ایک نظر میں
- کردار
- reciter · واعظ
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
سنی (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
عادل بن سالم بن سعید الکلبانی، کنیت ابو عبد الإلہ، سعودی قاری و امامِ قرآن ہیں، 3 اپریل 1959 (25 رمضان 1378ھ) کو ریاض میں پیدا ہوئے۔ وہ تقریباً بیس سال ریاض کی جامع مسجدِ ملک خالد کے امام رہے، اور 2008 میں شاہ عبداللہ نے انہیں مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام میں تراویح کی امامت کے لیے منتخب کیا، یوں وہ وہاں نماز پڑھانے والے پہلے سیاہ فام امام بنے۔ 2009 سے 2021 تک وہ ریاض کے محلہ اشبیلیہ کی مسجد المحیسن کے امام رہے؛ ان کی روایتِ حفص عن عاصم میں مکمل مرتل تلاوت ریکارڈ شدہ موجود ہے اور ان کی میڈیا میں وسیع موجودگی ہے۔ 1 2 3
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ 1959 (1378ھ) میں ریاض میں پیدا ہوئے؛ ان کے والدین غریب مہاجر تھے جو 1950 کی دہائی میں امارتِ راس الخیمہ (متحدہ عرب امارات) سے سعودی عرب آئے تھے، اور ان کے والد سرکاری ملازم تھے۔ ہائی اسکول کے بعد انہوں نے سعودی عربین ایئر لائنز میں کام کیا اور شام کو شاہ سعود یونیورسٹی میں پڑھا۔ ان کے اساتذہ میں حسن بن غانم الغانم (جن سے صحیح بخاری، جامع ترمذی اور تفسیر ابن کثیر پڑھی)، مصطفی مسلم (تفسیر بیضاوی) اور عبداللہ بن جبرین شامل ہیں، اور انہیں بعض قراءتوں میں اجازے حاصل ہیں۔ 1994 میں انہوں نے مساجد کے اماموں کی تقرری کا سرکاری امتحان پاس کیا۔ 1 2
کارنامہ
وہ مختصر عرصہ ریاض ایئرپورٹ کی مسجد کے امام رہے، پھر ام الحمام، ریاض کی جامع مسجدِ ملک خالد کے امام بنے اور عربی مضمون کے مطابق تقریباً بیس سال وہاں رہے۔ وہ عرصے سے مسجد الحرام کے امام بننے کا خواب دیکھتے تھے؛ 2008 میں شاہ عبداللہ نے انہیں تراویح کی امامت کے لیے منتخب کیا، شاہی فرمان 4 رمضان 1429ھ کو جاری ہوا، اور انہوں نے 6 رمضان کی رات پہلی بار امامت کی۔ رمضان کے اختتام پر ان کی ذمہ داری ختم ہوئی اور وہ ریاض واپس آ گئے۔ اس کے بعد وہ 1430ھ (2009) میں مسجد المحیسن کے افتتاح سے 1442ھ (2020/2021) تک اس کے امام رہے۔ ان کا اپنے بارے میں مشہور قول، جو 2013 میں اخبار «أنحاء» نے نقل کیا: «میں قاری ہوں، شیخ نہیں۔» 1 2
کام اور میڈیا
روایتِ حفص عن عاصم میں ان کی مکمل مرتل تلاوت ریکارڈ شدہ ہے، جو قرآن کے پلیٹ فارموں پر، بشمول یہاں درج «اسلام زوم» صفحے پر، دستیاب ہے۔ انہوں نے رمضان 2019 میں سعودی ٹیلی ویژن پر پروگرام «مع الکلبانی» پیش کیا، 2012 سے اخبار الریاض میں مضامین لکھے، تلاوتِ قرآن و اذان کے مقابلے «عطر الکلام» کی نگرانی کی، اور کئی ٹیلی ویژن پروگراموں اور انٹرویوز میں شریک ہوئے۔ نومبر 2021 میں وہ ریاض سیزن 2021 کی ایک سرگرمی «کومبیٹ فیلڈ» کے تشہیری ویڈیو میں آئے، جس پر وسیع ردِ عمل ہوا جسے بی بی سی عربی سمیت میڈیا نے نشر کیا۔ 1 2 3 ان کی تلاوتیں اور گفتگو ان کے اپنے یوٹیوب چینل (@youadelalkalbani) پر بھی شائع ہوتی ہیں۔ 4
آرا اور تنقید
یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مواقف اور ان پر ردِ عمل پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے، اور ان کے بعد کے رجوع بھی انہی ماخذوں کے مطابق یہیں درج ہیں۔
2009 میں بی بی سی عربی کو انٹرویو میں انہوں نے شیعہ اثنا عشری علما کو مرتد قرار دیا اور کہا کہ شیعہ کو مجلسِ علما میں نہیں بیٹھنا چاہیے؛ سعودی شیعہ شخصیات، جن میں حسن الصفار اور عبدالکریم الحبیل شامل ہیں، نے معافی یا برطرفی کا مطالبہ کیا۔ 2019 میں حاتم العونی کی کتاب پڑھنے کے بعد انہوں نے اس موقف سے رجوع کیا اور کہا کہ وہ اب ان لوگوں کو مرتد نہیں سمجھتے جو «ایک خدا پر ایمان رکھتے ہیں، ہمارا حلال گوشت کھاتے ہیں اور ہمارے قبلے کی طرف سجدہ کرتے ہیں»۔ انہوں نے گانے کو جائز قرار دینے کا فتویٰ دیا، 2010 میں اس سے رجوع کیا، اور 2019 میں دوبارہ گانے کو جائز کہا۔ 1
ذاتی زندگی
ماخذ کے مطابق ان کی دو بیویاں اور بارہ بچے ہیں، جن میں سات بیٹیاں اور پانچ بیٹے شامل ہیں۔ 1
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔
ماخذ
- Adil al-Kalbani — English Wikipedia
- Adel Al-Kalbani — Arabic Wikipedia
- Adel Al Kalbani — IslamZoom biography and recitation
- Adel al-Kalbani — his YouTube channel
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “عادل الکلبانی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/adel-al-kalbani/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.