ایک نظر میں
- خطہ
- global
خلاصہ
وجوہ و نظائر زرکشی کی البرہان میں علومِ قرآن کی چوتھی نوع ہے۔ 1 وہ بتاتے ہیں کہ اس پر ابتدا میں مقاتل بن سلیمان نے لکھا، اور متاخرین میں ابن الزاغونی، ابو الفرج ابن الجوزی، واعظ دامغانی اور ابو الحسین ابن فارس نے، جنہوں نے اپنی کتاب کا نام «الافراد» رکھا۔ 1
تعریف
زرکشی کے نزدیک وجہ وہ مشترک لفظ ہے جو کئی معانی میں استعمال ہو، جیسے «امت»، اور نظائر متواطی الفاظ کی طرح ہیں۔ 1 وہ اس قول کو ضعیف کہتے ہیں کہ نظائر لفظ میں اور وجوہ معانی میں ہیں، کیونکہ ان کتابوں کے مصنفین ایک معنی والا لفظ بہت سے مقامات پر ذکر کرتے ہیں اور وجوہ کو ایک قسم اور نظائر کو دوسری قسم بناتے ہیں۔ 1 وہ کہتے ہیں کہ بعض نے اسے قرآن کے اعجاز کی وجوہ میں شمار کیا، کیونکہ ایک لفظ بیس یا کم و بیش معانی کی طرف پھرتا ہے، اور یہ انسانی کلام میں نہیں ملتا۔ 1
مثال
وہ مقاتل سے نقل کرتے ہیں کہ لفظ «ہدیٰ» سترہ معانی میں آیا ہے، جن میں: بیان، دین، ایمان، داعی، رسول اور کتابیں، معرفت، رشد، قرآن، تورات، استرجاع، حجت، توحید، سنت، اصلاح، الہام اور توبہ۔ 1 2 وہ ابن فارس کی «الافراد» سے نقل کرتے ہیں کہ قرآن میں «اسف» جہاں بھی ہے اس کا معنی غم ہے سوائے ایک جگہ کے جہاں معنی غضب دلانا ہے۔ 2 مقاتل نے اپنی کتاب کے آغاز میں ایک مرفوع حدیث ذکر کی کہ آدمی پورا فقیہ نہیں ہوتا جب تک قرآن کے بہت سے وجوہ نہ دیکھے؛ محقق کے حاشیے کے مطابق یہ مرفوعاً صحیح نہیں بلکہ ابو الدرداء کا قول ہے۔ 1
تعلقات
- Related to
- علومِ قرآن· مقاتل بن سليمان· ابن فارس
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
فواصل اور رؤوسِ آیات· قرآن کے مبہمات· اسبابِ نزول· قرآن میں لفظی متشابہ· البرہان فی علوم القرآن (زرکشی)· علومِ قرآن· ابن فارس· مقاتل بن سليمان
ماخذ
- البرہان فی علوم القرآن — بدر الدین زرکشی، تحقیق ابو الفضل دمیاطی احمد بن علی (دار الحدیث، قاہرہ، 2006ء) , p.81
- البرہان فی علوم القرآن — بدر الدین زرکشی، تحقیق ابو الفضل دمیاطی احمد بن علی (دار الحدیث، قاہرہ، 2006ء) , p.82
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “وجوہ و نظائر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/al-wujuh-wal-nazair/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON