ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · teacher
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
روزا اوتونبایوا (پیدائش 23 اگست 1950ء) کرغیز سیاست دان و سفارت کار ہیں جنھوں نے اپریل 2010ء کے انقلاب کے بعد اپنے ملک کی عبوری حکومت کی قیادت کی اور 3 جولائی 2010ء سے یکم دسمبر 2011ء تک کرغیزستان کی صدر رہیں — وسطی ایشیا کی پہلی خاتون سربراہِ مملکت۔ 1 2
فلسفے کی تربیت رکھنے والی اوتونبایوا اس سے پہلے تین مرتبہ اپنے ملک کی وزیرِ خارجہ، امریکہ میں اس کی پہلی سفیر، برطانیہ میں سفیر اور جارجیا میں اقوام متحدہ کی مندوب رہ چکی تھیں۔ 1
ابتدائی زندگی اور تعلیم
روزا اساکوفنا اوتونبایوا 23 اگست 1950ء کو فرونزے — کرغیز دارالحکومت جو اب بشکیک کہلاتا ہے — میں پیدا ہوئیں؛ ان کے والد اسحاق اوتونبایوف 1967ء سے 1992ء تک کرغیز سوویت جمہوریہ کی سپریم کورٹ کے رکن رہے اور والدہ سلیکا دانیاروفا (1925ء–2020ء) استاد تھیں۔ 1 2
بریٹانیکا ان کی جائے پیدائش اوش بتاتی ہے؛ تینوں ویکیپیڈیا مضامین اور ویکی ڈیٹا فرونزے بتاتے ہیں، جسے یہ ریکارڈ اپناتا ہے اور اختلاف درج کرتا ہے۔ 3 4
انھوں نے 1972ء میں ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کے شعبۂ فلسفہ سے گریجویشن کیا اور 1975ء میں اپنے مقالے کا دفاع کر کے سائنسز کی امیدوار بنیں؛ مقالہ فرینکفرٹ اسکول کی طرف سے مارکسی-لیننی جدلیات پر تنقید پر تھا۔ 1 2
انھوں نے 1975ء سے 1981ء تک کرغیز اسٹیٹ نیشنل یونیورسٹی میں فلسفہ پڑھایا، پھر 1981ء میں کمیونسٹ پارٹی کے کام کا آغاز کیا۔ 1
سفارتی زندگی
1986ء میں وہ کرغیز سوویت جمہوریہ کی وزرا کونسل کی نائب صدر اور وزیرِ خارجہ مقرر ہوئیں، اور 1989ء سے 1992ء تک سوویت یونیسکو کمیٹی کی سربراہ اور یونیسکو کے ایگزیکٹو بورڈ کی نائب صدر رہیں۔ 1
آزادی کے بعد وہ 1992ء میں کرغیزستان کی وزیرِ خارجہ و نائب وزیرِ اعظم رہیں، پھر 1992ء سے 1994ء تک امریکہ و کینیڈا میں اس کی پہلی سفیر، 1994ء سے 1997ء تک دوبارہ وزیرِ خارجہ اور 1997ء سے 2002ء تک برطانیہ میں سفیر رہیں؛ 2002ء سے 2004ء تک وہ جارجیا کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی نائب خصوصی نمائندہ رہیں۔ 1
اپوزیشن اور اپریل انقلاب
دسمبر 2004ء میں انھوں نے آتا جورت تحریک کی مشترکہ بنیاد رکھی اور صدر عسکر اکایوف سے اختلاف کرتے ہوئے ان پر بدعنوانی و اقربا پروری کا الزام لگایا؛ ان کی تحریک کو 2005ء کے انتخابات سے روک دیا گیا۔ 1 3
مارچ 2005ء کے ٹیولپ انقلاب کے بعد وہ قائم مقام وزیرِ خارجہ رہیں مگر پارلیمنٹ نے ان کی تقرری کی منظوری سے انکار کر دیا؛ دسمبر 2007ء میں وہ سوشل ڈیموکریٹک بلاک کی سربراہ کے طور پر پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہوئیں اور 2008ء سے 2010ء تک اپوزیشن کی قیادت کی۔ 1 3
7 اپریل 2010ء کو خونی بے امنی — عربی مضمون ساٹھ سے زائد ہلاکتیں گنتا ہے — کے بعد اپوزیشن نے انھیں عبوری حکومت کی سربراہ چنا؛ صدر قربان بیک باکییف فرار ہو کر مستعفی ہوئے اور قازقستان کے راستے منسک چلے گئے۔ 1 5
انھوں نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت پارلیمنٹ تحلیل کرے گی، نیا آئین تیار کرے گی اور جمہوری انتخابات کرائے گی۔ 5
آئینی ریفرنڈم کے بعد کرغیزستان پارلیمانی جمہوریہ بن گیا اور 3 جولائی 2010ء کو انھوں نے صدر کا حلف اٹھایا؛ ان کی مدت یکم دسمبر 2011ء کو ختم ہوئی — انگریزی مضمون کے متن کی ایک سطر 31 دسمبر کہتی ہے، مگر اس کا سرنامہ، اردو مضمون اور بریٹانیکا سب یکم دسمبر کی تائید کرتے ہیں — اور بریٹانیکا کے الفاظ میں ان کا رخصت ہونا کرغیزستان میں اقتدار کی پہلی پرامن منتقلی تھی۔ 1 2 3
