اللہ سے شکوہ

الشكوى إلى الله

شیخ عمر عبدالکافی کہتے ہیں کہ جاہل لوگوں سے اللہ کی شکایت کرتا ہے، اور جو اپنے رب کو پہچانتا ہے وہ مخلوق سے اس کی شکایت نہیں کرتا۔ ان کی رائے ہے کہ شکوہ صرف اللہ سے کرنا چاہیے، ہر چھوٹے بڑے سے نہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
global
جائزہ

ethics-and-character

خلاصہ

شیخ کہتے ہیں کہ جاہل لوگوں سے اللہ کی شکایت کرتا ہے، اور جو اپنے رب کو پہچانتا ہے وہ مخلوق سے اس کی شکایت نہیں کرتا۔ 1 2

لوگوں کا لوگوں سے شکوہ

شیخ بیان کرتے ہیں کہ سلف میں سے کسی نے ایک شخص کو دوسرے سے شکوہ کرتے دیکھا، تو اس سے کہا کہ تم اس سے شکوہ کر رہے ہو جو تم پر رحم کرتا ہے، اس کے پاس جو تم پر رحم نہیں کرتا، اور جو انسان سے شکوہ کرتا ہے وہ گویا رحم کرنے والے کا شکوہ اس کے سامنے کرتا ہے جو رحم نہیں کرتا۔ 3

اللہ سے شکوے کی آیت

شیخ ایک آیت پڑھتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ شکوہ کرنے والا صرف اللہ ہی سے شکوہ کرتا ہے، اور اس آیت کا نام شیخ نے ریکارڈنگ میں نہیں لیا۔ 4

ہر چھوٹے بڑے سے شکوہ نہ کریں

شیخ کہتے ہیں کہ ہم ہر چھوٹے بڑے سے شکوہ نہیں کرتے، اور نہ ہر اس شخص سے جس نے ہمیں تکلیف دی (needs_source: شیخ کی عبارت اس مقام پر ریکارڈنگ میں مضطرب ہے)، اور شکوہ رب العالمین ہی سے کرنا چاہیے۔ 5

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

أداء الدين· أداء الشهادة· حاملِ قرآن کے آداب· کاٹنا (عض)· اذی (معمولی تکلیف: نقصان دہ چیزوں کو ہٹانا اور تکلیف نہ دینے کا حکم)· عدل اور فضل· عفو· عہد

ماخذ

  1. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Sharh Ketab Al Fawaed، قسط 3, 00:17:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  2. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Sharh Ketab Al Fawaed، قسط 3, 00:17:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  3. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Sharh Ketab Al Fawaed، قسط 3, 00:18:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  4. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Sharh Ketab Al Fawaed، قسط 3, 00:18:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  5. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Sharh Ketab Al Fawaed، قسط 2, 00:56:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “اللہ سے شکوہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/shakwa-ila-allah/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

أداء الدين

Paying a debt in the form owed is obligatory by consensus. A debt due now must be paid on demand when the debtor can pay; a deferred debt is not due before its term. Payment is made in like items, with value owed where there is no like; a better payment is allowed when unconditioned. Remission, gift, assignment, set-off and settlement take the place of payment. A solvent debtor who refuses is compelled, imprisoned and his apparent property sold; the majority hold that a bankrupt is put under interdiction and his property divided among creditors, against Abu Hanifa. The insolvent is given respite, and his debt may be paid from zakat if he borrowed for himself in a lawful matter. A dead person's debt attaches to his estate and takes precedence over bequests and inheritance.