تسوید (سید کہنا، اور سیاہ رنگ کرنا یا سیاہ پہننا)

التسويد

Tasweed has two senses that the jurists treat: the first is honouring someone with the title sayyid, and the second is dyeing with black, the opposite of white. 1 2 Under sovereignty they discuss the title for the Prophet in prayer and outside it, for others, for the hypocrite, and whether sayyid may be said of anyone but God. 3 4 Under black they discuss dyeing with it, wearing it in mourning, condolence and dress, and blackening the face in discretionary punishment. 5 6 Most schools dislike dyeing with black except in jihad and differ on the detail; the Shafi'is hold it forbidden. 5 7

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
global
جائزہ
مسودہ تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

family-marriage-kinshipethics-and-characterworship-and-the-pillars

خلاصہ

فقہاء کے ہاں تسوید کے دو معنی ہیں: کسی کو سیّد (سردار) کے لقب سے نوازنا، اور سیاہ رنگ سے رنگنا، جو سفید کا الٹ ہے۔ 1 2

سیادت: سیّد کا لقب

نماز میں نبی کے لیے سیّد کا لفظ: بعض متأخر فقہاء ابراہیمی درود میں «سیدنا» کا اضافہ ادب کے طور پر مستحب کہتے ہیں، جبکہ دوسرے ماثور الفاظ کی پابندی کو بہتر سمجھتے ہیں۔ 3

نماز کے باہر نبی کو سیّد کہنا: سب کے نزدیک سیادت آپ ہی کے لیے ثابت ہے، مگر روایات میں اختلاف ہے کہ آپ کو سیّد کہا جا سکتا ہے یا نہیں، کیونکہ آپ سے منقول ہے کہ سرداروں کی طرح مجھے سیّد نہ کہو۔ علماء اسے انکساری پر، یا جاہلیت کی تحیّت پر، یا تعریف میں مبالغے سے بچنے پر محمول کرتے ہیں۔ 3 8 9

دوسروں کو سیّد کہنا: جمہور فقہاء اس کے جواز کے قائل ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ لفظ اللہ کے سوا کسی کے لیے صرف اضافت کے ساتھ آتا ہے، اور کچھ کے نزدیک غلام کا اپنے مالک کو سیّد کہنا درست ہے۔ کچھ علماء نے کسی کو سیّد کہہ کر مخاطب کرنا ناپسند کیا، خاص طور پر اگر وہ متقی نہ ہو۔ 9 4

اس لقب کا مستحق کون: سیّد «سؤدد» سے ہے، یعنی بزرگی اور شرف۔ یہ اس شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو جماعت کا سرپرست ہو اور جس کا نفس مہذب ہو، اور ہر اس شخص کے لیے جس میں نیک خصلتیں جمع ہوں۔ 4

منافق کو سیّد کہنا: منافق کو سیّد نہ کہا جائے، کیونکہ اس کا باطن ظاہر کے مطابق نہیں، اور اس سے منع کی روایت آئی ہے۔ 4 5

سیاہ رنگ: خضاب، لباس اور تعزیر

سیاہ خضاب

حنفیہ، مالکیہ اور حنابلہ جہاد کے سوا مرد کے لیے سیاہ خضاب کو عام طور پر مکروہ کہتے ہیں۔ حنفیہ اور مالکیہ کے ہاں تفصیل ہے: دشمن کو رعب دلانے کے لیے جنگ میں سیاہ خضاب بالاتفاق پسندیدہ ہے، اور عورتوں کے لیے زینت کی غرض سے مکروہ ہے، جبکہ مالکیہ کے نزدیک دھوکہ دہی کی نیت ہو تو حرام ہے، جیسے کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کا ارادہ رکھتا ہو اور اپنی سفید داڑھی کو سیاہ کر لے۔ 5 7

شافعیہ کے نزدیک سیاہ خضاب عام طور پر حرام ہے، اور نووی کہتے ہیں کہ صحیح قول حرمت کا ہے، سوائے جہاد کے۔ وہ ابو قحافہ کی روایت سے استدلال کرتے ہیں، جن کے سفید بالوں کو فتح مکہ کے دن بدلنے اور سیاہ سے بچنے کا حکم دیا گیا تھا۔ 7

عورت کے لیے: شافعیہ کے نزدیک غیر شادی شدہ عورت کا سیاہ خضاب حرام ہے، اور بیوی کے لیے شوہر کی اجازت سے جائز ہے، کیونکہ شوہر کو اس کی زینت میں غرض ہوتی ہے۔ اسحاق بن راہویہ سے منقول ہے کہ وہ عورت کو شوہر کے لیے اس سے زینت کی اجازت دیتے تھے۔ 7