جون 2010ء کا تشدد اور تحقیقات
حلف برداری سے چند ہفتے قبل جنوب میں کرغیز و ازبک نسلی تشدد میں 400 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں گھر تباہ ہوئے۔ 1
کیمو کیلجونن کی سربراہی میں بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے ان کی عارضی حکومت کو عدم کارروائی اور آبادی کی حفاظت میں ناکامی پر مذمت کی، اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکام کے ردِ عمل پر تنقید کی؛ مئی 2011ء میں ان کی حکومت نے کمیشن کے اس نتیجے کو مسترد کر دیا کہ انسانیت کے خلاف جرائم ہوئے تھے۔ 1
ناشط عظیم جون عسکروف کے مقدمے نے مستقل تنقید کھینچی: عسکروف نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ انھیں اوتونبایوا کے براہِ راست حکم پر سزا دی گئی، سابق پراسیکیوٹر جنرل نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ مقدمہ سیاسی تھا اور ان کی ہدایت پر چلا، اور 31 مارچ 2016ء کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے ان کے مقدمے میں تشدد اور منصفانہ سماعت کی خلاف ورزیوں سمیت بین الاقوامی عہد کی خلاف ورزیاں پائیں — یہ سب یہاں ایسے ہی درج ہے جیسا مضمون منسوب کرتا ہے۔ 1
اس کے مقابل بریٹانیکا انھیں اس کا کریڈٹ دیتا ہے کہ انھوں نے بدامنی کو بڑی حد تک قابو کیا اور ملک میں استحکام لائیں۔ 3
صدارت کے بعد
جنوری 2012ء میں انھوں نے روزا اوتونبایوا اقدام کی بنیاد رکھی؛ 2022ء میں وہ افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ اور یوناما کی سربراہ بنیں — انگریزی مضمون یہ خدمت 2025ء تک بتاتا ہے، جبکہ اردو مضمون اب بھی اسے زمانۂ حال میں بیان کرتا ہے۔ 1 2
ان کے اعزازات میں 2011ء کا امریکی انٹرنیشنل ویمن آف کریج ایوارڈ، فرانس کے لیجیون دِ اونور کی کمانڈری اور منگولیا کا پولر اسٹار شامل ہیں۔ 1
ایمان اور تعلق
جائزہ لیے گئے کسی مضمون نے روزا اوتونبایوا کا کوئی مذہب نہیں بتایا، اور ویکی ڈیٹا کا ان کے بارے میں مذہب کا واحد دعویٰ لادریت کا ایک واحد ساختی دعویٰ ہے۔ 1 4
ایک واحد ساختی دعویٰ اس لین کے قواعد کے تحت ایمان کا خانہ نہیں بنا سکتا، اور سوویت مارکسی فلسفے میں ان کی تربیت کسی بھی سمت میں شہادت نہیں بلکہ سیرت ہے؛ اس لیے ان کا ایمان اعداد میں «نامعلوم» درج ہے۔ 4
ذاتی زندگی
ماخذ
اس ریکارڈ کے ماخذ یہ ہیں: انگریزی ویکیپیڈیا کا مضمون "Roza Otunbayeva" (نظرِ ثانی 1378243999)، عربی ویکیپیڈیا کا مضمون «روزا أوتونباييفا» (نظرِ ثانی 76473823)، اردو ویکیپیڈیا کا مضمون «روزا اوتونبایوا» (نظرِ ثانی 10977772)، انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کا مدخل "Roza Otunbayeva" (پہلی اشاعت 24 جون 2010ء) اور ویکی ڈیٹا آئٹم Q485136 — سبھی عجائب گھر کے ڈیٹا میں ماخذ اکائیوں کے طور پر درج ہیں اور 25 اکتوبر 2026ء کو جانچے گئے۔
ماخذ
- Roza Otunbayeva — English Wikipedia
- Roza Otunbayeva — Urdu Wikipedia
- Roza Otunbayeva — Encyclopaedia Britannica
- Roza Otunbayeva — Wikidata Q485136
- Roza Otunbayeva — Arabic Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “روزا اوتونبایوا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/roza-otunbayeva/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.