احمد جودت پاشا

أحمد جودت باشا

–

إسطنبول

احمد جودت پاشا (پیدائش: لوفچہ، 1822ء – وفات: استنبول، مئی 1895ء)، عثمانی عالم، مورخ، فقیہ اور سیاست دان، مجلہ احکامِ عدلیہ کی تدوین کرنے والے کمیشن کے سربراہ، «تاریخِ جودت» کے مصنف اور کئی وزارتوں کے ناظر رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
مؤرخ · فقیہ · مدبر · writer
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: المامی سولوکو · خواجہ عبد الغنی · قرمانجان داتقا · ميرزا أبو تراب آخوندزاده · محمد النووي البنتني

مکان میں

إسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    احمد جودت پاشا (پیدائش: لوفچہ، 1822ء – وفات: استنبول، مئی 1895ء) عثمانی عالم، مورخ، فقیہ اور سیاست دان تھے، اس کمیشن کے سربراہ جس نے «مجلہ احکامِ عدلیہ» کی صورت میں اسلامی قانون کی پہلی تدوین کی، بارہ جلدوں پر مشتمل «تاریخِ جودت» کے مصنف، اور بار بار ناظرِ حقانیہ (عدل)، معارف، اوقاف، داخلہ و تجارت رہے۔ 1 2 عربی مضمون ان کی تاریخیں ہجری میں 1237ھ – 1312ھ دیتا ہے، اور وہ ترکی کی پہلی خاتون ناول نگار فاطمہ عالیہ کے والد تھے۔ 2 1

    زندگی اور عہد

    جودت پاشا لوفچہ (بلغاریہ) کے ایک ترک معزز خاندان میں پیدا ہوئے؛ ولادت کے دن میں اختلاف ہے: انگریزی مضمون و وکی ڈیٹا 22 مارچ 1822ء کہتے ہیں، ترکی مضمون 27 مارچ۔ 1 3 کم عمری میں عربی صرف و نحو پڑھی، 1839ء میں استنبول جا کر دینی علوم، ریاضی، ارضیات و فلکیات کی تعلیم پائی اور اجازت نامہ حاصل کیا، اور فارسی میں اس قدر مہارت پائی کہ 1844ء میں رومی کی مثنوی پڑھانے کی اجازت ملی۔ 1 فارغ التحصیل ہونے پر مصطفیٰ رشید پاشا نے انہیں اپنے گھر میں خود کو اور اپنے بچوں کو فقہ پڑھانے پر مقرر کیا اور وہ رشید کی وفات (1858ء) تک وہیں رہے۔ 1 اس کے بعد وہ اساتذہ کے اسکول کے مدیر، مؤرخِ ریاست (1855–1861ء)، غلطہ کے قاضی اور مجلسِ تنظیمات کے رکن بنے، البانیہ و بوسنیا میں اصلاحات کے مشن سر انجام دیے اور 1866ء میں حلب کے والی بنے۔ 1 1868ء میں وہ عدالتی شاخ کے صدر اور پہلے ناظرِ حقانیہ بنے؛ آخری دہائیوں میں وزارتوں پر گردش کی، 1890ء میں استعفیٰ دے کر گوشہ نشین ہوئے اور استنبول میں وفات پائی — انگریزی کے مطابق 25 مئی 1895ء، ترکی کے مطابق 26 مئی۔ 1 3

    ان کا سب سے بڑا کام «مجلہ» ہے: 1,851 مواد پر مشتمل مدنی قانون جو اسلامی فقہ پر مبنی تھا اور جس کی تدوین پر انہوں نے تقریباً سولہ سال (1876ء تک) صرف کیے؛ یہ قانون کئی عرب ریاستوں میں بیسویں صدی کے اوائل و وسط تک نافذ رہا۔ 1 انہوں نے «تاریخِ جودت»، «قصص الانبیاء» اور ترکی گرامر کی اولین کتاب «قواعدِ عثمانیہ» بھی لکھی۔ 1 3

    موقف و نقد

    یہ حصہ ماخذوں میں منقول مواقف کی پیش کش کے طور پر پڑھا جائے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    انگریزی مضمون انہیں قدامت پسند مصلح بتاتا ہے جو فوجی و انتظامی اصلاح کے قائل تھے مگر یورپی قانون کی بجائے شریعت کو نمونہ مانتے تھے۔ 1 ان کے مسلک کا سوال اس ریکارڈ کا نازک ترین مسئلہ ہے: انگریزی مضمون کے مذہبی سوانحی خانے میں دین «اسلام»، فرقہ «سنی» اور فقہ «حنفی» درج ہے، اور فقہی خانہ قزل قایا (2011ء) کے علمی مقالے سے مسند ہے۔ 1 مگر انگریزی مضمون کا متن ان کا ذاتی مسلک کہیں نہیں بتاتا — «حنفی» کا لفظ اس مضمون میں صرف خانے اور نیچے کے «علماۓ احناف» سانچے میں آتا ہے، یعنی ایک ہی مضمون، ایک ہی خاندان۔ 1 ترکی مضمون کہتا ہے کہ جودت اور ان کے ہم خیالوں نے حنفی فقہ کی تدوین کا دفاع کیا، اور عربی مضمون کہتا ہے کہ ان کی قانون سازی حنفی فقہ پر مبنی تھی؛ دونوں اس قانون کے بارے میں ہیں جس کے وہ مصنف تھے، یعنی ان کا پیشہ ورانہ فقہی کام۔ 3 2 وکی ڈیٹا کے پاس ان کے مذہب کی کوئی قدر ہی نہیں۔ 4 دو مستقل ماخذوں کی شرط اور شبہ کی حکمرانی کے تحت ان کا مسلک ریکارڈ میں نامعلوم رکھا گیا ہے اور تمام قراءتیں ریکارڈ کے نوٹ میں محفوظ ہیں۔

    حوالہ جات

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرّف ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی بعد کی ترجمہ و تدوین کو واضح تواریخ کے ساتھ دورانی جائزے کی ضرورت ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    إسطنبول
    Patronized by
    مصطفیٰ رشید پاشا

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    خط شريف كلخانة· محمد فؤاد پاشا· محمد امین عالی پاشا· مصطفیٰ رشید پاشا· إسطنبول· جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق

    ماخذ

    1. Ahmed Cevdet Pasha — English Wikipedia
    2. أحمد جودت باشا — Arabic Wikipedia
    3. Ahmed Cevdet Paşa — Turkish Wikipedia
    4. Ahmed Cevdet Pasha — Wikidata Q401209
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “احمد جودت پاشا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmed-cevdet-pasha/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    خط شريف كلخانة

    The Gülhane decree (1839): Reshid Pasha's charter proclaiming equal rights for all Ottoman subjects regardless of faith — denounced by the ulema, and read by the source as the price paid to Britain for settling the Egyptian crisis.