اس کی تفصیل «اختضاب» کے مدخل میں ہے۔ 7

سوگ میں سیاہ لباس

فقہاء کا اتفاق ہے کہ بیوہ کے لیے سیاہ لباس پہننا جائز ہے، مگر واجب نہیں۔ حنفیہ میں سے بعض نے سیاہ رنگ کے سوگ کی مدت تین دن تک محدود کی، جبکہ مذہب کے فقہاء اسے اس رنگ پر محمول کرتے ہیں جو غم میں رنگوایا جائے، اور وفات سے پہلے کا سیاہ لباس پوری مدتِ سوگ میں پہنا جا سکتا ہے۔ حنفیہ شوہر کے سوا کسی اور کے سوگ میں سیاہ پہننے سے منع کرتے ہیں۔ 7 10

مالکیہ کے نزدیک سوگ کرنے والی عورت سیاہ پہن سکتی ہے، سوائے اس کے کہ وہ نہایت گوری ہو یا سیاہ رنگ اس کی قوم کی زینت ہو۔ شافعیہ کے نزدیک اگر سیاہ رنگ قوم کی زینت کا عادی ہو تو اس کا پہننا حرام ہے، اور ماوردی نے سوگ میں سیاہ پہننے کو واجب کہنے والا ایک قول ذکر کیا ہے۔ 10

تعزیت میں سیاہی

فقہاء کا اتفاق ہے کہ میت کے غم میں چہرہ سیاہ کرنا ممنوع ہے، کیونکہ اس میں بے قراری اور تقدیر پر عدم رضا ظاہر ہوتی ہے۔ تعزیت میں سیاہ کپڑے مردوں کے لیے مکروہ اور عورتوں کے لیے جائز ہیں، جبکہ غم میں کپڑوں کو سیاہ یا مٹیالا رنگنا جائز نہیں۔ 10

لباس اور عمامہ

حنفیہ سیاہ لباس کو مستحب کہتے ہیں، اور شیبانی کی سیر میں مذکور ایک حدیث سے استدلال کرتے ہیں، جبکہ ابو حنیفہ سے منقول ہے کہ سیاہ رنگنے میں کوئی حرج نہیں۔ 10

شافعیہ کے نزدیک جمعہ کے خطیب کے لیے اچھی ہیئت مستحب ہے، اور سیاہ لباس ترک کرنا بہتر ہے، جب تک ترک سے کوئی خرابی لازم نہ آئے۔ ابن عبد السلام نے سیاہ لباس کی مداومت کو بدعت کہا۔ نبی سے منقول ہے کہ آپ نے سفید اور سیاہ دونوں عمامے باندھے، مگر عام روایت کی بنا پر سفید رنگ افضل ہے۔ 10

حنابلہ سیاہ کی اجازت دیتے ہیں، یہاں تک کہ سپاہیوں کے لیے بھی، کیونکہ نبی فتح مکہ کے دن سیاہ عمامہ پہن کر داخل ہوئے تھے۔ 6

تعزیر میں چہرہ سیاہ کرنا

حنفیہ اور مالکیہ تعزیر میں سیاہی (سخام) سے چہرہ داغنا جائز نہیں کہتے۔ شافعیہ اور حنابلہ اسے جائز کہتے ہیں، کیونکہ امام تعزیر کی نوعیت اور مقدار میں اجتہاد کرتا ہے تاکہ جرم کے مطابق ہو، اور ترتیب و تدریج کا لحاظ رکھتا ہے۔ 6

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

الشَّهْوة· الشَّكّ· خوشی اور مسرت (الفرح والسرور)· علانیہ (کھلے عام ہونا)· عمد (ارادی فعل)· عنت (گناہ کا خوف)· عقیقہ (نومولود کی طرف سے ذبیحہ)· عقر (جانور کو زخمی کرنا)

ماخذ

  1. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5115
  2. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5116
  3. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5117
  4. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5120
  5. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5121
  6. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5124
  7. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5122
  8. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5118
  9. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5119
  10. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.5123
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “تسوید (سید کہنا، اور سیاہ رنگ کرنا یا سیاہ پہننا)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/tasweed-sovereignty-and-blackening/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-23.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

لوگ

نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
متعلقہ

الشَّهْوة

Shahwa is the longing of the self for pleasant things. Al-Mawardi held that the self should be given a measured share of what is lawful. It has effects in law. The Hanafis break ablution by touch only with gross contact; the Malikis and Hanbalis limit breach by touch to touch with desire; the Shafi'is make any contact of skin a breach. Emission by sustained looking breaks the fast in the view of the Malikis and Hanbalis but not in that of the Hanafis and Shafi'is. Looking with desire at a woman is forbidden, whether she is a stranger or one's kin, except one's wife. The Hanafis hold that touch or look with desire makes a marriage forbidden as in the case of unlawful intercourse.