مصطفیٰ رشید پاشا

مصطفى رشيد باشا

–

إسطنبول

مصطفیٰ رشید پاشا (پیدائش: استنبول، 13 مارچ 1800ء – وفات: استنبول، 7 جنوری 1858ء)، عثمانی سیاست دان و سفارت کار، عبد المجید اول کے عہد میں چھ بار صدرِ اعظم رہے، دورِ تنظیمات کے معمارِ اعلیٰ اور 1839ء کے فرمانِ گلخانہ کے اصل مصنف تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
مدبر · سفارت کار
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1750عیسوی1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: أحمد الأكنصوسي · احمد اللہ شاہ · البيجوري إبراهيم بن محمد · أليمبك داتقا · آزردہ

مکان میں

إسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    کوجا مصطفیٰ رشید پاشا (پیدائش: استنبول، 13 مارچ 1800ء – وفات: استنبول، 7 جنوری 1858ء) عثمانی سیاست دان اور سفارت کار تھے، دورِ تنظیمات کے معمارِ اعلیٰ اور 1839ء کے فرمانِ گلخانہ کے اصل مصنف۔ 1 2 وہ عبد المجید اول کے عہد میں چھ بار صدرِ اعظم اور کئی بار وزیرِ خارجہ رہے، پیرس اور لندن میں سفیر رہے، اور عالی پاشا و فؤاد پاشا جیسے اصلاح پسندوں کی تربیت کی۔ 3 1

    زندگی اور عہد

    رشید پاشا استنبول میں پیدا ہوئے؛ والد کی وفات کے بعد مدرسے کی تعلیم چھوڑ کر اپنے چچا سید علی پاشا کے ہاں رہے اور کاتبانہ تربیت پائی، پھر دفتری ملازمت سے ترقی کرتے ہوئے 1834ء میں پیرس اور 1836ء میں لندن کے سفیر بنے اور 1837ء میں وزیرِ خارجہ مقرر ہوئے۔ 2 1 1838ء میں انہوں نے برطانیہ سے بالطہ لیمان کا تجارتی معاہدہ کیا اور 1840ء کے مشرقی بحران میں محمد علی پاشا کے مقابل عظیم طاقتوں کا ساتھ دیا۔ 2 1853ء میں انہوں نے روسی مطالبات مسترد کرانے میں قیادت کی اور جنگِ کریمیا کے آغاز میں برطانوی و فرانسیسی حمایت حاصل کی۔ 2

    ان کا سب سے بڑا کارنامہ فرمانِ گلخانہ ہے جو 3 نومبر 1839ء کو توپ کاپی محل کے باغ میں پڑھا گیا اور جس میں تمام رعایا کی جان، مال اور آبرو کی حفاظت، قانون کے سامنے برابری اور نئے قوانین کا شریعت کے اصولوں کے دائرے میں رہنا اعلان کیا گیا۔ 2 1 ان کے دور میں مجلسِ معارف (1846ء)، انجمنِ دانش (1852ء)، تجارتی عدالتیں قائم ہوئیں اور غلامی و غلاموں کی تجارت ختم کی گئی۔ 2

    موقف و نقد

    یہ حصہ ماخذوں میں منقول مواقف کی پیش کش کے طور پر پڑھا جائے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    انگریزی مضمون انہیں اپنے عہد کے عظیم ترین سیاست دانوں میں شمار کرتا ہے اور لکھتا ہے کہ انہوں نے 1853ء کی ویانا یادداشت میں عثمانی خودمختاری کی حفاظت کی ترامیم شامل کرائیں۔ 2 ان کے مذہب کے بارے میں کوئی مضمون ان کا مسلک نہیں بتاتا؛ انگریزی، ترکی و اردو مضامین کے خانوں میں مذہب کا خانہ ہی نہیں، عربی مضمون کا خانہ خالی ہے، اور وکی ڈیٹا کی قدر صرف عمومی «اسلام» ہے۔ 4 5 انگریزی مضمون کے مطابق وہ اپنے استاد پرتو پاشا کی صحبت میں «اصولی اسلام» سے واقف تھے اور اسلام کو ریاست کے چار ستونوں میں سے ایک شمار کرتے تھے؛ یہ سیاسی نظریہ ہے، ذاتی مسلک کی گواہی نہیں، اس لیے ان کا مسلک ریکارڈ میں نامعلوم رکھا گیا ہے۔ 2 ان کی وفات کے دن میں بھی اختلاف ہے: بیشتر مضامین 7 جنوری 1858ء کہتے ہیں، عربی مضمون کا خانہ 17 دسمبر 1858ء لکھتا ہے اور وکی ڈیٹا دونوں قدرتیں رکھتا ہے؛ ریکارڈ نے 7 جنوری کی پیروی کی ہے۔ 4 5

    حوالہ جات

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرّف ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی بعد کی ترجمہ و تدوین کو واضح تواریخ کے ساتھ دورانی جائزے کی ضرورت ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    إسطنبول
    Died in
    إسطنبول
    Patron of
    محمد امین عالی پاشا· محمد فؤاد پاشا· احمد جودت پاشا
    Participated in
    خط شريف كلخانة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    إسطنبول· خط شريف كلخانة· احمد جودت پاشا· محمد فؤاد پاشا· محمد امین عالی پاشا· جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق

    ماخذ

    1. مصطفیٰ رشید پاشا — Urdu Wikipedia
    2. Mustafa Reşid Pasha — English Wikipedia
    3. Mustafa Reşid Paşa — Turkish Wikipedia
    4. مصطفى رشيد باشا — Arabic Wikipedia
    5. Mustafa Reşid Pasha — Wikidata Q1330145
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “مصطفیٰ رشید پاشا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/rashid-pasha-mustafa/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    إسطنبول

    City formerly known as Constantinople, conquered by Mehmed II in 1453 and capital of the Ottoman Empire.