ایک نظر میں
- کردار
- sociologist · writer · شاعر · سیاست دان
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
محمد ضیاء گوک الپ (پیدائشی نام: محمد ضیاء؛ 23 مارچ 1876 – 25 اکتوبر 1924) ایک ترک ماہر عمرانیات، مصنف، شاعر اور سیاست دان تھے۔ 1 2 1908 کے انقلاب نوجوانان ترک کے بعد انہوں نے گوک الپ — «آسمانی ہیرو» — کا قلمی نام اختیار کیا جو تا حیات برقرار رکھا۔ 1 2 نیازی برکیس نے 1936 میں انہیں «ترک عمرانیات کا اصل بانی» کہا، اور ان کے کام نے مصطفی کمال اتاترک کی اصلاحات اور جمہوریہ ترکی میں کمالیت کی تشکیل پر گہرا اثر ڈالا۔ 2 انہوں نے عثمانیت اور اسلامیت دونوں کو رد کر کے ترک قومیت اختیار کی اور پان ترکیت و تورانیت کو مقبول بنایا۔ 2
زندگی
وہ 23 مارچ 1876 کو دیار بکر میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد محمد توفیق بے صوبائی ریکارڈ کے افسر اور سالنامے کے ناشر تھے، اور ان کا خاندان چرمیک سے آ کر آباد ہوا تھا — یہی وجہ ہے کہ بعض ذرائع، بشمول ترکی مضمون کا معلوماتی خانہ اور ویکی ڈیٹا، ان کی جائے پیدائش چرمیک بتاتے ہیں۔ 2 3 4 انہوں نے اپنے چچا مدرس حاجی حسیب بے سے روایتی اسلامی علوم، عربی، فارسی، تصوف اور کلام پڑھا، اور ڈاکٹر عبد اللہ جودت کے اثر میں آئے۔ 4 3 1895 میں انہوں نے خودکشی کی کوشش کی جس سے جودت نے انہیں بچایا؛ اسی سال استنبول جا کر مفت ہونے کی وجہ سے ویٹرنری اسکول میں داخلہ لیا، خفیہ انقلابی سیاست میں شامل ہوئے، 1898 میں گرفتار ہوئے اور تقریباً ایک سال قید رہے۔ 2 3 1900 میں انہیں دیار بکر میں مقیم رہنے کا حکم ملا اور انہوں نے چچا زاد واجیہہ سے شادی کی۔ 4
انہوں نے 22 اکتوبر 1908 کو جمعیت اتحاد و ترقی کی دیار بکر شاخ قائم کی، 1909 میں سالونیکا کانگریس میں مرکزی کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے، وہاں «گینچ قلملر» کی بنیاد میں شریک ہوئے اور 1911 میں ترکی میں عمرانیات کے پہلے اسباق دیے۔ 3 2 1912 میں وہ ارغنی معدن کے نائب منتخب ہوئے، اور 1915 میں استنبول یونیورسٹی کے پہلے پروفیسر برائے عمرانیات مقرر ہوئے۔ 4 پہلی جنگ عظیم کے بعد انہیں گرفتار کر کے مقدمہ چلایا گیا اور مالٹا جلاوطن کر دیا گیا (1919–1921)، جہاں انہوں نے «ترکیت کے اصول» کا مسودہ تیار کیا۔ 2 واپسی پر وزارت تعلیم کے شعبہ تالیف و ترجمہ کے سربراہ بنے اور اگست 1923 میں دیار بکر سے گرینڈ نیشنل اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے؛ 25 اکتوبر 1924 کو استنبول میں انتقال ہوا اور سلطان محمود ثانی کے مزار کے احاطے میں دفن ہوئے۔ 3 1
فکر اور جائزے
یہ جائزے ذرائع کی زبانی ہیں؛ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔ ان کا فارمولا تھا: ترکی سازی، اسلامیت اور جدیدیت — ان کے نزدیک اسلام ترک قومی شناخت کا اخلاقی جز تھا، اور قوم زبان، دین، اخلاق اور ذوق کی وحدت کا نام تھی۔ 2 انہیں «ترک قومیت کا باپ» کہا جاتا ہے اور اتاترک کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے کہا: «میرے جسم کے والد علی رضا افندی ہیں اور میری فکر کے والد ضیاء گوک الپ ہیں»۔ 2 ان کی تورانیت کی متضاد قراءتیں موجود ہیں: بعض کے نزدیک یہ نسلی توسیع پسندی تھی، طہ پارلا کے نزدیک یہ لسانی و ثقافتی نمونہ تھا؛ اور بعض مورخین کے نزدیک ان کی قومیت نے آرمینیائی قتل عام کے سیاق میں حصہ ڈالا، جبکہ انہوں نے خود اپنے مقدمے میں باہمی قتل کی دلیل دی۔ 2
حوالہ جات
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا
ماخذ
- Ziya Gökalp — Urdu Wikipedia
- Ziya Gökalp — English Wikipedia
- Gökalp, Ziya — TDV İslâm Ansiklopedisi
- Ziya Gökalp — Turkish Wikipedia
- Ziya Gökalp — Wikidata Q83275
- Ziya Gökalp — Arabic Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “ضیاء گوک الپ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ziya-gokalp/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.