قناعت

القناعة

شیخ عمر عبدالکافی کے درسوں میں قناعت اس بات کو کہتے ہیں کہ نفس اس پر راضی ہو جو اللہ نے تقسیم کیا، جبکہ لالچ انسان کو تھوڑے پر راضی نہیں ہونے دیتا۔ شیخ کے مطابق لالچ انسانی فطرت کا حصہ ہے، اور آدمی دوسروں کی چیزوں کی تمنا نہ کرے بلکہ اللہ سے اس کا فضل مانگے۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر النبوي
خطہ
global
جائزہ

spirituality-and-sufism

خلاصہ

شیخ عمر عبدالکافی قناعت کو لالچ کے مقابل رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان فطرتاً لالچ کی طرف مائل ہے اور تھوڑے پر راضی نہیں ہوتا، اور اللہ کی تقسیم پر راضی رہنا اور دوسروں کی چیزوں کی تمنا چھوڑنا سعادت کے اسباب میں سے ہیں 1۔

انسانی فطرت میں لالچ

شیخ کہتے ہیں کہ انسان کی فطرت میں لالچ اور شر ہے، اور وہ تھوڑے پر قناعت نہیں کرتا 1۔ وہ ایک قصہ پیش کرتے ہیں جسے وہ انسان کے لالچی ہونے اور تھوڑے پر راضی نہ ہونے کی دلیل کے طور پر بیان کرتے ہیں، اور یہ کہ گناہ پر اصرار کرنے سے نفس اسی کے حوالے ہو جاتا ہے (needs_source: قصے کا باقی حصہ ٹرانسکرپٹ میں واضح نہیں) 2۔

عیسیٰ اور روٹی کا قصہ

شیخ ایک قصہ سناتے ہیں جس میں عیسیٰ کے ساتھ ایک شخص ہے، کھانا تقسیم ہوتا ہے، اور مکھن کے ٹکڑے ہیں؛ وہ اسے لالچ کی وضاحت کے لیے پیش کرتے ہیں (needs_source: تفصیلات مشوش ہیں اور لفظ بہ لفظ نہیں لکھی گئیں) 3 4۔

تمنا اور اللہ کے فضل پر راضی رہنا

شیخ کہتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی دوسرے کی چیز کی تمنا نہ کرے بلکہ اللہ سے اس کا فضل مانگے؛ مرد عورتوں کی اور عورتیں مردوں کی چیز کی تمنا نہ کریں 5۔ وہ تمنا کی مثالیں دیتے ہیں، جیسے مجلسِ انتظامیہ یا پارلیمان کی رکنیت کی خواہش (needs_source: ٹرانسکرپٹ جزوی طور پر مشوش ہے) 6۔

یہاں شامل نہ ہونے والی بات

شیخ تمنا کے سیاق میں ایک قرآنی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں، لیکن ریکارڈنگ میں اس کی سورت یا آیت کا نام نہیں لیا گیا، اس لیے اسے لنک نہیں کیا گیا (needs_source)۔

شیخ عمر عبد الکافی کے شرح کتاب الفوائد کے درس (قسط 5)

شیخ کہتے ہیں کہ اصل دولت نفس کی دولت ہے، مال و متاع کی کثرت نہیں 7 8۔

شیخ کی اپنی رائے ہے کہ قناعت رکھنے والا راضی غریب بادشاہ سے بہتر حال میں ہو سکتا ہے (needs_source: تفریغ میں «بادشاہ» کا لفظ واضح نہیں) 9۔

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

الأدب النبوي· أخي بابا· فرشتے اور شیطان کا القاء· لوگوں سے مانگنا (المسألہ)· نفس اور روح· التبتل والعزوف عن الدنيا· اللہ سے انس· اليقين ودرجاته

ماخذ

  1. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Aadau Al Islam، قسط 2, 00:15:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  2. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Aadau Al Islam، قسط 2, 00:16:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  3. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Aadau Al Islam، قسط 2, 00:17:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  4. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Aadau Al Islam، قسط 2, 00:19:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  5. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Aadau Al Islam، قسط 2, 00:21:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  6. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Aadau Al Islam، قسط 2, 00:21:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  7. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Sharh Ketab Al Fawaed، قسط 5, 00:37:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  8. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Sharh Ketab Al Fawaed، قسط 5, 00:38:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  9. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Sharh Ketab Al Fawaed، قسط 5, 00:33:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “قناعت”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/qanaa/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

الأدب النبوي

The body of proper conduct the believer is commanded in his words, deeds and relations with God and His servants; from the formula 'whoever believes in God and the Last Day' in Abu Hurayra's hadith Ibn Rajab derives that these traits are of the traits of iman and that deeds enter into iman, dividing the hadith's three commands into what belongs to God's rights — speaking good or keeping silent — and what belongs to His servants' rights — honouring the neighbour, withholding harm from him and honouring the guest; he transmits Aswad ibn Asram's report of the Prophet's counsel 'do not say with your tongue except what is good and do not extend your hand except to good', and that the tongue's uprightness is of the traits of iman; Abu Amr ibn al-Salah reports from Abu Muhammad ibn Abi Zayd, the Maliki imam of his time, that the conduct of goodness and all its reins branch from four hadiths: speaking good or keeping silent, leaving what does not concern one, 'do not become angry', and loving for one's brother what one loves for oneself.