محمد مصطفی المراغی

محمد مصطفى المراغي

–

القاهرة → الإسكندرية

مصری عالم و قاضی (1881-1945) جو دو مرتبہ شیخ الازہر رہے (1928-1929 اور 1935-1945)، اس سے پہلے سوڈان کے قاضی القضاة (1908-1919) اور قاہرہ کی عدالتِ شرعیہ علیا کے صدر رہے۔ محمد عبدہ کے شاگرد، اصلاح، اجتہاد اور مذاہب کے تقریب کے داعی، 1920 کے قانونِ احوالِ شخصیہ کے مصنف اور الازہر کی کثیرالمذاہب دارالافتاء کمیٹی کے بانی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · فقیہ · qadi
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبد القادر المغربي · عبد الحمید خان بھاشانی · مولوی عبد الحق · عبداللہ بن جاسم الثانی

مکان میں

القاهرةالإسكندرية

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (منقول)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد مصطفی المراغی (1881-1945) مصری ازہری عالم اور شرعی قاضی تھے جو دو مرتبہ شیخ الازہر رہے: 1928 سے اکتوبر 1929 میں استعفے تک، اور پھر اپریل 1935 سے اپنی وفات تک۔ اس سے پہلے وہ سوڈان کے قاضی القضاة (1908-1919) اور قاہرہ کی عدالتِ شرعیہ علیا کے صدر رہے؛ وہ محمد عبدہ کے ممتاز شاگردوں میں سے تھے۔ 1 2

    وہ اپنے قانونِ احوالِ شخصیہ کے لیے مشہور ہیں جس نے شرعی عدالتوں کو ایک ہی مکتبِ فقہ کی پابندی سے آزاد کیا، اپنے ازہری اصلاحات (1936 کا قانون، کثیرالمذاہب دارالافتاء کمیٹی) کے لیے، اور بادشاہ فاروق کو اس کی مطلقہ بیوی کی دوبارہ شادی روکنے کا فتویٰ دینے سے انکار کے لیے — جو انہوں نے اپنی آخری بیماری کے بستر پر کیا۔ 1

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    ان کا پورا نام محمد بن مصطفی بن محمد بن عبد المنعم المراغی تھا؛ وہ بالائی مصر کے صوبہ سوہاگ کے علاقے المراغہ سے تھے۔ وہ 7 ربیع الآخر 1298ھ، مطابق 9 مارچ 1881، پیدا ہوئے (انگریزی مضمون 5 مارچ بتاتا ہے)۔ انہوں نے قرآن حفظ کیا، پھر قاہرہ میں الازہر میں علی الصالحی سے عربی علوم اور محمد عبدہ سے تفسیر، توحید اور بلاغت کی تعلیم حاصل کی۔ 26 مئی 1904 کو انہوں نے عالمیہ کا امتحان اپنے ساتھیوں میں اول آ کر پاس کیا؛ امتحان خود محمد عبدہ نے لیا تھا۔ 1 3 4

    سوڈان میں قضا

    محمد عبدہ کی سفارش پر وہ پہلے دونگولا، پھر خرطوم کے قاضی مقرر ہوئے۔ 1907 میں انسپکٹروں کے انتخاب پر اختلاف کے باعث استعفا دے کر مصر لوٹ آئے۔ 1 اگست 1908 کو — اس شرط پر کہ تقرری خدیوِ مصر کے فرمان سے ہو — وہ سوڈان کے قاضی القضاة مقرر ہوئے اور 1919 تک اس منصب پر رہے۔ انہوں نے اپنے قاضیوں کے لیے فقہی آراء کے انتخاب کا اختیار حاصل کیا اور گورڈن کالج کے شرعی شعبے کی نگرانی کی۔ 1911 میں سواکن میں انہوں نے جارج پنجم سے ملاقات کے اس پروٹوکول سے انکار کیا جس میں انگریز افسروں کے سوا کوئی جہاز پر نہ چڑھ سکتا تھا؛ جب ان پر بادشاہ کے سامنے نہ جھکنے پر اعتراض ہوا تو انہوں نے کہا: «ہمارے دین میں اللہ کے سوا کسی کے آگے رکوع نہیں»۔ 1919 کے انقلاب میں انہوں نے سوڈان کے مصریوں کی قیادت کی، جس پر انہیں غیرمعینہ رخصت دے کر مصر بھیج دیا گیا۔ 1 2

