سلمان رشدی

سلمان رشدي

سلمان رشدی (پیدائش 19 جون 1947ء) ہندوستانی نژاد برطانوی ناول نگار ہیں، جن کے ناول «مڈنائٹس چلڈرن» (1981ء) نے بکر انعام جیتا۔ ان کے ناول «شیطانی آیات» (1988ء) پر وسیع احتجاج ہوا اور 1989ء میں ان کے قتل کا فتویٰ جاری ہوا، جس کے بعد وہ برسوں حفاظتی تحویل میں رہے؛ 2007ء میں انہیں نائٹ کا خطاب ملا اور 2022ء میں قاتلانہ حملے میں ان کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی۔ وہ کئی دہائیوں سے اپنے الفاظ میں کہتے آئے ہیں کہ وہ مافوق الفطرت ہستیوں پر یقین نہیں رکھتے اور خود کو «کٹر ملحد» کہتے ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
writer
خطہ
south-asia · andalus-europe · americas-oceania
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    atheist-or-sceptic (self-identified)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    «شیطانی آیات» اور فتویٰ

    ان کے ناول «شیطانی آیات» (1988ء) پر کئی ملکوں میں وسیع احتجاج ہوا اور فروری 1989ء میں ایران سے ان کے قتل کا فتویٰ جاری ہوا، جس کے بعد وہ برسوں برطانوی پولیس کی حفاظت میں خفیہ ٹھکانوں میں رہے۔ 2007ء میں انہیں نائٹ کا خطاب ملا اور 2022ء میں وہ آرڈر آف دی کمپینیئنز آف آنر کے رکن بنے۔ 12 اگست 2022ء کو ریاست نیویارک میں ایک لیکچر سے قبل اسٹیج پر حملہ آور نے انہیں چاقو کے وار کیے، جس سے ان کی ایک آنکھ کی بینائی جاتی رہی اور ہاتھ و جگر کو نقصان پہنچا؛ یہ تجربہ انہوں نے اپنی کتاب «نائف» (2024ء) میں بیان کیا۔ 1 2

    ان کا مذہبی موقف

    رشدی ایک آزاد خیال مسلم خاندان سے تعلق رکھتے ہیں — یہ خاندانی پس منظر ہے، ان کے اپنے موقف کی شہادت نہیں۔ اپنا موقف وہ خود کئی دہائیوں سے بیان کرتے آئے ہیں: 1989ء میں «فار ایسٹرن اکنامک ریویو» کو انٹرویو میں انہوں نے کہا: «میرا نقطۂ نظر ایک سیکولر انسان کا ہے۔ میں مافوق الفطرت ہستیوں پر یقین نہیں رکھتا، خواہ وہ مسیحی ہوں، یہودی، مسلمان یا ہندو»؛ اور 2006ء میں PBS کو انٹرویو میں انہوں نے خود کو «کٹر ملحد» (hardline atheist) کہا۔ مخالف واقعہ بھی ان کے ریکارڈ میں محفوظ ہے: 15 دسمبر 1990ء کو فتوے کے دباؤ میں انہوں نے ایک بیان جاری کر کے اپنے مسلم ایمان کی تجدید کی — وہ بیان جس پر 1992ء تک وہ ندامت ظاہر کر چکے تھے اور کہ چکے تھے کہ اس کے الفاظ انہوں نے خود نہیں لکھے تھے؛ 2006ء کے بعد کے بیانات اسے مؤخر و منسوخ کرتے ہیں۔ چنانچہ عجائب گھر ان کا ایمان ان کے اپنے الفاظ کی بنیاد پر «ملحد/متشکک» درج کرتا ہے، اور 1990ء کا واقعہ و اس کی واپسی ریکارڈ میں محفوظ رہتی ہے۔ فتوے کے برسوں میں مخالفین کے لگائے ہوئے القاب کسی سمت میں شہادت نہیں، اور عربی مضمون کا «الحاد» پورٹل ادارتی درجہ بندی ہے، متن نہیں۔ 1 3 4

    Sources

    • The defined source entities cited above, recorded in data/source/.
    • Revisions of this article must be dated, and must name the source that changed each fact.

    ماخذ

    1. Salman Rushdie — English Wikipedia
    2. Salman Rushdie — Urdu Wikipedia
    3. Salman Rushdie — Arabic Wikipedia
    4. Salman Rushdie — Wikidata Q44306
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “سلمان رشدی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/salman-rushdie/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