حرص

الحرص

شیخ عمر عبدالکافی کے درس میں حرص مال اور دنیا کی ہوس ہے؛ وہ اس شخص کی مثال دیتے ہیں جو سمندر کا پانی پیتا ہے اور زیادہ پیاسا ہوتا جاتا ہے، اور کہتے ہیں کہ خواہشیں ختم نہیں ہوتیں اور اربوں کی رقم بھی روٹی کے ایک ٹکڑے سے زیادہ کچھ نہیں خرید سکتی (شیخ کی رائے)۔ 1

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
global
جائزہ

ethics-and-character

خلاصہ

شیخ کے بیان میں حرص مال اور دنیا کی ہوس ہے۔ وہ اس شخص کی مثال دیتے ہیں جو سمندر کا پانی پیتا ہے اور زیادہ پیاسا ہوتا ہے، اور کہتے ہیں کہ خواہشیں ختم نہیں ہوتیں (شیخ کی رائے)۔ 1

نہ ختم ہونے والی ضرورتیں

وہ ان ضرورتوں کی فہرست دیتے ہیں جو انسان کے پیچھے لگی رہتی ہیں، جیسے کام، شادی، گھر اور گاڑی، اور ہر ایک کے بعد دوسری (شیخ کی رائے)۔ 2

سمندر کا پانی پینے والا

شیخ کہتے ہیں کہ آدمی سمندر کا پانی پیتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے استسقاء ہو جاتا ہے اور وہ مر جاتا ہے، اور پینا اسے صرف زیادہ پیاسا کرتا ہے۔ 1

بڑے اعداد

وہ اربوں کی فکر پر تنقید کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ بڑا عدد بڑی چیز نہیں خریدتا اور ایک ارب روٹی کا ایک ٹکڑا بھی نہیں خرید سکتا (شیخ کی رائے، needs_source)۔ 3 وہ ایک طالب علم کی مثال دیتے ہیں جو ہر روز جہاز سے پڑوسی ملک کی یونیورسٹی جاتا ہے، اور اسے فضول خرچی کے طور پر پیش کرتے ہیں (needs_source)۔ 4

سلسلہ النبع الصافی سے: خواہش اور اللہ کی بندگی

وہ ایک حدیث کا ذکر کرتے ہیں جس میں لوگوں کا دینار اور درہم کا غلام بننے کی بات ہے، اور قرآن کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہیں جو اللہ کے چنے ہوئے بندوں سے متعلق ہے، اور کہتے ہیں کہ مومن صرف اللہ کی بندگی کرتا ہے 5۔ وہ ایک آیت کا حوالہ دیتے ہیں جس میں ہے کہ جو اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لے، اور کہتے ہیں کہ لوگ اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں 6۔ وہ تجویز کرتے ہیں کہ مومن اپنی خواہش کو پرکھے کہ کیا وہ نبی کا طریقہ ہے، مثلاً رات کو قیام کے بجائے سونا چاہتا ہے 7۔ وہ ایک آیت کا حوالہ دیتے ہیں کہ جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا، اس کا ٹھکانہ جنت ہے 8۔

وہ کہتے ہیں کہ علماء نے قناعت کی چار علامات گنوائیں: غصے کو بردباری سے روکنا، غربت پر صبر، دولت پر شکر، اور اعمال کو اخلاص سے مقید کرنا 9۔ وہ کہتے ہیں کہ حسد اللہ کی تقسیم کو رد کرنا ہے: مومن دوسروں کے پاس جو ہے اس پر رشک کرتا ہے اور اللہ سے ویسا ہی مانگتا ہے، جب کہ منافق حسد کرتا ہے 10۔ وہ کہتے ہیں کہ نفس انتقام، زیادتی اور حقوق چھیننے کا تقاضا کرتا ہے، اور آٹھواں تقاضا یہ ہے کہ ملک الموت روح قبض کرے 11۔

مال عاریت ہے، دنیا امانت ہے

وہ کہتے ہیں کہ علماء نے دنیا کو ایک ایسا قرض کہا ہے جو لوٹانا ہے، جیسے مستعار لی ہوئی کتاب، اور اللہ ہمیں عمریں، مال اور صحت عاریتاً دیتا ہے 12۔ وہ ایک حدیث کا ذکر کرتے ہیں جو انسان کے مال میں سے اس کے باقی رہنے کے بارے میں ہے: جو اس نے کھایا، پہنا یا صدقہ کیا 13۔ وہ ایک آیت کا حوالہ دیتے ہیں کہ اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور مال جنت کے بدلے خرید لیے، اور کہتے ہیں کہ یہ ملکیت کا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے 14۔

وہ کہتے ہیں کہ مال خرچ ہوتا ہے اور لوگوں کے درمیان گردش کرتا ہے، اور وہ عاریت کی طرح ہے، اور جو کسی انسان کی عزت صرف اس کے مال کی وجہ سے کرتا ہے وہ اس کی عزت نہیں کرتا 15۔ وہ ایک حدیث کا ذکر کرتے ہیں کہ بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور کہتے ہیں کہ اولاد، بیوی، مال اور کام پر شکر نعمت میں اضافہ کرتا ہے 16۔ وہ کہتے ہیں کہ صحت اور مال کو اس میں خرچ کرنا چاہیے جو اللہ کو پسند ہو، اور انسان سے پوچھا جائے گا کہ مال کہاں سے آیا اور کہاں خرچ ہوا 17۔ وہ کہتے ہیں کہ ناجائز طریقے سے کمایا ہوا مال لوٹانے یا صدقہ کرنے سے پاک کیا جائے، اور توبہ کرنے والا اللہ کے ہاں ایک نیا ورق ہے 18۔

