الموطأ 480 — أول ما يُنظر فيه من عمل العبد الصلاة

الموطأ 480 — أول ما يُنظر فيه من عمل العبد الصلاة

گہرائی

ایک نظر میں

جائزہ
مسودہ تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

سندِ روایت

  1. مالك بن أنس
  2. يحيى بن سعيد بن قيس الأنصاري

موجز

ایک بلاغ جو مالک یحییٰ بن سعید سے روایت کرتے ہیں کہ انہیں پہنچا کہ بندے کے عمل میں سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا؛ اگر وہ قبول ہوئی تو باقی عمل کا حساب ہوگا، اور اگر قبول نہ ہوئی تو اس کے کسی عمل کا حساب نہیں ہوگا؛ یہ باب جامع الصلاۃ میں ہے۔ ابن عبدالبر سے نقل کرتے ہیں کہ ایسی بات رائے سے نہیں ہوتی بلکہ توقیف ہوتی ہے، اور یہ تمیم داری اور ابو ہریرہ کی صحیح وجوہ سے مسند روایت کی گئی ہے (التمہید 24/79–80)؛ اور محقق کی رائے ہے کہ تمیم کی حدیث احمد، دارمی، ابو داؤد (866)، ابن ماجہ (1426) اور حاکم کے ہاں سند کے لحاظ سے صحیح ہے، اور ابو ہریرہ کی حدیث اگرچہ ترمذی (413) نے حسن کہی، ضعیف اور مضطرب ہے جیسا کہ دارقطنی نے العلل میں واضح کیا، اور مزی کا تہذیب الکمال میں قول نقل کرتے ہیں کہ یہ مضطرب حدیث ہے۔ 1 2

موضعه في المتحف

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Part of
الموطأ، كتاب الصلاة
Mentions
يحيى بن سعيد بن قيس الأنصاري· تميم الداري· أبو هريرة
Basis for
الصلاة· الآخرة: القبر والبعث والحساب

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

الموطأ 4 — النساء ينصرفن من الصبح متلفعات بمروطهن· الموطأ 5 — من أدرك ركعة من الصبح قبل طلوع الشمس· الموطأ 9 — أبو هريرة يبين أوقات الصلاة بالظل· الموطأ 15 — من أدرك ركعة من الصلاة فقد أدرك الصلاة· الموطأ 18 — بلاغ عن أبي هريرة: من فاته أم القرآن فاته خير كثير· الموطأ 22 — عمر لمن تخلف عن العصر: طففت· الموطأ 23 — يحيى بن سعيد: ما فاته من وقتها أعظم من أهله وماله، وأقوال مالك في الوقت· الموطأ 28 — أبو هريرة: إذا اشتد الحر فأبردوا عن الصلاة

ماخذ

  1. الموطأ، رواية يحيى بن يحيى الليثي (تحقيق بشار عواد معروف) , p.246
  2. الموطأ، رواية يحيى بن يحيى الليثي (تحقيق بشار عواد معروف) , p.247
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “الموطأ 480 — أول ما يُنظر فيه من عمل العبد الصلاة”. islam.museum، https://islam.museum/ur/passage/muwatta-1-480/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-17.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

متعلقہ

الموطأ 4 — النساء ينصرفن من الصبح متلفعات بمروطهن

A'isha: the dawn prayer used to be held in the last darkness of night, and the women would leave wrapped in their garments, unrecognized by anyone in the dark.