وائل غنیم

وائل غنيم

القاهرة

مصری انٹرنیٹ کارکن اور کمپیوٹر انجینئر، 1980 میں قاہرہ میں پیدا ہوئے اور سعودی عرب کے شہر ابھا میں پلے بڑھے۔ وہ گوگل کے مشرقِ وسطیٰ و شمالی افریقہ کے مارکیٹنگ سربراہ تھے جب 2010 میں انھوں نے گمنام طور پر فیس بک صفحہ «ہم سب خالد سعید ہیں» بنایا، جو 25 جنوری 2011 کے مظاہروں کی دعوت کا نقطۂ آغاز بنا۔ انھیں 11 دن خفیہ حراست میں رکھا گیا، اور رہائی پر ان کے جذباتی ٹیلی ویژن انٹرویو نے حسنی مبارک کو اقتدار سے ہٹانے والے احتجاج میں نئی روح پھونکی۔ انھوں نے یادداشت «انقلاب 2.0» لکھی، تحریر اکیڈمی قائم کی اور پارلیو کے شریک بانی رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
activist · engineer · writer
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الرحمن بدوي

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    وائل غنیم مصری انٹرنیٹ کارکن اور کمپیوٹر انجینئر ہیں جو 2011 میں اس سوشل میڈیا مہم کے منتظمین میں سے ایک کے طور پر عالمی شخصیت بنے جس نے حسنی مبارک کو اقتدار سے ہٹانے والے عوامی مظاہروں کو بھڑکانے میں مدد دی۔ 1 2 اس سجل کے لیے پڑھے گئے کسی ماخذ نے ان کے لیے کوئی مذہب یا مسلک نہیں بتایا، اور ان کے ڈیٹا میں کوئی درج نہیں۔ 1 2

    پس منظر اور تعلیم

    وہ 23 دسمبر 1980 کو قاہرہ میں ایک متوسط خاندان میں پیدا ہوئے، سعودی عرب کے شہر ابھا میں پلے بڑھے اور تیرہ برس کی عمر میں قاہرہ واپس آئے۔ 1 2 انھوں نے 2004 میں قاہرہ یونیورسٹی سے کمپیوٹر انجینئرنگ کی ڈگری اور امریکن یونیورسٹی قاہرہ سے مارکیٹنگ و مالیات میں ایم بی اے کیا۔ 1

    انقلاب سے پہلے کا کیریئر

    وہ 2002 سے 2005 تک جواب کے مارکیٹنگ و سیلز مینیجر رہے، پھر مالیاتی پورٹل مباشر قائم کیا۔ 1 وہ 2008 میں گوگل میں شامل ہوئے اور جنوری 2010 میں دبئی میں مقیم مشرقِ وسطیٰ و شمالی افریقہ کے مارکیٹنگ سربراہ بنے۔ 1 2

    «ہم سب خالد سعید ہیں» اور انقلاب

    جون 2010 میں انھوں نے گمنام طور پر فیس بک صفحہ «ہم سب خالد سعید ہیں» بنایا — اسکندریہ میں پولیس کے ہاتھوں تشدد سے ہلاک ہونے والے ایک نوجوان کی حمایت میں — اور یہ صفحہ لاکھوں ارکان کے ساتھ پولیس کی بربریت پر بحث کا فورم بن گیا۔ 1 2 تیونس کی بغاوت کے بعد انھوں نے اسی صفحے سے 25 جنوری 2011 کو سڑکوں پر آنے کی دعوت دی۔ 1 وہ 27 جنوری کو غائب ہو گئے اور 11 دن خفیہ حراست میں رہے، جہاں اس صفحے کے بارے میں ان سے پوچھ گچھ ہوئی جسے وہ عبد الرحمن منصور کے ساتھ چلاتے تھے۔ 1 2

    رہائی اور علامت

    7 فروری کو رہا ہو کر وہ اسی دن ڈریم ٹی وی پر آئے، مظاہرین کی تعریف کی اور شہدا کے نام و تصاویر سن دیکھ کر کیمرے کے سامنے آبدیدہ ہو گئے۔ 1 اس انٹرویو کو اکثر احتجاج میں نئی روح پھونکنے کا سبب قرار دیا جاتا ہے۔ 2 9 فروری کو تحریر اسکوائر کے ہجوم سے انھوں نے کہا کہ یہ افراد، جماعتوں یا تحریکوں کا وقت نہیں — یہ سب کے ایک ہی بات کہنے کا وقت ہے: مصر سب سے اوپر۔ 1 انھوں نے ترجمان یا ہیرو بننے سے ہمیشہ انکار کیا اور انقلاب کو ویکیپیڈیا سے تشبیہ دی: سب کا حصہ، کوئی ہیرو نہیں۔ 1 ٹائم نے انھیں 2011 کی 100 بااثر ترین شخصیات میں شامل کیا اور انھیں مصر کے عوام کی جانب سے جے ایف کے پروفائل ان کریج ایوارڈ ملا۔ 1

    انقلاب کے بعد

    ان کی یادداشت «انقلاب 2.0» 2012 میں شائع ہوئی اور انھوں نے کتاب کی ڈیل کی آمدنی — مضمون کے مطابق تقریباً 25 لاکھ ڈالر — مصر کے فلاحی کاموں کے لیے وقف کر دی۔ 1 انھوں نے نوجوان مصریوں کے لیے غیر منافع بخش آن لائن تعلیمی پلیٹ فارم تحریر اکیڈمی قائم کی، جو فنڈنگ نہ ملنے پر 2015 میں بند ہو گئی۔ 1 3 2015 میں وہ پارلیو کے شریک بانی بنے، جسے مارچ 2016 میں کوورا نے خرید لیا، اور وہ ہارورڈ کے ایش سینٹر کے غیر مقیم سینئر فیلو ہیں۔ 1 3

    مآخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرّف مآخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترامیم مؤرخہ ہونی چاہئیں اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کے ماخذ کا نام دینا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    القاهرة
    Lived in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ

    ماخذ

    1. Wael Ghonim — English Wikipedia
    2. Wael Ghonim — Encyclopaedia Britannica
    3. Wael Ghonim — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “وائل غنیم”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/wael-ghonim/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.