محمد فؤاد پاشا

محمد فؤاد باشا

–

إسطنبول

محمد فؤاد پاشا (پیدائش: استنبول، 1814ء – وفات: نیس، فرانس، فروری 1869ء)، نامور علما خاندان کے عثمانی سیاست دان، شاعر و عالم عزت ملا کے بیٹے، دو بار صدرِ اعظم (1861–1863ء و 1863–1866ء) رہے اور 1860ء میں شام کی مہم کی قیادت کی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
مدبر · سفارت کار · شاعر
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1780عیسوی1790عیسوی1800عیسوی1810عیسوی1820عیسوی1830عیسوی1840عیسوی1850عیسوی1860عیسوی1870عیسوی1880عیسوی1890عیسوی1900عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: عبد الغفار الأخرس · عبد الغني الميداني · عبد القادر الجزائري · أحمد الأكنصوسي · أحمد علي السهارنفوري

مکان میں

إسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد فؤاد پاشا (پیدائش: استنبول، 1814ء – وفات: نیس، فرانس، فروری 1869ء) عثمانی سیاست دان تھے، دو بار صدرِ اعظم (نومبر 1861ء – جنوری 1863ء اور جون 1863ء – جون 1866ء) رہے، 1860ء میں شام کی مہم کی قیادت کی، اور مصطفیٰ رشید پاشا و محمد امین عالی پاشا کے ساتھ دورِ تنظیمات کے تین بڑے رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ 1 2 وہ شاعر و عالم کجّہ جی زادہ عزت ملا کے بیٹے تھے اور اپنی ذہانت و حاضر جوابی کے لیے مشہور تھے۔ 2

    زندگی اور عہد

    فؤاد پاشا ایک نامور علما خاندان میں پیدا ہوئے؛ مدرسے کی تعليم ادھوری چھوڑ کر طبّی اسکول سے فارغ ہوئے اور بحریہ میں طبیب رہے، پھر فرانسیسی مہارت کی بدولت تیونس اور بابِ عالی میں مترجم بنے اور 1848ء میں پیٹرزبرگ میں زار کو سیاسی پناہ گزینوں کی حوالگی کے مطالبے سے باز رکھا۔ 1 1852ء میں وزیرِ خارجہ بنے اور مجلسِ تنظیمات کے صدر کی حیثیت سے 1858ء کا قانونِ ولایات اور مالی اصلاحات نافذ کیں۔ 1 1860ء میں جبلِ لبنان کی خانہ جنگی کے بعد انہیں غیر معمولی اختیارات کے ساتھ شام بھیجا گیا؛ انہوں نے سینکڑوں ملزمان کو سزائیں دیں اور بیروت کی بین الاقوامی کمیٹی کی صدارت کی جس نے 1861ء میں جبلِ لبنان کو غیر مقامی مسیحی حاکم کے تحت متصرفیت قرار دیا۔ 1 1866ء میں خدیو اسماعیل کی بیٹی سے سلطان کی مجوزہ شادی کی مخالفت پر صدارت سے مستعفی ہوئے؛ 1867ء میں دوبارہ وزیرِ خارجہ بنے، سلطان کے دورۂ یورپ میں ہمراہ رہے، صحت بگڑی تو فرانس گئے اور نیس میں وفات پائی۔ 1

    ان کا سیاسی نظریہ «عثمانیت» تھا: تمام رعایا — مسلمان، یہودی، عیسائی — کو مساوی عثمانی شہریت کے بندھن میں باندھ کر سلطنت کو بچانا۔ 1 انہوں نے برطانیہ و فرانس سے روس کے خلاف اتحاد کی وصیت کی؛ سول عدالتوں کے لیے فرانسیسی طرز کے مدنی قانون کے حامی تھے مگر بادشاہتِ مطلقہ کے زبردست مؤید بھی، اس لیے لبرل نوجوان عثمانیوں سے ان کی ٹکر رہی۔ 1

    موقف و نقد

    یہ حصہ ماخذوں میں منقول مواقف کی پیش کش کے طور پر پڑھا جائے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    انگریزی مضمون شام میں ان کی سختی کو بعض کے نزدیک «دہشت کا عہد» کہتا ہے، جبکہ عثمانی حکام اسے قانون کے سامنے برابری کی غیرجانبدار عدالت قرار دیتے تھے۔ 1 ان کے مذہب کے بارے میں کوئی مضمون ان کا مسلک نہیں بتاتا؛ ترکی مضمون کا دینی خانہ خالی ہے، عربی مضمون کا دینیہ خانہ خالی ہے، اور وکی ڈیٹا کی قدر صرف عمومی «اسلام» ہے۔ 2 3 4 علما خاندان اور مدرسے کی تعلیم ان کا پس منظر ہے، گواہی نہیں، اور انگریزی مضمون کا انہیں فری میسن بتانا لاج رکنیت ہے، فقہی مسلک نہیں؛ اس لیے ان کا مسلک ریکارڈ میں نامعلوم رکھا گیا ہے۔ 1 تواریخ میں اختلاف ہے: ترکی مضمون ان کی وفات کا سال 1868ء لکھتا ہے جبکہ انگریزی، عربی و وکی ڈیٹا 1869ء کہتے ہیں، اور وفات کا دن انگریزی کے پاس 12 فروری اور وکی ڈیٹا کے پاس 13 فروری ہے؛ ریکارڈ نے 1869ء اور انگریزی کے دن کی پیروی کی ہے۔ 2 4

    حوالہ جات

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرّف ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی بعد کی ترجمہ و تدوین کو واضح تواریخ کے ساتھ دورانی جائزے کی ضرورت ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    إسطنبول
    Patronized by
    مصطفیٰ رشید پاشا

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    خط شريف كلخانة· احمد جودت پاشا· محمد امین عالی پاشا· مصطفیٰ رشید پاشا· إسطنبول· جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق

    ماخذ

    1. Mehmed Fuad Pasha — English Wikipedia
    2. Keçecizâde Fuad Paşa — Turkish Wikipedia
    3. محمد فؤاد باشا — Arabic Wikipedia
    4. Mehmed Fuad Pasha — Wikidata Q715917
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد فؤاد پاشا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/kececizade-fuad-pasha/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    خط شريف كلخانة

    The Gülhane decree (1839): Reshid Pasha's charter proclaiming equal rights for all Ottoman subjects regardless of faith — denounced by the ulema, and read by the source as the price paid to Britain for settling the Egyptian crisis.