صائب عریقات

صائب عريقات

–

القدس

صائب عریقات (28 اپریل 1955ء – 10 نومبر 2020ء) فلسطینی سیاست دان اور سفارت کار تھے جو ابو دِس میں پیدا ہوئے اور امریکہ و برطانیہ میں تعلیم پائی۔ وہ 1995ء سے اسرائیل کے ساتھ فلسطینیوں کے چیف مذاکرات کار، فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اور 2015ء سے وفات تک تنظیم آزادی فلسطین کی مجلس عاملہ کے سیکرٹری جنرل رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · سفارت کار
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد العزیز بوتفلیقہ · عبد العزيز المدني · عبد الحميد الأزهري · عبد القدیر خان · شیخ احمد لیمو

مکان میں

القدس

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    صائب محمد صالح عریقات (28 اپریل 1955ء – 10 نومبر 2020ء)، کنیت ابو علی، فلسطینی سیاست دان اور سفارت کار تھے۔ وہ 1995ء سے اسرائیل کے ساتھ فلسطینیوں کے چیف مذاکرات کار، فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اور 2015ء سے وفات تک تنظیم آزادی فلسطین کی مجلس عاملہ کے سیکرٹری جنرل رہے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ یروشلم کے قریب ابو دِس میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان حویتات قبائلی اتحاد سے منسلک عریقات خاندان کی فلسطینی شاخ سے تھا۔ 1967ء میں مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کے وقت ان کی عمر بارہ برس تھی، اور ایک سال بعد انہیں قبضے کے خلاف نعرے لکھنے اور اشتہار لگانے پر حراست میں لیا گیا۔ 1

    انہوں نے سٹی کالج آف سان فرانسسکو، سان فرانسسکو اسٹیٹ یونیورسٹی اور برطانیہ کی بریڈفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم پائی، اور بعد میں نابلس کی النجاح نیشنل یونیورسٹی میں پڑھایا۔ 1

    مذاکراتی کردار

    انہوں نے اسرائیل کے ساتھ ابتدائی مذاکرات میں حصہ لیا اور 1995ء سے چیف مذاکرات کار رہے۔ 2003ء میں وہ احتجاجاً مستعفی ہوئے مگر اسی سال دوبارہ مقرر ہوئے؛ 2007ء کے ایناپولس کانفرنس میں انہوں نے مشترکہ اعلامیہ تیار کرنے میں کردار ادا کیا، اور 2011ء میں «فلسطین پیپرز» کی اشاعت پر دوبارہ استعفیٰ دیا۔ وہ فلسطینی اتھارٹی میں مقامی حکومت، مذاکراتی امور اور اطلاعات کے وزیر رہے۔ 1

    وفات

    انہیں پھیپھڑوں کی بیماری تھی اور 2017ء میں ان کا پھیپھڑے کی پیوند کاری ہوئی۔ اکتوبر 2020ء میں وہ کووڈ-19 میں مبتلا ہوئے، یروشلم کے ہداسہ عین کیرم اسپتال منتقل ہوئے اور 10 نومبر 2020ء کو 65 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ ان کی تدفین اریحا میں ہوئی۔ 1 3

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    القدس

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    المسجد الأقصى· الحرم القدسي الشريف· قبة الصخرة· مسجد عمر· حائط البراق (الحائط الغربي)· إحراق المسجد الأقصى (1969)· حملة أتسز بن أوق على الشام· اضطرابات حائط البراق (1929)

    ماخذ

    1. Saeb Erekat — English Wikipedia
    2. Saeb Erekat — Urdu Wikipedia
    3. Saeb Erekat — Arabic Wikipedia
    • Saeb Erekat — Wikidata Q970706
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “صائب عریقات”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/saeb-erekat/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    المسجد الأقصى

    The Aqsa mosque on Jerusalem's south-east corner as al-Muqaddasi saw it: Davidic foundations of ten-cubit carved blocks, Abd al-Malik's superstructure 'finer than the Damascus mosque' until an Abbasid-era earthquake felled the roofed part save the mihrab; too costly for the treasury, the caliph had each provincial amir rebuild one arcade — leaving a visible 'seam' — and Abdallah ibn Tahir added fifteen marble arcades; twenty-six doors, the greatest plated in gilded brass, the domes of the Chain, the Ascension and the Prophet on its platform.