عبد الخالق ثروت

عبد الخالق ثروت

–

القاهرة

مصری سیاست دان اور منصف، برطانوی قبضے کے بعد پہلے مصری اٹارنی جنرل، وزیرِ انصاف اور پھر وزیرِ داخلہ، اور دو بار وزیرِ اعظم: 1922 میں جب مصر کی آزادی کا یکطرفہ اعلان جاری ہوا، اور 1927–1928 میں جب برطانیہ سے ان کا مسودۂ معاہدہ مسترد ہوا اور انہوں نے استعفیٰ دیا؛ وہ 1928 میں پیرس میں انتقال کر گئے اور قاہرہ میں دفن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · فقیہ
خطہ
egypt-nile
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد القادر المغربي · مولوی عبد الحق · عبد الکریم خان · حاجی عبد الرحمان لمبونگ · عبد اللہ جودت

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عبد الخالق ثروت پاشا (1873–1928) مصری منصف اور سیاست دان تھے: برطانوی قبضے کے بعد پہلے مصری اٹارنی جنرل، وزیرِ انصاف اور پھر وزیرِ داخلہ، اور دو بار وزیرِ اعظم — 1922 میں جب برطانیہ نے مصر کی آزادی کا یکطرفہ اعلان جاری کیا، اور 1927–1928 میں جب لندن سے لایا گیا ان کا مسودۂ معاہدہ مسترد ہوا اور انہوں نے استعفیٰ دیا۔ انگریزی مضمون پیرس میں ان کی وفات کے دن کے بارے میں خود سے متصادم ہے، 22 ستمبر اور 22 نومبر 1928 دونوں دیتا ہے؛ ستمبر کی تاریخ، جو ویکی ڈیٹا کی دن والی درست قدر میں بھی ہے، اپنائی گئی ہے اور تاریخ متنازع نشان زد ہے۔ 1 2

    منصف

    وہ قاہرہ میں 1873 میں پیدا ہوئے — مضمون کا نشأت والا متن مکمل تاریخ 31 مارچ 1873 دیتا ہے — ایک ایسے خاندان میں جس کی جڑیں اناطولیہ میں تھیں؛ ان کے والد اسماعیل عبد الخالق پاشا مصر کے روزنامچی (مالیات کے نگران) تھے۔ انہوں نے 1893 میں خديوی لا اسکول سے اپنی جماعت میں اول آ کر گریجویشن کیا اور چھبیس برس وزارتِ انصاف میں گزارے — ضلعی اٹارنی، جج، اور دو برطانوی عدالتی مشیروں کے سیکرٹری؛ محمد حسین ہیکل نے لکھا کہ جو اعتماد انہوں نے حاصل کیا اس نے انہیں پچیس برس کی عمر سے پہلے ہی وزارت کا اہم فیصلہ ساز بنا دیا۔ 1912 میں، اس وقت کے وزیرِ انصاف اور بعد کے سیاسی حریف سعد زغلول کی سفارش پر، وہ قبضے کے بعد اٹارنی جنرل بننے والے پہلے مصری بنے، خديوی، برطانویوں اور وزارتی ساتھیوں کے اعتراضات کے باوجود؛ جب لبرل اخبار «الجریدہ» کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تو انہوں نے انکار کر دیا، یہ مؤقف لے کر کہ کوئی قانون اس مطلوبہ استغاثہ کو جائز قرار نہیں دیتا۔ 5 اپریل 1914 سے 22 اپریل 1919 تک وہ حسین رشدی کی کابینہ میں وزیرِ انصاف رہے اور ملزمان کے تحفظات اور اپیلوں کے قواعد متعارف کرائے۔ 1

    اعلان کے وزیرِ اعظم

    وفد میں تقسیم کے بعد وہ عدلی یكن کی 1921 کی کابینہ میں وزیرِ داخلہ رہے، اور جب کرزن مذاکرات کی ناکامی پر عدلی نے استعفیٰ دیا تو ثروت نے حکومت بنانے کے لیے اپنی شرائط رکھیں۔ 28 فروری 1922 کو برطانیہ نے یکطرفہ اعلان جاری کیا جس میں مصر کو آزاد خودمختار ریاست تسلیم کیا گیا، چار امور لندن کے لیے محفوظ رکھ کر؛ 1 مارچ کو ثروت نے اپنی کابینہ بنائی، داخلہ اور خارجہ اپنے پاس رکھے، آئین، مارشل لا کے خاتمے، انتخابات اور بحال شدہ وزارتِ خارجہ کے پروگرام کے ساتھ۔ ان کی حکومت 30 نومبر 1922 کو گر گئی۔ وہ لبرل کانسٹیٹیوشنل پارٹی کے بانیوں میں سے تھے۔ جب 26 اپریل 1927 کو انہیں دوبارہ بلایا گیا — سعد زغلول کی وفات وفد کی قیادت بدل چکی تھی — تو انہوں نے لندن میں آسٹن چیمبرلین سے محفوظ امور پر مذاکرات کیے؛ جو مسودۂ معاہدہ وہ لائے اسے وفد نے اور ان کی اپنی کابینہ نے 4 مارچ 1928 کو مسترد کر دیا، اور وہ 16 مارچ 1928 کو مستعفی ہو گئے۔ اسی سال پیرس میں ایک ذاتی دورے کے دوران ان کا انتقال ہوا، ان کی اہلیہ اور بیٹا مصطفیٰ ان کے ساتھ تھے، اور قومی جنازوں کے بعد انہیں قاہرہ میں دفن کیا گیا۔ مضمون کی دونوں تاریخیںِ وفات — اس کے بیانی خلاصے میں 22 ستمبر، وفات والے حصے میں 22 نومبر — ان کے ریکارڈ میں دونوں درج رہتی ہیں؛ ماخذ ان کے درمیان فیصلہ نہیں کرتے۔ 1

    ان کے عقیدے کا سوال

    عدلی یكن کی طرح یہاں بھی ریکارڈ خاموش ہے۔ انگریزی مضمون میں مذہب کا کوئی خانہ نہیں، اور اس کی طویل بیانیہ جہاں کہیں مذہب کو چھوتی ہے تو سیاست کے طور پر — کمیٹیوں کے بانیوں میں مذہبی عہدیدار، طہ حسین کی کتاب کے معاملے میں لبرلز کے خلاف کھڑی مذہبی اسٹیبلشمنٹ، وہ کتاب جو حسین نے ثروت کو منسوب کی تھی۔ ان میں سے کوئی چیز خود ثروت کے لیے نسبت نہیں بتاتی۔ عربی مضمون میں مذہب کا کوئی خانہ نہیں، اور ویکی ڈیٹا میں مذہب کی کوئی قدر نہیں۔ مسلم اکثریتی ریاست کی عدلیہ اور کابینہ میں گزرا سفر منصب ہے، شہادت نہیں؛ جو کچھ بھی دیکھا گیا اس میں اس شخص کے لیے ذاتی طور پر مذہبِ فقہی کا نام لینے والے دو آزاد ماخذ موجود نہیں۔ ان کا عقیدہ نامعلوم درج کیا گیا ہے۔ 1 3 2

    ماخذ

    • اوپر مذکور متعین ماخذ وجودات، data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی مؤرخہ ہو اور ہر واقعہ کو بدلنے والے ماخذ کا نام لے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    القاهرة
    Buried in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ

    ماخذ

    1. Abdel Khalek Sarwat Pasha — English Wikipedia
    2. Abdel Khalek Sarwat Pasha — Wikidata Q4116115
    3. Abdel Khalek Sarwat Pasha — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عبد الخالق ثروت”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abdel-khalek-sarwat-pasha/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.