپریل 1760ء – 28 ستمبر 1837ء)، پیدائشی نام مرزا اکبر، انیسویں مغل بادشاہ تھے؛ آپ 1806ء سے 1837ء تک تخت نشین رہے اور شاہ عالم ثانی کے دوسرے فرزند تھے 1.

    وظیفہ خوار بادشاہ

    آپ مکندپور میں پیدا ہوئے جب آپ کے والد جلاوطنی میں تھے، اور 19 نومبر 1806ء کو شاہ عالم ثانی کی وفات کے دن تخت نشین ہوئے 2۔ اس وقت تک بادشاہ کا اختیار لال قلعے سے آگے مشکل سے چلتا تھا: دہلی 1803ء سے برطانوی تحفظ میں تھی اور اکبر ثانی وظیفہ پانے والے بادشاہ کے طور پر حکومت کرتے رہے جبکہ اصل حکومت ایسٹ انڈیا کمپنی کے پاس تھی 2۔ آپ نے سفارت کاری کے ذریعے کمپنی سے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا، رام موہن رائے کو «راجہ» کا خطاب دیا اور اپنا ایلچی بنا کر انگلستان بھیجا 2۔ آپ کی وفات 28 ستمبر 1837ء کو دہلی میں ہوئی اور آپ کے فرزند بہادر شاہ ثانی، آخری مغل بادشاہ، آپ کے جانشین بنے 2 3.

    مسلک

    مطالعہ شدہ مآخذ میں آپ کے فقہی مسلک کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ انگریزی مقالے کے معلوماتی خانے میں آپ کا مذہب سنی (حنفی) درج ہے 2، مگر عربی مقالے میں صرف اسلام درج ہے 4 اور ویکی ڈیٹا میں بھی یہی ہے 3؛ ایک اکیلی بناوٹی شہادت سے مسلک ثابت نہیں ہوتا۔

    محققین کے لیے نوٹس

    انگریزی مقالہ اور ویکی ڈیٹا آپ کی ولادت (22 اپریل 1760ء) اور وفات (28 ستمبر 1837ء) دونوں میں یومی درستگی پر متفق ہیں 2 3۔ آپ کے والد شاہ عالم ثانی سے تعلق اسی ریکارڈ میں، بیٹے کی فائل میں، عجائب گھر کے ایک بار درج کرنے کے اصول کے مطابق درج ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    شاہ عالم ثانی
    Died in
    دلهي

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    شاہ عالم ثانی· دلهي· تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر· اكتمال الجامع المسجد بدلهي· نادر شاه يدخل دلهي ويقتل أهلها (١٧٣٩)

    ماخذ

    1. اکبر شاہ ثانی — Urdu Wikipedia
    2. Akbar II — English Wikipedia
    3. Akbar II — Wikidata Q2091579
    4. أكبر شاه الثاني — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “اکبر شاہ ثانی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/akbar-ii/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    شاہ عالم ثانی

    شاہ عالم ثانی (25 جون 1728ء – 19 نومبر 1806ء) مغلیہ سلطنت کے بادشاہ، عالمگیر ثانی کے فرزند، 1760ء سے 1788ء اور پھر 1788ء سے 1806ء تک تخت نشین رہے۔ بکسر کی شکست کے بعد آپ نے 1765ء کے معاہدۂ الٰہ آباد کے ذریعے ایسٹ انڈیا کمپنی کو بنگال کی دیوانی عطا کی؛ 1788ء میں غلام قادر نے قید میں آپ کی آنکھیں نکال دیں۔ آپ «آفتاب» تخلص کے شاعر تھے، آپ کا دیوان اور ابتدائی اردو نثر کی کتاب «عجائب القصص» آپ کی یادگار ہے؛ آپ کی وفات دہلی میں ہوئی۔