احمد داود اوغلو

أحمد داود أوغلو

إسطنبول

ترک ماہرِ تعلیمات اور سیاست دان، 2014 سے 2016 تک ترکی کے وزیر اعظم اور جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے قائد، 2009 سے 2014 تک وزیر خارجہ اور اس سے پہلے وزیر اعظم کے مشیرِ خارجہ پالیسی رہے۔ کتاب «اسٹریٹجک ڈیپتھ» کے مصنف اور «پڑوسیوں سے صفر مسائل» پالیسی کے معمار؛ بعد میں 2019 میں فیوچر پارٹی قائم کی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · writer
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

مکان میں

إسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    سنی (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    احمد داود اوغلو ترک ماہرِ تعلیمات، سیاست دان اور سابق سفیر ہیں، جو 26 فروری 1959 کو تاشقند، قونیہ میں پیدا ہوئے۔ وہ 2014 سے 2016 تک ترکی کے 26ویں وزیر اعظم اور جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (AKP) کے قائد رہے، اس سے پہلے 2009 سے 2014 تک وزیر خارجہ اور 2003 سے 2009 تک وزیر اعظم کے مشیرِ خارجہ پالیسی رہے۔ 1 2

    ان کی کتاب «اسٹریٹجک ڈیپتھ» (العمق الاستراتيجي، 2001) ترکی کی خارجہ پالیسی میں بہت اثرانداز ہوئی، اور وہ «پڑوسیوں سے صفر مسائل» پالیسی کے معمار سمجھے جاتے ہیں۔ 1

    تعلیم اور تدریسی زندگی

    داود اوغلو نے بوغازچی یونیورسٹی سے سیاسیات و بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی؛ 1990 میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائشیا میں تدریس شروع کی اور وہاں شعبۂ سیاسیات قائم کیا، پھر مرمرہ یونیورسٹی اور بیکنٹ یونیورسٹی استنبول میں پڑھایا اور اخبار «ینی شفق» میں دو سو سے زیادہ کالم لکھے۔ 1 2

    2003 میں انہیں سفیر کا خطاب ملا اور وہ وزیر اعظم ایردوان کے بڑے مشیرِ خارجہ بنے؛ میگزین «فارن پالیسی» نے 2010 میں انہیں دنیا کے سو بڑے مفکرین میں شمار کیا۔ 1

    وزارتِ خارجہ اور وزارتِ عظمیٰ

    1 مئی 2009 کو وہ رکنِ پارلیمنٹ نہ ہوتے ہوئے بھی وزیر خارجہ مقرر ہوئے اور 2011 میں قونیہ سے منتخب ہوئے۔ 1 ان کی پالیسی کی چار بنیادیں تھیں: سلامتی کی غیر تقسیمیت، مکالمہ، معاشی باہمی انحصار، اور ثقافتی ہم آہنگی و باہمی احترام۔ بعد کے برسوں میں شام کی خانہ جنگی اور داعش کے معاملے پر ان کی پالیسی شدید تنقید کی زد میں آئی، اور جولائی 2014 کے ایک سروے میں ان کی خارجہ پالیسی کی حمایت صرف 28 فیصد رہ گئی۔ 1

    اگست 2014 میں وہ متفقہ طور پر AKP کے قائد منتخب ہو کر 26ویں وزیر اعظم بنے۔ جون 2015 میں پارٹی پارلیمانی اکثریت کھو بیٹھی، مگر نومبر 2015 کے انتخابات میں 49.4 فیصد ووٹوں سے اکثریت واپس ملی۔ 1 2 ایردوان سے امیدواروں کی فہرستوں اور صدارتی نظام پر اختلافات بڑھنے کے بعد، اپریل–مئی 2016 کے «پیلیکن فائلز» تنازع کے نتیجے میں انہوں نے 22 مئی 2016 کو قیادت اور وزارتِ عظمیٰ چھوڑ دی، یہ کہتے ہوئے کہ استعفیٰ ان کی پسند نہیں بلکہ مجبوری بن گیا تھا۔ حزبِ اختلاف نے اسے «4 مئی کا محلاتی انقلاب» کہا۔ 1

    فیوچر پارٹی اور مؤلفات

    ستمبر 2019 میں انہوں نے AKP سے استعفیٰ دیا اور 12 دسمبر 2019 کو فیوچر پارٹی (حزب المستقبل) قائم کر کے اس کے پہلے قائد بنے؛ جماعت پارلیمانی نظام کی بحالی اور نئے آئین کی حامی ہے۔ 1

    ان کی نمایاں کتب میں «آلٹرنیٹو پیراڈائمز» (1993)، «اسٹریٹجک ڈیپتھ» (2001)، «کورسل بونالم» (عالمی بحران، 2002) اور «عثمانی تہذیب» (2005) شامل ہیں۔ 1

    مؤلفات

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Lived in
    إسطنبول

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا

    ماخذ

    1. Ahmet Davutoğlu — English Wikipedia
    2. أحمد داود أوغلو — ويكيبيديا العربية
    • Ahmet Davutoğlu — Wikidata Q58198
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “احمد داود اوغلو”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmet-davutoglu/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جامع العرب بإسطنبول

    Draft card for Arap Camii (the Arab Mosque) in Galata, Istanbul, the former Latin church converted to a mosque and known for its pier-supported minaret; per the cited architecture survey, the page not yet checked.