    قاہرہ کے مناصب اور قانونِ احوالِ شخصیہ

    قاہرہ میں وہ شرعی تفتيش کے سربراہ (1919)، عدالتِ شرعیہ کبریٰ کے صدر (1920) اور عدالتِ شرعیہ علیا کے رکن (1921) پھر صدر (1923) بنے۔ ان مناصب میں انہوں نے ایک کمیٹی بنا کر قاضیوں کو ہدایت کی کہ حنفی مکتب کی پابندی نہ کریں جہاں کسی اور مکتب کی رائے عوامی مصلحت کے زیادہ موزوں ہو؛ اس سے جولائی 1920 کا قانونِ احوالِ شخصیہ نکلا۔ بعد میں انہوں نے 1929 کا قانونِ ازدواج نمبر 25 بھی جاری کیا۔ 1 2

    وہ 25 مارچ 1924 کو تشکیل پانے والی خلافت کمیٹی کے رکن بھی تھے؛ ونگیٹ کو اپنے خط میں انہوں نے لکھا کہ خلیفہ کا قریشی ہونا شرط نہیں اور خلافت بنیادی طور پر ایک دنیاوی منصب ہے۔ 1925 میں وہ حجاز کے خفیہ مشن پر گئے اور 1926 کے قاہرہ خلافت کانگریس کے مرکزی منتظم رہے۔ 5 2 4

    شیخیّتِ الازہر

    ان کی پہلی تقرری شیخ الازہر کے طور پر عربی مضمون 28 مئی 1928 بتاتا ہے، جبکہ جرمن مضمون اور ترک انسائیکلوپیڈیا 22 مئی بتاتے ہیں۔ اگست 1928 میں انہوں نے اصلاحی میمورنڈم پیش کیا جس میں اجتہاد کا دروازہ کھولنا اور تین اعلیٰ کلیات کا قیام شامل تھا۔ بادشاہ ازہر کی تقرریوں پر کنٹرول چاہتا تھا، چنانچہ انہوں نے 10 اکتوبر 1929 کو استعفا دے دیا (جرمن مضمون اس خروج کو شاہی برطرفی قرار دیتا ہے)۔ 1 5

    اپریل 1935 میں وہ دوبارہ شیخ الازہر بنے اور 1936 کا قانون نمبر 26 جاری کیا جس نے تعلیم کو چار مراحل میں منظم کیا اور تین کلیات — شریعہ، اصول الدین، عربی زبان — بحال کیں۔ 11 اگست 1935 کو انہوں نے دارالافتاء کمیٹی قائم کی جس کے گیارہ ارکان میں تین حنفی، تین مالکی، تین شافعی اور دو حنبلی فقیہ شامل تھے؛ انہوں نے کبار علماء کی جماعت کی تنظیمِ نو کی اور جولائی 1945 میں تحقیقات و ثقافت کی نگرانی کا ادارہ قائم کیا جو بعد میں مجمع البحوث الاسلامیہ بنا۔ انہوں نے لندن (1936)، ہیگ (1937) اور پیرس (1939) کی بین الادیان کانفرنسوں میں ازہر کے وفود کی قیادت کی۔ 1 2 4

    کتابیں

    ان کی تصانیف میں «بحث فی ترجمة القرآن و احکامہا» (قرآن کے ترجمے کے وجوب و جواز پر رسالہ، قاہرہ 1936؛ جرمن مضمون اسے 1932 کا بتاتا ہے)، «الزمالة الانسانیة» (لندن کی ادیان کانفرنس کے لیے)، «تفسیر جزء تبارک» (محمد عبدہ کے جزء عمّ منصوبے کی تکمیل)، «الأولیاء و المحجورون» (ازہر لائبریری میں مخطوطہ)، «بحوث فی التشریع الاسلامی» اور «الدروس الدینیة» شامل ہیں۔ 1 5

    آراء و تنقید

    یہ حصہ ماخذوں کی منسوب آراء بیان کرتا ہے؛ عجائب گھر اپنا فیصلہ نہیں دیتا۔ عبد الحلیم محمود نے ان کے بارے میں کہا: «ذہین عالم، غیرمعمولی شخصیت کے مالک، پرہیبت، علم و سیاست میں رائے رکھنے والے، بلیغ الاسلوب»۔ دوسری طرف کیدوری — جیسا کہ جرمن مضمون نقل کرتا ہے — انہیں پہلی جنگِ عظیم تک سوڈان میں برطانوی حکومت کا «پرجوش حامی» قرار دیتا ہے، اور اسی مضمون کے مطابق 1936 کے بعد انہوں نے بادشاہ فاروق کے خلافت کے عزائم کی حمایت کی جس پر مندوبِ سامی لیمپسن کو ان کے مقاصد پر شبہ تھا۔ ان کے اصلاحی وارث محمود شلتوت نے ان کے 1928 کے میمورنڈم کی پرزور حمایت کی۔ نجف کے شیعہ عالم عبد الکریم الزنجانی سے ان کا طویل مکالمہ رہا، اور فروری 1938 میں انہوں نے سنی-شیعہ تقریب کے لیے قاہرہ میں ایک سپریم اسلامی کونسل کی تجویز دی جو شیعہ علماء کے سرد رویے کی وجہ سے عملی شکل نہ پا سکی۔ 1 5

