شہرہ آغداشلو

شهره آغداشلو

ایرانی-امریکی اداکارہ، 1952 میں تہران میں شہرہ وزیری تبار کے نام سے پیدا ہوئیں؛ انھوں نے ستر کی دہائی میں ایرانی اسٹیج اور پردے سے آغاز کیا، 1979 میں ایران چھوڑ کر انگلستان اور پھر امریکا گئیں، «ہاؤس آف سینڈ اینڈ فوگ» (2003) پر اکیڈمی ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئیں، «ہاؤس آف صدام» (2008) میں ساجدہ طلفاح کے کردار پر پرائم ٹائم ایمی ایوارڈ جیتا، «دی ایکسپینس» (2015–2022) میں کرسجن اواسارالا کے کردار سے عالمی شہرت پائی، اور 2013 میں اپنی خود نوشت «دی ایلی آف لو اینڈ ییلو جیسمینز» شائع کی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
actress
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    شہرہ آغداشلو ایرانی-امریکی اداکارہ ہیں جنھیں پرائم ٹائم ایمی ایوارڈ اور سیٹلائٹ ایوارڈ ملا ہے اور وہ اکیڈمی ایوارڈ کے لیے بھی نامزد ہو چکی ہیں۔ 1 وہ عالمی سطح پر «دی ایکسپینس» (2015–2022) میں کرسجن اواسارالا اور «24» کے چوتھے سیزن میں دینا اراز کے کرداروں کے لیے معروف ہیں۔ 1 انگریزی مضمون کے مطابق وہ ایک مسلمان خاندان میں پیدا ہوئیں اور انھوں نے کہا ہے کہ وہ عمل نہیں کرتیں؛ کوئی ماخذ ان کا کوئی مکتب نہیں بتاتا، اس لیے ان کے سجل میں ان کا مذہب نامعلوم درج ہے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور ایران

    وہ شہرہ وزیری تبار کے نام سے 11 مئی 1952 کو تہران میں پیدا ہوئیں؛ ان کا فنی نام ان کے پہلے شوہر، مصور آیدین آغداشلو، کے خاندانی نام سے آیا ہے، جن سے انھوں نے 1972 میں شادی کی۔ 1 2 انھوں نے 19 برس کی عمر میں اسٹیج اداکارہ کے طور پر کام شروع کیا اور «چیس آف دی ونڈ» (1976) سے فلمی آغاز کیا؛ ان کی اگلی فلموں «دی رپورٹ» (1977) اور «سوتہ دلان» (1977) نے تنقیدی پذیرائی حاصل کی اور انھیں ایران کی نمایاں اداکاراؤں میں شامل کر دیا، اگرچہ یہ فلمیں ایران میں ہی ممنوع تھیں۔ 1 وہ 1979 کے ایرانی انقلاب کے دوران انگلستان چلی گئیں، برونیل یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں بیچلر ڈگری حاصل کی، پھر امریکا منتقل ہوئیں اور امریکی شہری بن گئیں۔ 1

    امریکی پیش رفت

    ان کی پہلی امریکی فلم «گیسٹس آف ہوٹل اسٹوریا» (1989) تھی، جس کے بعد برسوں چھوٹے ٹیلی ویژن اور فلمی کردار ملے۔ 1 «ہاؤس آف سینڈ اینڈ فوگ» (2003) میں بن کنگزلی اور جینیفر کونلی کے مقابل ان کی اداکاری نے فلمی نقادوں کے کئی ایوارڈ اور بہترین معاون اداکارہ کے اکیڈمی ایوارڈ کی نامزدگی دلائی۔ 1 بعد کی فلموں میں «دی ایگزارسزم آف ایملی روز» (2005)، «ایکس مین: دی لاسٹ اسٹینڈ» اور «دی نیٹیوٹی اسٹوری» (2006)، «دی اوڈ لائف آف ٹموتھی گرین» (2012) اور «اسٹار ٹریک بیونڈ» (2016) شامل ہیں۔ 1

