تابوت اور سکینہ (مقدس آثار)

التابوت والسكينة

شعراوی کے نزدیک عقیدے اور نبوت کے واقعات سے جڑے آثار کی حفاظت کرنی چاہیے اور انہیں شرک نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق تابوت میں اللہ کی طرف سے سکینہ اور آل موسیٰ و آل ہارون کی چھوڑی ہوئی بقیہ چیزیں تھیں، اور حکمرانوں کو انہیں محفوظ رکھنا چاہیے تاکہ لوگوں کو اطمینان ملے 1 2 3۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر النبوي
خطہ
global
جائزہ
مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

worship-and-the-pillars

خلاصہ

شعراوی کہتے ہیں کہ جس تابوت کو اللہ نے طالوت کی بادشاہت کی نشانی بنایا وہ بنی اسرائیل کے لیے مقدس چیز تھی، جس میں اللہ کی طرف سے سکینہ اور آل موسیٰ و آل ہارون کی چھوڑی ہوئی بقیہ چیزیں تھیں 1۔

آثار کی حفاظت

وہ کہتے ہیں کہ عقیدے اور نبوت کے واقعات سے جڑے آثار ایمان کے لیے اہم ہیں اور انہیں ویسا ہی چھوڑنا چاہیے تاکہ عبرت دلائیں، انہیں شرک نہیں سمجھنا چاہیے۔ حکمرانوں کو ان کا خیال رکھنا چاہیے اور لوگوں کو ان کے فتنے سے بچانا چاہیے 2 3۔

آیت کی دلالت

ان کے مطابق آیت یہ نہیں کہتی کہ تابوت مکمل آئے گا، اور نہ یہ کہ وہ وہی تابوت ہے جس میں موسیٰ رکھے گئے تھے، بلکہ «بقیہ» کہتی ہے، اور فرشتوں کا اٹھانا اس کی عظمت کی دلیل ہے 3۔

عصائے موسیٰ

وہ بعض لوگوں کا قول نقل کرتے ہیں کہ بقیہ سے مراد عصائے موسیٰ ہے، اور اسے وہ معقول سمجھتے ہیں 4۔

ابھی تک جانچ نہیں ہوئی

یہ شعراوی کی قراءت ہے۔ تابوت پر تفسیری بحث، علمی رائے اور غیر سنی رائے کا موازنہ نہیں ہوا۔

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

حكم تارك الصلاة· أداء· اذان (نماز کی اطلاع: حکم، الفاظ، شرائط، سنتیں اور مؤذن کی صفات)· ہڈی (عظم)· خواہشات کی زینت اور دنیا کا متاع· اہل صفہ· الأرض مسجداً وطهوراً· الإنفاق في سبيل الله

ماخذ

  1. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1048
  2. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1049
  3. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1050
  4. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1051
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “تابوت اور سکینہ (مقدس آثار)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/sacred-relics-and-sakina/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-23.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

حكم تارك الصلاة

Al-Sallabi quotes Ali: whoever does not pray is an unbeliever. He then reports from al-Nawawi the dispute over one who neglects prayer while believing it obligatory: the majority (Malik, al-Shafi'i) hold him a sinner to be asked to repent, others hold him an unbeliever, a view ascribed to Ali; Abu Hanifa and the Kufans hold him not an unbeliever but to be disciplined.