محمد طاہر القادری

محمد طاهر القادري

پاکستانی نژاد کینیڈین عالمِ دین، جو 1951 میں جھنگ میں پیدا ہوئے۔ وہ منہاج القرآن انٹرنیشنل (1980) اور پاکستان عوامی تحریک (1989) کے بانی، پنجاب یونیورسٹی میں آئینی قانون کے سابق پروفیسر، اور «فتویٰ ضدِ دہشت گردی» (2010) کے مصنف ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · writer · سیاست دان
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    sunni-hanafi (مستند) · sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد طاہر القادری (پیدائش 19 فروری 1951) پاکستانی نژاد کینیڈین عالمِ دین اور سابق سیاست دان ہیں، منہاج القرآن انٹرنیشنل (1980) اور پاکستان عوامی تحریک (1989) کے بانی ہیں۔ 1 2 وہ پنجاب یونیورسٹی میں آئینی قانون کے پروفیسر اور سپریم کورٹ و وفاقی شرعی عدالت کے مشیرِ فقہ رہے، اور ان کی شہرت کی ایک بڑی وجہ «فتویٰ ضدِ دہشت گردی» (2010) ہے۔ 1

    زندگی اور خدمات

    وہ جھنگ میں ایک پنجابی مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد ڈاکٹر فرید الدین قادری طبیب، صوفی شاعر اور عالم تھے۔ 1 3 دس برس کی عمر میں انھوں نے والد سے دینی تعلیم شروع کی، بارہ برس کی عمر میں مدینہ منورہ گئے، اور پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی؛ ان کا ڈاکٹریٹ کا مقالہ «اسلام میں سزا: اس کی درجہ بندی و فلسفہ» (1984) ہے۔ 1

    اردو مضمون کے مطابق وہ شیخ سید طاہر علاؤ الدین القادری الگیلانی کے مرید ہیں اور 26 جولائی 1972 کو ان سے باقاعدہ بیعت کی۔ 3

    انھوں نے 17 اکتوبر 1980 کو تحریک منہاج القرآن کی بنیاد رکھی، 1986 میں منہاج یونیورسٹی لاہور اور 1989 میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن اور پاکستان عوامی تحریک قائم کی۔ وہ 1990 میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 2004 میں صدر پرویز مشرف کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجاً استعفٰی دے دیا۔ 1 2005 میں وہ کینیڈا منتقل ہو گئے؛ 2012 کے آخر میں واپس آ کر جنوری 2013 میں لانگ مارچ کی قیادت کی۔ 2019 میں انھوں نے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ 1

    تصانیف

    ان کی تصانیف ایک ہزار سے زائد ہیں، جن میں سے تقریباً 550 شائع ہو چکی ہیں، اور وہ چھ ہزار سے زائد لیکچر دے چکے ہیں۔ 1 ان کی معروف ترین تصنیف «فتویٰ ضدِ دہشت گردی و خودکش حملے» (2010) ہے، جو دہشت گردی کو عین اسلام کے خلاف قرار دیتی ہے۔ 1

    موقف و تنقید

    یہ حصہ ماخذ میں بیان کردہ مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔ اردو مضمون ان کا بیان نقل کرتا ہے کہ وہ خود کو فقط اہلِ سنت مسلمان قرار دیتے ہیں اور بریلوی و دیوبندی عنوانات سے آزاد سمجھتے ہیں، جبکہ اسی مضمون کے زمرے انھیں بریلوی مکتب کی شخصیات میں رکھتے ہیں؛ دونوں قراءتیں ان کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔ 3 بعض علما نے ان کے بعض نظریات پر تنقید کی، اور 2014 میں ایک ہندوستانی عالم نے ان کے خلاف تکفیری فتویٰ جاری کیا، جیسا کہ انگریزی مضمون بیان کرتا ہے۔ 1

    حوالے

    • اوپر مذکور معرّف ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    ماخذ

    1. Muhammad Tahir-ul-Qadri — English Wikipedia
    2. Muhammad Tahir-ul-Qadri — Arabic Wikipedia
    3. Muhammad Tahir-ul-Qadri — Urdu Wikipedia
    • Muhammad Tahir-ul-Qadri — Wikidata Q732388
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد طاہر القادری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/tahir-ul-qadri/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