    دین و مذہب

    یہاں استعمال شدہ کوئی ماخذ ان کے لیے کوئی فقہی مکتب نہیں بتاتا: عربی مضمون کے خانۂ معلومات میں ان کا دین «اسلام» درج ہے، کوئی مذہب نہیں؛ اردو اور انگریزی و جرمن مضامین اور علی جمعہ کا ترک انسائیکلوپیڈیا مدخل بھی کوئی مذہب نہیں بتاتے؛ ویکی ڈیٹا بھی اسلام ہی درج کرتا ہے۔ ان کا عدالتی و قانون سازی ریکارڈ کسی ایک مکتب سے وابستگی کے خلاف گواہی دیتا ہے۔ اس لیے ڈیٹا ریکارڈ میں ان کا عقیدہ غیر مصنف (نامعلوم) رکھا گیا ہے، جس کی بنیاد وہاں درج ہے۔ 1 4 5 2 6

    وفات

    وہ اسکندریہ کے المواساة اسپتال میں بیمار تھے جب بادشاہ فاروق نے — اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینے کے بعد — ان سے ایسی شرعی فتویٰ طلب کی جو اسے دوبارہ شادی سے روک دے؛ بادشاہ نے اسپتال آ کر بھی اصرار کیا، لیکن المراغی نے انکار کر دیا اور تلخ گفتگو کے بعد ان کی صحت بگڑ گئی۔ وہ بدھ کی شب 14 رمضان 1364ھ، مطابق 22 اگست 1945، وفات پا گئے (ترک انسائیکلوپیڈیا 23 اگست بتاتا ہے)؛ وفات کا مقام عربی مضمون کے خانۂ معلومات میں اسکندریہ درج ہے۔ ترک انسائیکلوپیڈیا کے مطابق ان کا جسد حلوان لے جایا گیا، نمازِ جنازہ جامع ازہر میں ہوئی، اور وہ قاہرہ کے سیدہ نفیسہ قبرستان میں دفن ہوئے۔ 1 2

    ماخذ

    • انگریزی ویکیپیڈیا کا مضمون (نظرثانی 1357399555)؛ عربی ویکیپیڈیا کا مضمون (نظرثانی 72346389)؛ اردو ویکیپیڈیا کا مضمون (نظرثانی 12253951)؛ جرمن ویکیپیڈیا کا مضمون (نظرثانی 266314227)؛ علی جمعہ، ترک انسائیکلوپیڈیا آف اسلام (TDV)، جلد 29 (2004)، ص 164-165؛ ویکی ڈیٹا آئٹم Q4120117۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Studied under
    الشيخ محمد عبده
    Influenced
    محمود شلتوت
    Lived in
    القاهرة
    Died in
    الإسكندرية
    Buried in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    قاسم امین· احمد عصمت عبد المجید· احمد لطفی سید· عمرو خالد· جمال عبد الناصر· نازلی فاضل· شکری القوتلی· طہ حسین

    ماخذ

    1. Muhammad Mustafa al-Maraghi — Arabic Wikipedia
    2. Muhammad Mustafa al-Maraghi — TDV İslâm Ansiklopedisi entry
    3. Muhammad Mustafa al-Maraghi — Urdu Wikipedia
    4. Muhammad Mustafa al-Maraghi — English Wikipedia
    5. Muhammad Mustafa al-Maraghi — German Wikipedia
    6. Muhammad Mustafa al-Maraghi — Wikidata Q4120117
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد مصطفی المراغی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhammad-mustafa-al-maraghi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    قاسم امین

    مصری قاضی اور مصنف (1863–1908)، مصری قومی تحریک اور جامعہ قاہرہ کے بانیوں میں سے ایک؛ اپنی دو کتابوں «تحریر المرأة» (1899) اور «المرأة الجديدة» (1900) کے لیے مشہور، جن میں انہوں نے خواتین کی تعلیم، حجاب کے خاتمے اور شادی و طلاق کے قوانین کی اصلاح کی دعوت دی، اور جن پر آج تک بحث جاری ہے۔