ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · writer
- خطہ
- south-asia
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
شیخ حسینہ (پیدائش 28 ستمبر 1947ء) بنگلہ دیشی سیاست دان ہیں جو دو بار اپنے ملک کی وزیر اعظم رہیں، 1996ء سے 2001ء اور 2009ء سے 5 اگست 2024ء کو اپنے استعفے تک — اپنے ملک کی سب سے طویل عرصہ خدمات انجام دینے والی وزیر اعظم اور دنیا کی سب سے طویل عرصہ خدمات انجام دینے والی خاتون سربراہ حکومت۔ بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کی بیٹی، وہ 1981ء سے عوامی لیگ کی صدر ہیں۔ ان کی دوسری وزارت عظمیٰ میں بڑی اقتصادی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے بھی ہوئے اور مضمون کے مطابق جمہوری پسپائی اور جبر بھی؛ یہ جولائی 2024ء کی بغاوت پر ختم ہوئی، جس کے بعد وہ ہندوستان چلی گئیں؛ نومبر 2025ء میں ایک بنگلہ دیشی ٹربیونل نے غیر حاضری میں انھیں انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی، جسے انھوں نے سیاسی قرار دے کر مسترد کر دیا۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور خاندان کا قتل
حسینہ شیخ 28 ستمبر 1947ء کو مشرقی بنگال کے تونگیپاڑہ میں شیخ مجیب الرحمان اور بیگم فضیلت النساء مجیب کے ہاں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے تونگیپاڑہ اور ڈھاکہ کے درمیان پرورش پائی اور ان کا بچپن والد کی بار بار سیاسی قید سے متاثر رہا۔ 1968ء میں ان کی شادی ایٹمی طبیعیات دان ایم اے واجد میاں سے ہوئی؛ ان کے دو بچے، سجیب اور صائمہ، ہوئے۔ 15 اگست 1975ء کو ان کے والد اور تقریباً پورا خاندان ایک فوجی بغاوت میں قتل کر دیا گیا؛ حسینہ، ان کے شوہر اور بہن شیخ ریحانہ یورپ میں ہونے کی وجہ سے بچ گئے۔ انھوں نے ہندوستان میں پناہ لی اور چھ سال نئی دہلی میں رہے، ضیاء الرحمان کی فوجی حکومت نے ان کی واپسی پر پابندی لگا رکھی تھی۔ 1
واپسی اور حزب اختلاف
جلاوطنی کے دوران ہی حسینہ 16 فروری 1981ء کو عوامی لیگ کی صدر منتخب ہوئیں اور اسی سال مئی میں بنگلہ دیش واپس آئیں۔ 1980ء کی دہائی میں وہ ارشاد حکومت کے خلاف مہم کے دوران مارشل لا میں بار بار نظر بند رہیں، اور 1990ء میں انھوں نے بی این پی کی خالدہ ضیاء — اپنی حریف، جس مقابلے کو «بیگموں کی جنگ» کہا گیا — کے ساتھ مل کر اس عوامی بغاوت کی قیادت کی جس نے پارلیمانی جمہوریت بحال کی۔ وہ 1991ء سے 1996ء تک قائد حزب اختلاف رہیں۔ 1
پہلی وزارت عظمیٰ (1996ء–2001ء)
عوامی لیگ نے جون 1996ء کے انتخابات نگراں حکومت کے تحت جیتے اور حسینہ وزیر اعظم بن گئیں۔ ان کی حکومت نے ہندوستان کے ساتھ گنگا کے پانی کی تقسیم کا تیس سالہ معاہدہ کیا، اپنے والد کے قاتلوں کو تحفظ دینے والا حصانتی قانون منسوخ کیا، ٹیلی کمیونیکیشن نجی شعبے کے لیے کھولی، بنگا بندھو پل مکمل کیا اور 1997ء کا چٹاگانگ پہاڑی علاقہ امن معاہدہ کیا، جس پر انھیں یونیسکو امن انعام ملا۔ 2001ء کے انتخابات کے بعد وہ دوبارہ حزب اختلاف میں چلی گئیں۔ 1
دوسری وزارت عظمیٰ (2009ء–2024ء)
حسینہ 2008ء کے انتخابات میں اقتدار میں واپس آئیں اور پندرہ سال عہدے پر رہیں۔ مضمون ان کی حکومت کو مسلسل اقتصادی نمو اور بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا سہرا دیتا ہے اور ساتھ ہی سیاسی نظام کی ایسی تبدیلی بیان کرتا ہے جس میں جبری گمشدگیاں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، پریس اور حزب اختلاف پر دباؤ اور 2014ء، 2018ء اور 2024ء کے انتخابات میں بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات شامل تھے۔ جولائی 2024ء میں سرکاری ملازمتوں کے کوٹے کے خلاف طلبہ تحریک کو کریک ڈاؤن کا سامنا ہوا جس میں مضمون کے مطابق 1400 سے زیادہ مظاہرین مارے گئے؛ احتجاج عام بغاوت میں بدل گیا اور 5 اگست 2024ء کو حسینہ نے استعفیٰ دے کر ہندوستان روانہ ہو گئیں۔ 1
جلاوطنی اور سزا
حسینہ اگست 2024ء سے ہندوستان میں ہیں۔ نومبر 2025ء میں ڈھاکہ کے بین الاقوامی جرائم ٹربیونل نے غیر حاضری میں انھیں انسانیت کے خلاف جرائم، بشمول مظاہرین پر مہلک طاقت کے استعمال کا حکم دینے، کا مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی؛ مضمون ان کا یہ موقف درج کرتا ہے کہ فیصلہ سیاسی ہے۔ وہ عوامی لیگ کی صدر برقرار ہیں۔ 1
ماخذ
- اوپر مذکور معرّف ماخذ وحدتیں، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظر ثانی کی تاریخ درج ہونی چاہیے اور ہر تبدیل شدہ حقیقت کا ماخذ نامزد ہونا چاہیے۔
تعلقات
- Child of
- شیخ مجیب الرحمان
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Sheikh Hasina — English Wikipedia
- Sheikh Hasina — Arabic Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “شیخ حسینہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/sheikh-hasina/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.