اقدار کا الٹ جانا

انقلاب القيم

شیخ عمر عبدالکافی اقدار کے الٹ جانے کے بارے میں ایک عبارت کی تشریح کرتے ہیں، جس میں نفس عقل کی جگہ، ظلم عدل کی جگہ اور جہالت علم کی جگہ لے لیتی ہے۔ ان کے بقول ایسے زمانے میں انہی الٹی صفات والے لوگوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
global
جائزہ

ethics-and-character

خلاصہ

شیخ اقدار کے الٹ جانے کے بارے میں ایک عبارت کی تشریح کرتے ہیں، جس میں نفس عقل کی جگہ، خواہش ہدایت کی جگہ، ظلم عدل کی جگہ، برائی نیکی کی جگہ، جہالت علم کی جگہ، ریا اخلاص کی جگہ، باطل حق کی جگہ اور خوشامد نصیحت کی جگہ لے لیتی ہے (needs_source: عبارت کا اصل ماخذ ریکارڈنگ میں نہیں بتایا گیا، اور آخری جوڑے ریکارڈنگ میں مضطرب ہیں)۔ 1

جو لوگ ایسے زمانے میں اشارہ پاتے ہیں

شیخ کہتے ہیں کہ ایسے زمانے میں انہی الٹی صفات والے لوگوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور غلبہ انہی کو حاصل ہوتا ہے، جبکہ پہلے معاملہ اس کے برعکس تھا اور اچھی صفات والے لوگ اشارہ پاتے تھے۔ 2

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

أداء الدين· أداء الشهادة· حاملِ قرآن کے آداب· کاٹنا (عض)· اذی (معمولی تکلیف: نقصان دہ چیزوں کو ہٹانا اور تکلیف نہ دینے کا حکم)· عدل اور فضل· عفو· عہد

ماخذ

  1. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Sharh Ketab Al Fawaed، قسط 2, 00:13:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  2. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Sharh Ketab Al Fawaed، قسط 2, 00:13:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “اقدار کا الٹ جانا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/inqilab-al-qiyam/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

أداء الدين

Paying a debt in the form owed is obligatory by consensus. A debt due now must be paid on demand when the debtor can pay; a deferred debt is not due before its term. Payment is made in like items, with value owed where there is no like; a better payment is allowed when unconditioned. Remission, gift, assignment, set-off and settlement take the place of payment. A solvent debtor who refuses is compelled, imprisoned and his apparent property sold; the majority hold that a bankrupt is put under interdiction and his property divided among creditors, against Abu Hanifa. The insolvent is given respite, and his debt may be paid from zakat if he borrowed for himself in a lawful matter. A dead person's debt attaches to his estate and takes precedence over bequests and inheritance.