    ٹیلی ویژن، ایمی اور «دی ایکسپینس»

    ٹیلی ویژن میں انھوں نے «24» کے چوتھے سیزن میں دینا اراز کا کردار ادا کیا، اور ایچ بی او کی مختصر سیریز «ہاؤس آف صدام» (2008) میں ساجدہ طلفاح کے کردار پر محدود سیریز یا فلم میں بہترین معاون اداکارہ کا پرائم ٹائم ایمی ایوارڈ جیتا۔ 1 2015 سے 2022 تک وہ «دی ایکسپینس» میں اقوام متحدہ کی سینئر اہلکار کرسجن اواسارالا کے مرکزی کردار میں نظر آئیں، اور 2025 میں «دی وہیل آف ٹائم» کے تیسرے سیزن میں ایلائدا آروہان کا کردار ادا کیا۔ 1 انھوں نے «ماس ایفیکٹ» میں ایڈمرل شالا ران، «ڈیسٹنی» میں لکشمی-2، «آرکین» (2021) میں گریسن اور «اساسنز کریڈ میراج» (2023) میں روشن کو بھی آواز دی۔ 1 2013 میں ان کی خود نوشت «دی ایلی آف لو اینڈ ییلو جیسمینز» شائع ہوئی۔ 1

    کردار اور دقیانوسی تصورات — منسوب

    یہ حصہ موقف اسی طرح پیش کرتا ہے جیسے مآخذ بیان کرتے ہیں؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔ «24» میں اپنے کردار کے بارے میں مضمون بتاتا ہے کہ انھوں نے ٹائم میگزین کو انٹرویو میں کہا کہ وہ پہلے مسلمانوں کو دہشت گرد دکھانے کے دقیانوسی تصور کو تقویت دینے سے گریز کرتی تھیں، لیکن کردار کی قوت اور پیچیدگی نے انھیں اسے قبول کرنے پر آمادہ کیا۔ 1 2008 میں انھوں نے «دی اسٹوننگ آف ثریا ایم.» میں مرکزی کردار زہرا خانم ادا کیا، جو کسی امریکی فیچر فلم میں ان کا پہلا مرکزی کردار تھا؛ فلمی عالم حمید نفیسی نے اس کردار پر تنقید کی اور اسے مشرق وسطیٰ کے لوگوں، بشمول ایرانیوں، کو دقیانوسی انداز میں پیش کرنے والی فلموں میں کام نہ کرنے کے ان کے عہد کے منافی قرار دیا۔ 1 ستمبر 2009 میں وہ جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں آذر نفیسی اور ڈوائٹ بشیر کے ساتھ ایران میں انسانی حقوق اور بہائیوں پر ظلم کے بارے میں فکرمند آوازوں میں شامل ہوئیں۔ 1

    ذاتی زندگی

    1987 میں انھوں نے اداکار و ڈراما نگار ہوشنگ توزی سے شادی کی؛ ان کی بیٹی تارا توزی 1989 میں پیدا हुई، اور وہ توزی کے کئی ڈراموں میں اداکاری کر چکی ہیں جو قومی و بین الاقوامی اسٹیجوں پر، خصوصاً ایرانی تارکینِ وطن میں، پیش ہوئے۔ 1 مضمون کہتا ہے: «مسلمان خاندان میں پیدا ہونے کے باوجود، انھوں نے کہا ہے کہ وہ عمل نہیں کرتیں۔» 1

    مآخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرّف مآخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترامیم مؤرخہ ہونی چاہئیں اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کے ماخذ کا نام دینا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Appears in
    رجم ثريا م

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    رجم ثريا م

    ماخذ

    1. Shohreh Aghdashloo — English Wikipedia
    2. Shohreh Aghdashloo — Wikidata Q229766
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “شہرہ آغداشلو”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/shohreh-aghdashloo/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    رجم ثريا م

    A film dramatising the true account of Soraya Manutchehri, falsely accused of adultery and stoned in an Iranian village — from Freidoune Sahebjam's book.