شاہد خاقان عباسی

شاهد خاقان عباسي

†

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

پاکستانی سیاست دان اور تاجر (پیدائش 1958ء)، اگست 2017ء سے مئی 2018ء تک پاکستان کے وزیرِ اعظم، وزیرِ پٹرولیم و قدرتی وسائل (2013ء–2017ء)، ایئر لائن ایئر بلو کے بانی، اور 2024ء میں قائم کردہ اپنی جماعت عوام پاکستان کے چیئرمین۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · businessman
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    شاہد خاقان عباسی (پیدائش 27 دسمبر 1958ء) پاکستانی سیاست دان اور تاجر ہیں جو اگست 2017ء سے مئی 2018ء تک پاکستان کے وزیرِ اعظم رہے۔ وہ الیکٹریکل انجینئر ہیں، 1988ء میں والد کی وفات کے بعد سیاست میں آئے، راولپنڈی سے بارہا قومی اسمبلی کے رکن رہے، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے چیئرمین رہے، ایئر لائن ایئر بلو قائم کی، اور 2013ء سے 2017ء تک وزیرِ پٹرولیم و قدرتی وسائل رہنے کے بعد نواز شریف کے جانشین بنے۔ دسمبر 2023ء میں انہوں نے مسلم لیگ (ن) چھوڑ دی اور 2024ء میں اپنی جماعت عوام پاکستان قائم کی جس کے وہ چیئرمین ہیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 27 دسمبر 1958ء کو پیدا ہوئے۔ انگریزی مضمون کا متن اور معلوماتی خانہ ان کی جائے پیدائش مری ضلع کے گاؤں دیوال بتاتا ہے (متن میں ڈان کا حوالہ ہے)، جب کہ ویکی ڈیٹا کراچی بتاتا ہے؛ دونوں ماخذ میں اتفاق نہیں۔ انہوں نے لارنس کالج مری، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس (بیچلر، 1978ء) اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی (ماسٹر، 1985ء) سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی، پھر امریکا اور سعودی عرب میں بطور انجینئر کام کیا۔ 1 2

    سیاسی زندگی

    ان کے والد خاقان عباسی، سابق وفاقی وزیر، 1988ء میں اوجھڑی کیمپ سانحے میں جاں بحق ہوئے، جس کے بعد وہ سیاست میں آئے اور راولپنڈی سے منتخب ہوتے رہے۔ 1997ء میں وہ پی آئی اے کے چیئرمین بنے اور اکتوبر 1999ء کی فوجی بغاوت تک اس عہدے پر رہے۔ 2003ء میں انہوں نے نجی ایئر لائن ایئر بلو قائم کی۔ 2008ء میں گیلانی حکومت میں مختصر عرصے کے لیے وزیرِ تجارت رہے، اور 2013ء سے 2017ء تک وزیرِ پٹرولیم رہے جہاں انہوں نے ایل این جی درامد کی وکالت کی — فروری 2016ء میں قطر سے پندرہ سالہ معاہدہ پاکستان کی سب سے بڑی تجارتی ڈیل قرار دیا گیا۔ 28 جولائی 2017ء کو نواز شریف کی نااہلی کے بعد وہ 1 اگست 2017ء کو وزیرِ اعظم منتخب ہوئے اور 31 مئی 2018ء تک عہدے پر رہے۔ 1

    قانونی مقدمات

    یہ مقدمات ان کے نتائج سمیت درج ہیں، جیسا کہ ماخذ بیان کرتا ہے، نہ کہ ثابت شدہ جرم کے طور پر۔ 1999ء کے طیارہ اغوا کیس میں وہ دو سال قید رہے اور 2001ء میں بری ہوئے؛ پی آئی اے کے لیے کمپیوٹر خریداری میں بدعنوانی کے الزام سے 2008ء میں بری ہوئے۔ 2015ء میں نیب کی ایل این جی تحقیقات دسمبر 2016ء میں اس نتیجے پر بند ہوئی کہ قواعد کی پابندی ہوئی اور بولی شفاف تھی۔ جون 2018ء میں الیکشن ٹربیونل نے انہیں عمر بھر کے لیے نااہل قرار دیا؛ لاہور ہائی کورٹ نے حکم معطل کر دیا، وہ اکتوبر 2018ء میں لاہور کے ضمنی انتخاب میں منتخب ہوئے، اور بعد میں اپیلٹ ٹربیونل کے تفصیلی فیصلے نے نااہلی برقرار رکھی۔ جولائی 2019ء میں ایل این جی کیس میں گرفتاری ہوئی اور بعد میں ضمانت ملی۔ 1

    مذہب کے بارے میں ماخذ

    کوئی مضمون ان کا مذہب یا مکتب نہیں بتاتا۔ انگریزی مضمون — جو عجائب گھر کی تینوں زبانوں میں واحد موجود مضمون ہے — میں مذہب کا کوئی خانہ یا متن نہیں؛ ویکی ڈیٹا کی واحد مذہبی قدر عمومی «اسلام» ہے۔ اس لیے ریکارڈ میں ان کا مذہب غیر مصنف درج ہے۔ 1 2

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. Shahid Khaqan Abbasi — English Wikipedia
    2. Shahid Khaqan Abbasi — Wikidata Q7461686
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “شاہد خاقان عباسی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/shahid-khaqan-abbasi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