شوکت عزیز

شوكت عزيز

†

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

پاکستانی بینکار اور سیاست دان (پیدائش 1949ء)، اگست 2004ء سے نومبر 2007ء تک پاکستان کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خزانہ (1999ء–2007ء)، جنہوں نے سٹی بینک میں تین دہائیاں گزاریں اور نیویارک میں سٹی پرائیویٹ بینک کی صدارت تک پہنچے، نجکاری اور اقتصادی آزاد روی کے پروگرام کی قیادت کی، اور عہدہ چھوڑنے کے بعد لندن میں مقیم ہو گئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    شوکت عزیز (پیدائش 6 مارچ 1949ء) پاکستانی بینکار اور سیاست دان ہیں جو 28 اگست 2004ء سے 15 نومبر 2007ء تک پاکستان کے پندرھویں وزیرِ اعظم اور 1999ء سے 2007ء تک وزیرِ خزانہ رہے۔ سٹی بینک میں تین دہائیاں گزار کر نیویارک میں سٹی پرائیویٹ بینک کی صدارت تک پہنچنے والے اس ماہرِ مالیات کو صدر پرویز مشرف حکومت میں لائے؛ انہوں نے نجکاری، ضوابط سے آزاد روی اور اقتصادی آزاد روی کا وسیع پروگرام چلایا، اور عہدہ چھوڑنے کے بعد لندن میں مقیم ہو گئے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 6 مارچ 1949ء کو کراچی میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد ریڈیو پاکستان کے چیف انجینئر تھے۔ انہوں نے سینٹ پیٹرک اسکول کراچی اور ایبٹ آباد پبلک اسکول سے تعلیم پائی، 1967ء میں گورڈن کالج راولپنڈی سے معاشیات میں بی ایس کیا، اور 1969ء میں کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن سے ایم بی اے کیا۔ 1 3

    بینکاری اور وزارتِ خزانہ

    وہ 1969ء میں سٹی بینک پاکستان میں کریڈٹ افسر بنے اور پاکستان، یونان، امریکا، برطانیہ، ملائیشیا، فلپائن، اردن، سعودی عرب اور سنگاپور میں خدمات انجام دیتے ہوئے سٹی بینک کے ایگزیکٹو نائب صدر اور سٹی پرائیویٹ بینک کے صدر بنے۔ نومبر 1999ء میں مشرف کی ذاتی درخواست پر وطن واپس آ کر انہوں نے وزارتِ خزانہ سنبھالی اور نومبر 2007ء تک اس عہدے پر رہے؛ نجکاری پروگرام کو فعال کیا، اور 11 ستمبر 2001ء کے بعد امریکی خزانے کے ساتھ قرضوں میں ریلیف اور افغانستان جنگ کی مالیات پر قریبی کام کیا۔ ان کے دور کی مالی کارکردگی کی آئی ایم ایف اور عالمی بینک نے تعریف کی۔ 30 جولائی 2004ء کو فتح جنگ، اٹک میں انتخابی مہم کے دوران ان پر خودکش حملہ ہوا جس میں ان کا ڈرائیور اور چھ دیگر افراد جاں بحق ہوئے؛ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے پاکستان اور عالمِ اسلام کی خدمت کے ان کے عزم کو مضبوط کیا۔ 1

    وزارتِ عظمیٰ

    ظفر اللہ خان جمالی کے استعفے کے بعد وہ 28 اگست 2004ء کو وزیرِ اعظم بنے اور 15 نومبر 2007ء تک عہدے پر رہے۔ ان کی حکومت نے نجکاری و آزاد روی تیز کر دی — ان کی مدت کے اختتام تک فروخت کے لیے مقرر تمام سرکاری ادارے نجکاری پا چکے تھے اور جی ڈی پی نمو 6.6 سے 9 فیصد کے درمیان رہی — بلدیاتی نظام کی نگرانی کی، چشما اور کراچی میں نئے جوہری بجلی گھر اور دیامر بھاشا ڈیم منظور کیے، اور چین کے ساتھ JF-17 پروگرام آگے بڑھایا۔ مضمون میں مذکور سیاسی ماہرینِ معاشیات کہتے ہیں کہ ان کی اصلاحات نے معیشت کو سنبھالا بھی اور یہ کہ ان کے اشاریے غیر پائیدار تھے اور غریبوں کو خاطر خواہ ریلیف نہ ملا۔ مدت ختم ہوتے ہی وہ پاکستان چھوڑ کر برطانیہ مقیم ہو گئے۔ 1

    بعد کی رپورٹیں

    دو بعد کی رپورٹیں ان کے رد سمیت درج ہیں، جیسا کہ ماخذ بیان کرتا ہے، نہ کہ ثابت شدہ نتائج کے طور پر۔ 2011ء میں انہوں نے دبئی سے بلوچستان ہائی کورٹ کو اکبر بگٹی کیس کی 2009ء کی ایف آئی آر کے بارے میں لکھا جس میں ان کا نام آیا تھا، کہ انہیں اس واقعے کا علم ٹیلی ویژن میڈیا سے ہوا۔ نومبر 2017ء میں پیراڈائز پیپرز لیکس نے انہیں «انٹارکٹک ٹرسٹ» سے جوڑا — یہ ٹرسٹ انہوں نے خود قائم کیا تھا اور وزیرِ اعظم یا وزیرِ خزانہ ہوتے ہوئے ظاہر نہیں کیا تھا؛ انہوں نے ICIJ کو بتایا کہ ٹرسٹ اسٹیٹ پلاننگ کے لیے تھا اور رقوم سٹی بینک کی ملازمت سے آئی تھیں، اور مالی بے ضابطگی کے الزامات کو مسترد کیا۔ 1

    مذہب کے بارے میں ماخذ

    ویکی ڈیٹا ان کا مذہب «سنی اسلام» بتاتا ہے، لیکن یہ ایک واحد ساختی قدر ہے۔ دونوں مضامین میں سے کوئی بھی ان کا مذہب یا مکتب نہیں بتاتا: انگریزی مضمون میں مذہب کا کوئی خانہ یا وابستگی کی شہادت والا متن نہیں، اور عربی مضمون کے معلوماتی خانے میں بھی مذہب کا خانہ نہیں۔ اس لیے ریکارڈ میں ان کا مذہب غیر مصنف درج ہے۔ 3 1 2

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. Shaukat Aziz — English Wikipedia
    2. Shaukat Aziz — Arabic Wikipedia
    3. Shaukat Aziz — Wikidata Q223555
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “شوکت عزیز”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/shaukat-aziz/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