کمائی اور مال کی قدر

شیخ بیان کرتے ہیں کہ حاتم کا تیسرا درس اس شخص سے متعلق ہے جو مال ہر ذریعے سے جمع کرتا ہے، حلال ہو یا حرام 19۔ وہ کہتے ہیں کہ جس کے پاس مرتبہ ہو اسے لوگوں کے نفع میں لگانا چاہیے، کیونکہ بہترین لوگ وہ ہیں جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ مفید ہوں 20۔ وہ کہتے ہیں کہ چوتھا محور مال کو فقراء پر خرچ کرنا ہے، جو ان کا معلوم اندازے کے مطابق حق ہے (تسجیل کا آخری جملہ واضح نہیں) 21۔

وہ بیان کرتے ہیں کہ قارون نے دعویٰ کیا کہ اس کا مال اس کے اپنے علم سے آیا ہے، جب موسیٰ نے اس سے زکات مانگی، اور کہتے ہیں کہ اللہ کے فضل کو بھول جانا ہی اس کی ہلاکت کا سبب بنا 22۔ وہ ایک امیر نوجوان اور ایک غریب نوجوان کا ذکر کرتے ہیں جو اپنے باپوں پر فخر کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ فخر حماقت ہے 23۔ وہ ایک صحابی سے منسوب قول بیان کرتے ہیں (ان کا نام تسجیل میں واضح نہیں) کہ لوگ مالداروں کی طرف جھکتے ہیں، اور جس کا مال چلا گیا اس کی عزت بھی چلی گئی، اس لیے ان کی رائے میں عزت مال کی تھی (needs_source: یہ قول تسجیل میں غیر مسند ہے) 24۔ وہ ان لوگوں پر تنقید کرتے ہیں جو اپنے مالدار دادا کی کہانیاں سناتے ہیں اور جو کچھ چلا گیا اس پر غمگین ہوتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ انہیں ماضی میں نہیں رکنا چاہیے 25۔ وہ عمر کی دعا بیان کرتے ہیں کہ قبر میں ان سے ان مال کے بارے میں سوال نہ ہو جس سے ان کے وارث فائدہ اٹھائیں، اور کہتے ہیں کہ ظالم وصیت اپنے لکھنے والے کو سزا دیتی ہے (needs_source: دعا تسجیل میں غیر مسند ہے) 26۔

حقیقی غنا اور قناعت

شیخ بیان کرتے ہیں کہ ابن ام مکتوم نابینا اور غریب تھے، پھر بھی اللہ نے ان کی وجہ سے نبی کو تنبیہ کی، اور کہتے ہیں کہ مال میں غریب آدمی جان کے اعتبار سے غنی ہو سکتا ہے (تسجیل کا کچھ حصہ واضح نہیں) 27۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک زندگی مال سے زیادہ قیمتی ہے: مال انسان کے لیے ہے، انسان مال کے لیے نہیں، اور ضرورت پر دوسروں سے مدد لینا جائز ہے 28۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان دنیا سے کبھی سیر نہیں ہوتا، اور لالچی سمندر کے پانی کی طرح زیادہ پیتا ہے اور زیادہ پیاسا ہوتا ہے، اور برکت اللہ کی طرف سے ہے، اس لیے انسان کو لوگوں پر خرچ کرنا چاہیے 29۔

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

أداء الدين· أداء الشهادة· حاملِ قرآن کے آداب· کاٹنا (عض)· اذی (معمولی تکلیف: نقصان دہ چیزوں کو ہٹانا اور تکلیف نہ دینے کا حکم)· عدل اور فضل· عفو· عہد

ماخذ

  1. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Tafsir Al Quran Al Qareem، قسط 2, 00:26:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  2. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Tafsir Al Quran Al Qareem، قسط 2, 00:26:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  3. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Tafsir Al Quran Al Qareem، قسط 2, 00:27:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  4. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Tafsir Al Quran Al Qareem، قسط 2, 00:27:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  5. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 5, 00:23:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  6. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 11, 00:14:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  7. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 11, 00:15:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  8. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 11, 00:17:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  9. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 16, 00:02:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  10. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 16, 00:25:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  11. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 18, 00:34:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  12. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 12, 00:07:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  13. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 12, 00:03:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  14. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 12, 00:13:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  15. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 17, 00:13:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  16. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 15, 00:22:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  17. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 15, 00:16:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  18. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 3, 00:25:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  19. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 11, 00:18:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  20. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 11, 00:36:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  21. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 17, 00:45:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  22. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 6, 00:17:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  23. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 9, 00:18:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  24. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 17, 00:12:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  25. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 22, 00:18:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  26. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 14, 00:28:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  27. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 16, 00:11:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  28. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 15, 00:42:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  29. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 17, 00:11:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “حرص”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/hirs/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

أداء الدين

Paying a debt in the form owed is obligatory by consensus. A debt due now must be paid on demand when the debtor can pay; a deferred debt is not due before its term. Payment is made in like items, with value owed where there is no like; a better payment is allowed when unconditioned. Remission, gift, assignment, set-off and settlement take the place of payment. A solvent debtor who refuses is compelled, imprisoned and his apparent property sold; the majority hold that a bankrupt is put under interdiction and his property divided among creditors, against Abu Hanifa. The insolvent is given respite, and his debt may be paid from zakat if he borrowed for himself in a lawful matter. A dead person's debt attaches to his estate and takes precedence over bequests and inheritance.