فرشتے اور شیطان کا القاء

لمّة الملك ولمّة الشيطان

شیخ عمر عبدالکافی کہتے ہیں کہ فرشتے اور شیطان دونوں کا دل پر ایک القاء ہوتا ہے، جسے لمّہ کہا جاتا ہے۔ وہ فرشتے کے القاء کو بھلائی کا وعدہ اور حق کی تصدیق بتاتے ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
global
جائزہ

spirituality-and-sufism

خلاصہ

شیخ عمر عبدالکافی کہتے ہیں کہ فرشتے اور شیطان دونوں کا دل پر ایک القاء ہوتا ہے، جسے لمّہ کہا جاتا ہے۔ 1 وہ فرشتے کے القاء کو بھلائی کا وعدہ اور حق کی تصدیق بتاتے ہیں۔ 1

فرشتے اور شیطان کا لمّہ

شیخ کہتے ہیں کہ فرشتے کا بھی ایک لمّہ ہے اور شیطان کا بھی، اور ہر ایک کی باری ہوتی ہے۔ 1

فرشتے کا القاء

شیخ کہتے ہیں کہ فرشتے کا القاء بھلائی کا وعدہ کرتا ہے اور حق کی تصدیق کرتا ہے۔ 1

شیطان کا القاء

شیخ فرشتے کے القاء کے مقابل شیطان کے القاء کا ذکر کرتے ہیں، مگر جس عبارت میں اس کی تفصیل ہے وہ ریکارڈنگ میں مشوش ہے، اس لیے اس کا مضمون یہاں بیان نہیں کیا گیا (needs_source)۔ 1

ہدایت کی علامت: قول اور عمل کی موافقت

شیخ کہتے ہیں کہ جس کا قول اس کے عمل کے موافق ہو وہ نشانے پر پہنچ گیا (needs_source: یہ بات ریکارڈنگ میں جزوی طور پر مشوش ہے، اور اس کے مقابل کی بات واضح نہیں)۔ 2

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

الأدب النبوي· أخي بابا· لوگوں سے مانگنا (المسألہ)· نفس اور روح· التبتل والعزوف عن الدنيا· اللہ سے انس· اليقين ودرجاته· البر

ماخذ

  1. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Sharh Ketab Al Fawaed، قسط 4, 00:12:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  2. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Sharh Ketab Al Fawaed، قسط 4, 00:13:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “فرشتے اور شیطان کا القاء”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/al-lamma/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

الأدب النبوي

The body of proper conduct the believer is commanded in his words, deeds and relations with God and His servants; from the formula 'whoever believes in God and the Last Day' in Abu Hurayra's hadith Ibn Rajab derives that these traits are of the traits of iman and that deeds enter into iman, dividing the hadith's three commands into what belongs to God's rights — speaking good or keeping silent — and what belongs to His servants' rights — honouring the neighbour, withholding harm from him and honouring the guest; he transmits Aswad ibn Asram's report of the Prophet's counsel 'do not say with your tongue except what is good and do not extend your hand except to good', and that the tongue's uprightness is of the traits of iman; Abu Amr ibn al-Salah reports from Abu Muhammad ibn Abi Zayd, the Maliki imam of his time, that the conduct of goodness and all its reins branch from four hadiths: speaking good or keeping silent, leaving what does not concern one, 'do not become angry', and loving for one's brother what one loves for oneself.