یوسف شاہین

يوسف شاهين

–

الإسكندرية → القاهرة

مصری فلم ہدایت کار، 1926 میں اسکندریہ میں پیدا ہوئے اور 2008 میں قاہرہ میں وفات پائی؛ 1950 سے وفات تک مصری سینما میں سرگرم رہے، «باب الحدید» (1958)، «الارض» (1969) اور اپنی سوانحی اسکندریہ چہار فلم بنائی، عمر شریف کو متعارف کرایا، اور 1997 میں کان کا پچاسویں سالگرہ کا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ حاصل کیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
film-director · actor · writer
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبدالرحمن یوسفی · عبد الحميد خان سواتي · عبد اللطيف تشودري الفلتالي · عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود · احمد عصمت عبد المجید

مکان میں

الإسكندريةالقاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    یوسف شاہین (25 جنوری 1926 – 27 جولائی 2008) مصری فلم ہدایت کار تھے، جو 1950 سے اپنی وفات تک مصری سینما میں سرگرم رہے۔ 1 انھوں نے قاہرہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی سرفہرست 100 مصری فلموں کی فہرست میں شامل بارہ فلمیں بنائیں، عمر شریف کے کیریئر کا آغاز کرایا، اور کان کا پچاسویں سالگرہ کا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ جیتا۔ 1

    بچپن اور خاندان

    وہ اسکندریہ میں ایک میلکائٹ یونانی کیتھولک خاندان میں پیدا ہوئے: ان کے والد زحلہ، لبنان سے تعلق رکھنے والے وکیل اور وفد پارٹی کے حامی تھے، اور ان کی والدہ کلیئر بسطوروس یونانی نژاد درزن تھیں۔ 1 ببلیوتھیکا اسکندرینا کی تعزیتی تحریر بھی انھیں شامی، لبنانی، یونانی اور اطالوی جڑوں والے ایک مسیحی خاندان میں پیدا ہونے والا بیان کرتی ہے۔ 2 گھر میں خاندان پانچ زبانیں بولتا تھا، جیسا کہ اس زمانے کے کثیر الثقافتی اسکندریہ میں عام تھا۔ 1

    مذہب، جیسا کہ انھوں نے خود بیان کیا

    انگریزی مضمون درج کرتا ہے کہ اگرچہ شاہین کی پرورش کیتھولک کے طور پر ہوئی، لیکن وہ منظم مذہب کے قائل نہیں تھے، اور اگر ان سے ان کا مذہب پوچھا جاتا تو وہ «مصری» کہتے۔ 1 ان کی آخری رسومات 28 جولائی 2008 کو قاہرہ کے یونانی کیتھولک گرجا گھر میں ادا ہوئیں اور انھیں اسکندریہ میں ان کے خاندان کے ساتھ دفن کیا گیا۔ 2 چونکہ ماخذ ان کے خاندان کے مذہب اور ان کی پرورش کی گواہی دیتے ہیں اور منظم مذہب کے لیبل سے ان کے اپنے انکار کو درج کرتے ہیں، اس لیے یہ میوزیم ان کا مذہب مسیحی کے بجائے «نامعلوم» درج کرتا ہے: خاندانی پس منظر ذاتی گواہی نہیں ہوتا۔ 1 2

    تعلیم

    اداکاری کے فنون سے بچپن ہی سے مسحور، انھوں نے تعلیم کا آغاز کالج سینٹ مارک سے کیا اور اسکندریہ کے ممتاز وکٹوریہ کالج میں پڑھا۔ 1 1946 میں انھوں نے والدین کو راضی کیا کہ وہ کیلیفورنیا کے پاسیڈینا پلے ہاؤس میں اداکاری کی تعلیم حاصل کریں۔ 1

    پہلی فلمیں اور عمر شریف

    سینماٹوگرافر الویس اورفانیلی کی مدد سے انھوں نے اپنی پہلی فیچر فلم «بابا امین» (1950) بنائی، اور «نیل کا بیٹا» (1951) پر انھیں پہلی بار کان مدعو کیا گیا۔ 1 «سوزاں سورج» (1954) نے عمر شریف کو پردے سے متعارف کرایا۔ 1 «قاہرہ اسٹیشن» (باب الحدید، 1958) میں شاہین نے خود قناوی کا کردار ادا کیا، جو ہند رستم کی ادا کردہ حنومہ کے جنون میں مبتلا اخبار فروش ہے۔ 1

    اہم کام

    ان کی «صلاح الدین» (1963)، جس کی تحریر میں نجیب محفوظ نے حصہ لیا، نے صلاح الدین اور صدر جمال عبدالناصر کے درمیان تسلیم شدہ مماثلت پیش کی، جس کے بارے میں شاہین نے کہا کہ یہ عرب قوم پرستی سے ان کی اپنی ہمدردی کی عکاسی ہے۔ 1 «الارض» (1969) کسان کی تصویر کے لیے مشہور ہے اور «چڑیا» (1972) نے چھ روزہ جنگ کے بعد کے حالات کو موضوع بنایا۔ 1 «مہاجر» (1994)، جو یوسف کی کہانی سے متاثر تھی، نے مصر میں آزاد خیالوں اور بنیاد پرستوں کے درمیان تنازع پیدا کیا جنھوں نے فلموں میں مذہبی شخصیات کی تصویر کشی کی مخالفت کی، جیسا کہ انگریزی مضمون بیان کرتا ہے۔ 1

    اسکندریہ چہار فلم

    1978 سے انھوں نے چار سوانحی فلمیں بنائیں — «اسکندریہ، کیوں؟» (1978)، «ایک مصری کہانی» (1982)، «اسکندریہ، پھر اور ہمیشہ» (1990) اور «اسکندریہ… نیویارک» (2004) — جن میں انھوں نے اپنے دوسرے روپ یحییٰ کے ذریعے اپنی زندگی، خاندان اور امریکا سے تعلق کو پیش کیا۔ 1

    وفات اور اعزازات

    1997 میں کان میں انھیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 1 وہ 27 جولائی 2008 کو قاہرہ میں 82 سال کی عمر میں دماغی خون بہنے اور کوما کے بعد وفات پا گئے۔ 1 2 اپنے کام کے بارے میں انھوں نے کہا تھا: «میں اپنی فلمیں پہلے اپنے لیے بناتا ہوں۔ پھر اپنے خاندان کے لیے۔ پھر اسکندریہ کے لیے۔ پھر مصر کے لیے۔» 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ ادارے، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی مؤرخ ہونی چاہیے اور اس ماخذ کا نام دینا چاہیے جس نے ہر واقعہ بدلا۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    الإسكندرية
    Died in
    القاهرة
    Directed
    المصير· المهاجر· الناصر صلاح الدين
    Wrote the screenplay of
    المهاجر

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك· احمد عصمت عبد المجید· عمرو خالد· جمال عبد الناصر· محمد مصطفی المراغی· قاسم امین· شکری القوتلی· الجامع الأزهر

    ماخذ

    1. Youssef Chahine — English Wikipedia
    2. Youssef Chahine — Bibliotheca Alexandrina obituary
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “یوسف شاہین”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/youssef-chahine/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك

    The age of the Crusader states, Saladin's Ayyubids and the Mamluk sultanate in Egypt and Syria, ending with the Ottoman conquest.