تربّع (پالتی مار کر بیٹھنا)

التربع

Tarabbu is a way of sitting: one sits on the hips, stretches the right knee to the right and the right foot to the left. In prayer it is allowed for one who cannot stand; in an obligatory prayer without excuse the Hanafis call it disliked, and most jurists hold it departs from the required posture. In a voluntary prayer, sitting is allowed while one can stand, though standing is better. Reciting the Qur'an is allowed in any position. 1 2 3 4

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
global
جائزہ
مسودہ تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

worship-and-the-pillarshealth-body-death

خلاصہ

تربّع بیٹھنے کی ایک صورت ہے، جس میں کولہوں پر بیٹھا جاتا ہے اور دائیں گھٹنے کو دائیں طرف پھیلایا جاتا ہے۔ معذور کے لیے نماز میں جائز ہے، فرض نماز میں بغیر عذر حنفیہ کے نزدیک مکروہ ہے، اور نفل میں قیام کی قدرت کے باوجود بیٹھنا جائز ہے، جبکہ قیام افضل ہے۔ 1 3

معذور کی نماز

جو قیام نہ کر سکے وہ بیٹھ کر نماز پڑھے، جیسا کہ حدیث عمران بن حصین میں ہے۔ مالکیہ کے مشہور قول، شافعیہ کے ایک قول اور حنابلہ کے نزدیک تربع مستحب ہے، جبکہ حنفیہ اور شافعیہ کا اظہر قول افتراش ہے۔ 2 3

فرض نماز بغیر عذر

تربع تشہد کی منقول ہیئت کے خلاف ہے۔ حنفیہ اس کو بغیر عذر مکروہ کہتے ہیں، کیونکہ ابن عمر نے اپنے بیٹے کو اس سے منع کیا تھا۔ ابن عبد البر نے صحیح شخص کے لیے فرض نماز میں تربع کی ممانعت پر اجماع نقل کیا۔ 3

نفل نماز اور قرآن

نفل نماز بیٹھ کر پڑھنا قیام کی قدرت کے باوجود جائز ہے، مگر قیام افضل ہے، کیونکہ حدیث میں ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھنے والے کو پورا اجر ہے اور بیٹھ کر پڑھنے والے کو آدھا۔ قرآن مجید کسی بھی حال میں پڑھا جا سکتا ہے۔ 3 4

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

ہڈی (عظم)· هادي· الشَّعْر والصُّوف والوَبَر· هُدْب· ہتھیلی (کف)· صلاة الجنازة· حكم تارك الصلاة· أداء

ماخذ

  1. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4930
  2. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4931
  3. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4932
  4. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4933
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “تربّع (پالتی مار کر بیٹھنا)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/tarabbu/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-23.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

زندہ اسلام

خطے کے لحاظ سے عبادات، اسلامی سال، تہوار، کھانا، لباس اور موسیقی۔
متعلقہ

ہڈی (عظم)

In the lexicon, adhm is the bone that has flesh on it, plural 'idham and 'izam. Most jurists hold that a human bone is pure, whether living or dead, of a Muslim or not; that a fish bone stays pure after death; and that the bone of a lawfully slaughtered edible animal is pure and may be used. The bone of carrion, or of a non-edible animal, is impure according to the Malikis, Shafi'is, Hanbalis and Ishaq, and cannot be purified; the Hanafis hold it pure, and 'Umar disliked oiling in ivory. On cleansing after excretion with a bone, the Shafi'is and Hanbalis forbid it; the Hanafis dislike it as forbidden but accept that it suffices; the Malikis forbid a carrion bone and allow a pure bone with disapproval. Most jurists allow retaliation for a bone only at a joint, since equality cannot be achieved elsewhere.