میر تقی میر

مير تقي مير

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

آغرا → دلهي

میر محمد تقی، معروف بہ میر تقی میر (1723ء – 20 ستمبر 1810ء)، مغلیہ ہندوستان کے اردو شاعر اور کلاسیکی اردو غزل کے بانیوں میں سے تھے، جنھیں خداے سخن کہا جاتا ہے۔ آگرہ میں پیدا ہوئے، دہلی میں پروان چڑھے جس کی بربادی کا دکھ ان کے کلام میں نمایاں ہے، پھر لکھنؤ میں آصف الدولہ کے دربار سے وابستہ ہو کر بقیہ زندگی وہیں گزاری۔ انھوں نے اپنی سوانح ”ذکرِ میر“ اور غم و اشتیاق سے بھرپور ایک ضخیم دیوان چھوڑا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1675عیسوی1700عیسوی1725عیسوی1750عیسوی1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: حمدان خوجة · مختار الکُنتی · احمد پاشا الجزار · عبد القادر کان · عبد العزیز بن محمد بن سعود

مکان میں

آغرادلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    میر تقی میر (1723ء – 20 ستمبر 1810ء)، جو آگرہ میں میر محمد تقی کے نام سے پیدا ہوئے، اردو غزل کے دہلی مکتب کے نمایاں شاعر اور ان اوائل میں سے تھے جنھوں نے خود اردو زبان کو صورت دی 1.

    دہلی اور لکھنؤ

    نوجوانی میں یتیم ہوئے جب ان کے والد، جو مریدوں کے بڑے حلقے والے مذہبی آدمی تھے، قرض چھوڑ کر انتقال کر گئے؛ تو وہ تعلیم مکمل کرنے اور سرپرستوں کی تلاش میں آگرہ سے دہلی چلے گئے 2۔ انھوں نے زندگی کا بڑا حصہ مغلیہ دہلی کے کوچہ چیلان میں گزارا، اور احمد شاہ ابدالی کے بار بار کے حملوں کے بعد آصف الدولہ کی دعوت قبول کر کے لکھنؤ منتقل ہو گئے، جہاں نواب نے ان کے لیے وظیفہ مقرر کیا 2 1۔ ان کی خود نوشت ”ذکرِ میر“ ان کی زندگی کا بڑا ماخذ ہے، اگرچہ وہ ظاہر سے زیادہ چھپاتی ہے؛ ان کی تصانیف میں ”نکات الشعراء“، اردو شعرا کی سوانحی لغت، اور ”فیضِ میر“، صوفیا و فقرا کی پانچ کہانیاں جو انھوں نے اپنے بیٹے کے لیے لکھیں، شامل ہیں 2۔ دہلی کی بربادی کا غم ان کے کلام کی پہچان ہے۔ ان کا انتقال 20 ستمبر 1810ء کو لکھنؤ میں ہوا 2.

    مسلک

    ان کا مسلک نامعلوم درج ہے۔ کوئی ماخذ جو پڑھا گیا، ان کے لیے ذاتی طور پر کسی مکتب یا فرقے کا نام نہیں لیتا — اردو مقالے کا معلوماتی خانہ صرف اسلام دیتا ہے، اور ویکی ڈیٹا بھی یہی کرتا ہے 1 3۔ ان کے والد کا گھرانہ مذہبی اور صوفیانہ مزاج کا تھا اور ان کی شاعری صوفیانہ موضوعات سے بھری ہے، مگر خاندانی پس منظر اور ادبی رنگ ذاتی شہادت شمار نہیں ہوتے؛ عربی مقالے کا یہ اشارہ کہ شاید وہ ملامتی رجحان پر عمل پیرا تھے، محض ایک شعری رویے کے امکان کے طور پر آیا ہے 4۔ شک کے اصول کے تحت قراءتیں محفوظ ہیں اور کچھ طے نہیں کیا گیا۔

    محققین کے لیے نوٹس

    ان کی ولادت کا سال متنازع ہے — انگریزی مقالہ فروری 1723ء دیتا ہے (اس کا متن اگست کی بھی گنجائش دیتا ہے)، عربی مقالہ اگست یا ستمبر 1723ء، سی۔ ایم۔ نعیم کی ”ذکرِ میر“ کی تدوین انھیں 1725ء–1810ء رکھتی ہے، اور بعض جدید تحریریں 1722ء دیتی ہیں؛ ویکی ڈیٹا کی یقینی 28 مئی 1723ء کسی مقالے سے ثابت نہیں اور اختیار نہیں کی گئی 2 4 3۔ یہاں ویکی ڈیٹا کی مقامی قدریں ناقابلِ اعتبار ہیں اور استعمال نہیں ہوئیں۔ لکھنؤ کا ابھی عجائب گھر میں مکان کا ریکارڈ نہیں، اس لیے جائے وفات کا تعلق درج نہیں؛ آگرہ اور دہلی سے ان کے تعلقات ان کے ریکارڈ میں ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    آغرا
    Lived in
    دلهي

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    مرزا غالب· نظیر اکبر آبادی· سید احمد خان· تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر· اكتمال الجامع المسجد بدلهي

    ماخذ

    1. مير تقی میر — Urdu Wikipedia
    2. Mir Taqi Mir — English Wikipedia
    3. Mir Taqi Mir — Wikidata Q1771132
    4. مير تقي مير — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “میر تقی میر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mir-taqi-mir/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    مرزا غالب

    متاخر مغل دور کے سب سے بڑے اردو و فارسی شاعر (1797ء–1869ء)۔ آگرہ میں پیدا ہوئے، بچپن میں دہلی آ بسے، اور بیشتر زندگی تنگ دستی میں خاندانی وظیفے کے مقدمے میں گزاری۔ اردو و فارسی دونوں میں دیوان چھوڑے، بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور استاد رہے، اور ان کی غزلیں اردو شاعری کی معراج سمجھی جاتی ہیں۔