قاسم امین

قاسم أمين

–

الإسكندرية → القاهرة

مصری قاضی اور مصنف (1863–1908)، مصری قومی تحریک اور جامعہ قاہرہ کے بانیوں میں سے ایک؛ اپنی دو کتابوں «تحریر المرأة» (1899) اور «المرأة الجديدة» (1900) کے لیے مشہور، جن میں انہوں نے خواتین کی تعلیم، حجاب کے خاتمے اور شادی و طلاق کے قوانین کی اصلاح کی دعوت دی، اور جن پر آج تک بحث جاری ہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
فقیہ · judge · writer · مصلح
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: عبادی بانو بیگم · عبد الحميد الزهراوي · عبد الرزاق البيطار · عبد الرشید ابراہیم · أحمد الحملاوي

مکان میں

الإسكندريةالقاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    موجز

    قاسم امین (1 دسمبر 1863 – 23 اپریل 1908) مصری قاضی اور مصنف، اسلامی تجدد پسند، مصری قومی تحریک اور جامعہ قاہرہ کے بانیوں میں سے ایک تھے؛ انہیں عرب دنیا کے اولین حقوقِ نسواں کے داعیوں میں شمار کیا جاتا ہے، اگرچہ اس لقب پر اہلِ علم میں اختلاف باقی ہے۔ 1 2

    ان کی کتابیں «تحریر المرأة» (1899) اور «المرأة الجديدة» (1900) نے حجاب، پردہ نشینی، کم عمری کی شادی اور خواتین کی تعلیم سے محرومی پر تنقید کی اور کہا کہ قرآن یہ محکومی نہیں سکھاتا بلکہ خواتین کے حقوق کی حمایت کرتا ہے، جس کی تائید میں وہ قرآنی آیات پیش کرتے تھے۔ 1

    زندگی اور مسلک

    وہ اسکندریہ میں ترک والد اور محمد علی کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ارناؤٹ والدہ کے ہاں پیدا ہوئے؛ 1881 میں خدیوی مدرسۂ قانون سے قانون کی ڈگری لی اور سرکاری وظیفے پر چار برس فرانس کی مونپلیے یونیورسٹی میں پڑھا۔ 1

    1885 میں مخلوط عدالتوں کے قاضی مقرر ہوئے، پھر قاہرہ کی قومی عدالتِ استیناف کے چانسلر بنے، اور جامعہ قاہرہ کے بانیوں، اس کے پہلے سیکرٹری جنرل اور نائب صدر رہے۔ 1

    وہ محمد عبدہ کے شاگرد اور دوست تھے؛ «تحریر المرأة» کی تصنیف میں عبدہ اور احمد لطفی السید کی شرکت کا ذکر انگریزی مقالہ کرتا ہے۔ 1 2

    مواقف اور تنقید

    یہ حصہ مآخذ میں منقول مواقف اور ان پر تنقید کی رپورٹ ہے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    امین نے تعددِ ازواج کو خواتین کی شدید تحقیر قرار دیا، طلاق کے زبانی طریقے کو ناکافی کہا، اور حجاب کو عورت کے استحصال کی سب سے بڑی علامت بتایا۔ 1

    معاصر محققین، خصوصاً لیلیٰ احمد، نے ان کے «مصری نسوانیت کے باپ» ہونے پر سوال اٹھایا ہے: اس عہد کے صنفی علیحدگی والے معاشرے میں مصری خواتین سے ان کا رابطہ خاندان اور خادماؤں تک محدود تھا، اس لیے ان کی پیش کردہ تصویر محدود شواہد پر تھی، اور لیلیٰ احمد کے نزدیک انہوں نے مصری مردانہ غلبے کی جگہ مغربی غلبہ رکھا، نسوانیت نہیں۔ 1

    1908 میں قاہرہ میں ان کی وفات ہوئی؛ عربی مقالہ اور ویکی ڈیٹا تاریخ 23 اپریل 1908 دیتے ہیں، جبکہ انگریزی مقالے کی تمہید 12 اپریل لکھتی ہے — اختلاف ریکارڈ میں درج ہے۔ 2 3 1

    المراجع

    • انگریزی ویکیپیڈیا کا قاسم امین پر مقالہ (نظرثانی 1380784547)؛ عربی ویکیپیڈیا کا مقالہ (نظرثانی 76322621)؛ ویکی ڈیٹا مد Q740282۔ کوئی ماخذ ان کا مسلک بیان نہیں کرتا؛ ویکی ڈیٹا صرف اسلام درج کرتا ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Influenced by
    نازلی فاضل
    Patronized by
    نازلی فاضل
    Born in
    الإسكندرية
    Died in
    القاهرة
    Lived in
    القاهرة
    Studied under
    الشيخ محمد عبده

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    محمد مصطفی المراغی· نازلی فاضل· احمد عصمت عبد المجید· احمد لطفی سید· عمرو خالد· جمال عبد الناصر· شکری القوتلی· طہ حسین

    ماخذ

    1. Qasim Amin — English Wikipedia
    2. Qasim Amin — Arabic Wikipedia
    3. Qasim Amin — Wikidata Q740282
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “قاسم امین”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/qasim-amin/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    محمد مصطفی المراغی

    مصری عالم و قاضی (1881-1945) جو دو مرتبہ شیخ الازہر رہے (1928-1929 اور 1935-1945)، اس سے پہلے سوڈان کے قاضی القضاة (1908-1919) اور قاہرہ کی عدالتِ شرعیہ علیا کے صدر رہے۔ محمد عبدہ کے شاگرد، اصلاح، اجتہاد اور مذاہب کے تقریب کے داعی، 1920 کے قانونِ احوالِ شخصیہ کے مصنف اور الازہر کی کثیرالمذاہب دارالافتاء کمیٹی کے بانی۔